بارہ خلفاء حدیث(حدیث اثنا عشر خلیفۃ) روافض کے ایک شبہ کا…

بارہ خلفاء حدیث(حدیث اثنا عشر خلیفۃ) روافض کے ایک شبہ کا ازالہ

  حافظ عبیداللہ

صفحہ 2 از 2

ان بارہ خلفاء کے دورِ حکومت میں اللہ کا دین غالب اور طاقتور ہو گا، جبکہ شیعہ کے بقول حضورﷺ کی وفات کے دن سے ہی سقیفہ بنی ساعدہ کے اجتماع کے بعد نفاق اور کفر غالب آ گیا، دینِ اسلام بیچارا تو چار پانچ آدمیوں میں سمٹ کر رہ گیا (معاذاللہ)، اِن گنتی کے چند مسلمانوں کے لیڈر اور پہلے امام کو گلے میں رسی ڈال کر مدینہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، اس کے گھر کو آگ لگائی گئی، ان کی زوجہ محترمہ کی وراثت غصب کر لی گئی  الغرض ہر لحاظ سے منافقین اور مرتدوں کا غلبہ تھا، دوسرے امام کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا اور تیسرے امام کو بچے کھچے اسلام کے ساتھ کربلا میں ختم کر دیا گیا، اسکے بعد باقی نو امام تقیہ کی زندگی بسر کرتے رہے، حتیٰ کہ بارہویں امام قتل کے خوف کی وجہ سے ایسے غائب ہوئے کہ آج تک شیعہ ان کے ظہور کی دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب انہیں کوئی خوف نہیں باہر آنے پر راضی نہیں، الغرض شیعہ کے اماموں میں سے کسی ایک کے دور میں بھی (اصلی) اسلام غالب اور طاقتور بن کر نہ ابھر سکا، بلکہ خود شیعہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جب امام غائب کا ظہور ہو گا تب دینِ اسلام غالب ہو گا۔

4: حضور ﷺ نے ایک روایت میں فرمایا:

کلہم تجتمع علیہ الأمۃ

یعنی ان بارہ خلفاء پر ساری امتِ اسلامیہ متفق ہو گی، شیعہ کے پہلے امام پر بقول ان کے چار یا پانچ آدمی متفق تھے، باقی ساری امت دوسری طرف تھی، تیسرے امام کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ حتیٰ کہ بارہویں امام کا یہ حال ہے کہ ان کی امامت پر اتفاق تو دور کی بات، امت مسلمہ کی(اگر شیعہ کے نزدیک اہلِ سنت مسلمان ہیں تو) اکثریت بارہویں امام کے وجود کی ہی سرے سے منکر ہے۔ لہٰذا یہ شرط بھی پوری نہیں ہوتی۔

5: حضورﷺ نے فرمایا: 

کلہم من قریش

یعنی وہ بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے، ( اور اوپر  بیان ہوا کہ قریش کون ہیں) یہ سب سے بڑی دلیل ہے اس بات کی کہ حضورﷺ کی مراد قطعاً شیعہ کے بارہ امام نہ تھے ورنہ آپﷺ بنی فاطمہؓ نہ سہی یہی فرما دیتے کہ وہ سب بنو ہاشم سے ہوں گے۔ جیسے مہدی کے بارے میں حضورﷺ نے صاف فرمایا 

رجل من أہل بیتي

کہ وہ میرے اہل بیت میں سے ہو گا، واضح رہے کہ خلفاء راشدینؓ بنوامیہ اور بنوعباس سب قریشی ہیں۔

6: حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ حضورﷺ کے بعد قیامت تک صرف بارہ خلیفہ ہوں گے اور اس کے بعد قیامت آجائیگی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ قیامت سے قبل مسلمانوں کے ایسے بارہ حاکم، امیر یا خلیفہ ہوں گے جن کے دور میں دینِ اسلام قوی، مضبوط اور غالب رہے گا۔

7: اگر ایک منٹ کیلئے فرض بھی کر لیا جائے کہ مراد یہی ہے کہ اس امت میں قیامت تک صرف بارہ خلیفہ ہوں گے، اور خلیفہ کا معنیٰ بھی امام تسلیم کر لیا جائے، تو پھر بھی شیعہ کا مدّعا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ گیارہ اماموں تک تو یہ سلسلہ چلا، پہلے امام سے لے کر گیارہویں امام تک ہر ایک امام نے لوگوں کے درمیان زندگی بسر کی، ہزاروں، لاکھوں لوگوں نے ان کو دیکھا، لیکن بارہویں امام کا وجود ثابت کرنا جوئےِ شیر لانے سے بھی زیادہ ناممکن ہے، پہلے بارہویں امام کا وجود ثابت کریں پھر جب بارہ کا عدد پورا ہو جائے تو دعویٰ کریں کہ اس حدیث سے ہمارے بارہ امام مراد ہیں۔

اہلِ سنت کی معتبر کتب میں  (میں بار بار معتبر کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ شیعہ حضرات بعض غیر معتبر اور مجہول النسبت کتب کے حوالے بھی دیتے ہیں: مثلاً

[ ینابیع المودۃ ]

اس کتاب کی تفصیل پڑھیں۔

یا ابن قتیبہ کی طرف منسوب کتاب

[الامامۃ والسیاسۃ]

اس کتاب کی تفصیل پڑھیں۔

کوئی اور ایسی ضعیف روایت بھی نہیں جس سے شیعہ کی مزعومہ امامت یا بارہ اماموں کا ثبوت مل سکے۔


صفحہ 2 از 2