خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،…

خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یارِ غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

اسم مبارک:  
آپ کا اسم: مبارک عبداللہ ہے۔
نسب نامہ: عبدالله بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة بن كعب بن لؤی بن غالب بن فہر ـ
(المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ: حدیث: 4403)
سیدنا ابوبکرؓ کے والد سیدنا عثمانؓ کا لقب ابو قحافہ ہے۔
آپ کی والدہ کانام امُ الخیر سلمٰی بنتِ صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔
تاریخِ پیدائش: سیدنا ابوبکرؓ کی پیدا ئش واقعہ فیل کے دوسال چھ مہینے بعد ہوئی۔
(الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 101)
القاب و خطابات:  آپؓ کا لقب عتیق ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ: ایک دن سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضور اکرمﷺ کی بارگاہ میں تشریف لائے تو آپﷺ نے فر مایا: اے ابوبکرؓ! انت عتیق من النار تو جہنم سے آزاد ہے۔ اسی دن سے آپ کا نام عتیق پڑ گیا۔
(جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ و عمرؓ کلیھما، حدیث، 3679)
آپؓ کا لقب صدیق بھی ہے چنانچہ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ: جب نبی اکرمﷺ کو رات میں مسجد اقصی کی سیر کرائی گئی تو آپﷺ نے صبح کے وقت اس واقعہ کو بیان فرمایا: جس کی وجہ سے کئی مسلمان مرتد ہو گئے اور ماننے سے انکار کردیا کیونکہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی دوری اس وقت کے اعتبار سے ایک مہینے کا راستہ تھا جسے رات کے تھوڑے سے حصے میں طے کرنا بظاہر نا ممکن تھا مگر جب سیدنا ابوبکرؓ کو کافروں نے یہ خبر سنائی تو آپؓ نے بلا توقف اس کی تصدیق کی اور فرمایا کہ: میں صبح وشام رسول اللہﷺ کی خبر کی بنیاد پر اس سے بھی زیادہ بظاہر ناممکن چیزوں کی تصدیق کرتا ہوں تو یہ کیا ہے؟ اسی وجہ سے آپؓ کا لقب صدیق یعنی تصدیق کرنے والا، سچ ماننے والا پڑ گیا۔
(المستدرک للحاکم: کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث، 4407)
اولاد و ازواج:
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی پہلی بیوی قنیلہ بنتِ عبدالعزیٰ تھی جس سے عبداللہ بن ابی بکرؓ اور ان کے بعد سیدہ اسماء بنتؓ ابی بکرؓ جو سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ تھیں پیدا ہوئے دوسری بیوی آپ کی امِ رومانؓ تھیں ان کے بطن سے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ زوجہ رسولﷺ پیدا ہوئے جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے آغوشِ اسلام میں پناہ لی اور اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوئے تو پہلی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا لہٰذا آپؓ نے اسے طلاق دیدی، دوسری بیوی امِ رومانؓ مسلمان ہوگئیں، مسلمان ہو جانے کے بعد آپؓ نے دو اور شادی کیں ایک سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے ساتھ جو سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کی بیوہ تھیں ان سے سیدنا محمد بن ابی بکرؓ پیدا ہوئے دوسری شادی سیدہ حبیبہؓ بنتِ خارجہ انصاریہ سے جو قبیلہ خزرج سے تھیں ان سے کی ان کے بطن سے ایک لڑکی امِ کلثوم آپؓ کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں۔
فضائل و مناقب: 
1: سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے۔ تو میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔
(جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ و عمرؓ کلیھما، حدیث، 3680)
2: سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ دِکھائی پڑے تو آپﷺ نے فر مایا کہ: ابوبکرؓ اور عمرؓ اگلے اور پچھلے تمام جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں ،سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ: اے علیؓ جب تک یہ دونوں زندہ رہیں ان کو اس بات کی خبر نہ دینا۔
(ابنِ ماجہ: فضائل ابوبکر الصدیقؓ، حدیث، 95 جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ وعمرؓ کلیھما، حدیث، 3665)
3: سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جنت میں اونچے درجے والے کو ان سے نیچے درجہ والے اسی طر ح دیکھیں گے جس طرح آسمان کے کنارے پر طلوع ہونے والا ستارہ زمین سے دِکھائی پڑتا ہے۔ اور بے شک سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ انہیں اونچے درجے والوں میں سے ہوں گے۔
(ترمذی: کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیقؓ، حدیث، 3658)
4: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آپﷺ نے فرمایا کہ: جس نےاللہ کے راستے میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا مثلاً دو کپڑے، دو گھوڑے وغیرہ تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ: اے بندے، اِدھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے۔ پس جو شخص نمازی ہوگا اس کو نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا ،جو مجاہد ہوگا اس کو جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہلِ صدقہ میں سے ہوگا اس کو صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو روزہ دار ہوگا اسے باب الریان یعنی روزے کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ: جسے سب دروازے سے بلایا جائے گا اسے تو کوئی خوف ہی نہ ہوگا۔یا رسول اللہﷺ کیا کوئی ایسا بھی شخص ہوگا جسے سب دروازوں سے جنت میں بلایا جائے گا؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہوگے اے ابو بکرؓ۔
(صحیح بخاری: کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ، حدیث، 3666)
5: سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ: یا رسول اللہﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ آپﷺ کے نزدیک پسندیدہ کون ہے؟آپﷺ نے فرمایا کہ: عائشہؓ پھر آپﷺ سے پوچھا گیا کہ: یا رسول اللہﷺ مردوں میں سب سے زیادہ آپﷺ کے نزدیک پسندیدہ کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ان کے والد یعنی ابوبکر صدیقؓ۔
(ابنِ ماجہ: باب فضل ابی بکر الصدیقؓ، حدیث، 101 صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل ابی بکر الصدیقؓ، حدیث، 2384)
صفحہ 1 از 3