حضورﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کی نماز جنازہ میں…

حضورﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کی نماز جنازہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شرکت

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 3

در جنازۂ آن مخدرۂ محترم حضرت امام حسن و امام حسین علیہما حضور داشتند وجماعتی از مشائخ بزرگ وعیان آن زمان چون ابن عباس وعبداللہ بن عمر و ابوہریرہ حاضر شدند و بفرمان امام حسن علیہ السلام۔ عبداللہ بن عمرؓ در نماز تقدم گرفت۔ 

اس محترم بی بی (اُمِ کلثومؓ) کے جنازہ میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ موجود تھے۔اور اس وقت کے مشائخ اور بزرگوں کی کافی جماعت مثلاً ابنِ عباسؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور ابو ہریرہؓ موجود تھے۔

 سیدنا حسنؓ کے حکم سے عبداللہ بن عمرؓ ( سیدنا عمرؓ کے بیٹے) نماز کے لئے آگے بڑھے۔

(طراز المذہب مظفری صفحہ 52 مطبوعہ بمبئی انڈیا دیکھیں عکس صفحہ 285)

سیّدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کی نمازِ جنازہ سیدنا ابان بن عثمان بن عفانؓ نے پڑھائی

مات عبداللہ بالمدینۃ سنۃ ثمانین وصلی علیہ ابان بن عثمان بن عفان و دفن بالبقیع

 سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ نے 80ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ سیدنا ابان بن عثمان بن عفانؓ نے پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

¹-عمدۃ الطالب صفحہ 38 عقب جعفر طیارؓ ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ 329

²-منتہی الآمال جلد1صفحہ 205 ذکر عبداللہ بن جعفر طیارؓ عکس صفحہ 357

 توجہ طلب باتیں!

اس باب سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:

¹-حضورﷺکی نمازِ جنازہ میں جملہ مہاجرین و انصار بشمول سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ وغیرہ شریک تھے۔

²-سیدنا حسنؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا سعید بن العاصؓ نے پڑھائی۔ سیدنا حسینؓ نے ان کو جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا اور اس طریقہ کو سنت قرار دیا۔

³-سیدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا علیؓ المرتضیٰ کے کہنے پر پڑھائی۔

⁴-سیدہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے پڑھائی۔سیدنا حسنؓ نے ان کو جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا۔ اور سیدنا حسینؓ نے ان کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔

⁵-سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کی نماز جنازہ سیدنا ابان بن عثمانؓ نے پڑھائی۔

قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ صحابہ کرامؓ اور خاندانِ رسول اللہﷺ کے درمیان کیسا نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہے، جو محبت، اخوّت، ایثار و ہمدردی سے مربوط ہے۔ وہ ایک دوسرے کے دکھ و درد میں ہر وقت شریک ہیں اور کبھی علیحدہ نہیں ہوئے، بلکہ اس طرح ہیں جیسے ایک ہی لڑی میں موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دشمانانِ صحابہؓ ان حضرات کی شان میں گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہیں اور بکواس کرتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ یہ دشمنی انہوں نے کہاں سے مول لی ہے۔ جس سے اپنی دنیا و آخرت برباد کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ کی جو عزت و احترام سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ نے کی ہے، اس کا اندازہ ان کے عمل سے ہوتا ہے کہ اپنے عزیزو اقارب کی نمازِ جنازہ میں صحابہ کرامؓ کو ہی امامت کا شرف و اعزاز بخشتے رہے ہیں اور خود ان کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے ہیں۔

دشمنانِ صحابہؓ سے میرا یہ سوال ہے:

اگر بقول شیعہ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظامؓ کے درمیان برادرانہ تعلقات نہیں تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے تو پھر ان کو اپنے عزیزو اقارب کی نماز جنازہ میں امام کیوں کرتے؟ ان صحابہ کرامؓ کو امام بنانا کس بنیاد پر تھا؟ آیا ایمان و اسلام کی بنیاد پر تھا یا کفر و نفاق کی بنیاد پر؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کو امام بناتے ہیں اور خود مقتدی بنتے ہیں؟

لہٰذا یہ بات تسلیم کرنی ہی پڑے گی کہ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کے درمیان کوئی بھی کشیدگی اور بغض نہ تھا۔ بلکہ وہ آپس میں رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ کی بہترین مثال تھے۔


صفحہ 3 از 3