خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،…

خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
6: سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے۔ ان دونوں کے درمیان اختیار دیا تو اس بندے نے اس کو اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس ہے۔ اس بات پر سیدنا ابوبکرؓ رونے لگے سیدنا ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ رسول اللہﷺ تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا۔ لیکن بات یہ تھی کہ خود آپﷺ ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا۔ اور واقعتاََ سیدنا ابوبکرؓ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپﷺ نے بیان فرمایا کہ: اپنی صحبت اور مال کے ذریعے مجھ پر سب سے زیادہ احسان سیدنا ابوبکرؓ کا ہے۔اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو اپنا خلیل یعنی گہرا دوست بناتا تو سیدنا ابوبکرؓ کو بناتا۔ لیکن ان سے اسلام کی بھائی چارگی اور محبت کافی ہے۔ دیکھو ،مسجد کی طرف کے تمام دروازے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گھروں کی طرف کھلتے تھے سب بند کر دو سوائے سیدنا ابوبکرؓ کے دروازے کے۔ 
(صحیح بخاری: کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ، حدیث، 3654)
7: سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ کے زمانے ہی میں جب ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان انتخاب کے لئے کہا جاتا تو ہم لوگ سب سے افضل اور بہتر سیدنا ابوبکرؓ کو قرار دیتے پھر سیدنا عمرؓ کو پھر سیدنا عثمانِ غنیؓ کو۔
(صحیح بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث: 3655 )
8: سیدنا عبداللہ بن سلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے سیدنا علیؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: رسول اللہﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر سیدنا ابوبکرؓ ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ ہیں۔
(صحیح بخاری: کتاب فضائل، اصحاب النبیﷺ، حدیث: 3671)
9: سیدنا حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: تم لوگ میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنا
(جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ و عمرؓ کلیھما، حدیث: 3665) 
10: سیدنا ابنِ عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دن آپﷺ گھر سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے اس وقت سیدنا ابو بکرؓ آپﷺ کے داہنی طرف اور سیدنا عمرؓ آپﷺ کے بائیں طرف تھے اور آپﷺ دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہم لوگ قیامت کے دن اسی طرح اٹھیں گے۔
(جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ و عمرؓ کلیھما، حدیث: 3669)
اس کے علاوہ بہت ساری روایتیں موجود ہیں جس سے آپؓ کی عظمت شان واضح ہوتی ہے تفصیل کے لئے کتبِ احادیث کا مطالعہ کریں۔
 قبلِ اسلام:
زمانہ جاہلیت میں آپؓ کا شمار قریش کے بڑے سرداروں میں ہوتا تھا۔ اور لوگ اپنے با ہمی اختلافات کا فیصلہ آپؓ سے کراتے تھے۔ آپؓ فطری طور پرشریف باوقار طبیعت اور پاکیزہ خیالات کے حامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ایسے معاشرہ میں جنم لینے کے باوجود جہاں کے لوگ بے جان بتوں کی پرستش کے ساتھ، جھوٹ، فریب، مکاری، عیاری ،ظلم ،جبر اس کے علاوہ اَن گنت اخلاقی برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ،شراب کو پانی کی طر ح پینا اور پلانا گھر گھر کا معمول تھا۔ مگر آپؓ نے کبھی بتوں کی پوجا کی اور نہ ہی کبھی شراب نوش کیا۔ اور نہ ہی کوئی اور برائی آپؓ کے دامنِ تطہیر کو داغدار کر سکی۔
قبولِ اسلام:
جب رسول اکرمﷺ نے آپؓ کو اسلام کی دعوت دی تو آپؓ نے بلا تردد اسلام قبول کر لیا۔ جیسا کہ آپﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ: میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی وہ تردد میں پڑ گیا سوائے سیدنا ابوبکرؓ کے۔ انہوں نے بغیر کسی تردد کے فوراََ میری دعوت کو قبول کی۔ سیدنا ابنِ عباسؓ، سیدنا حسان بن ثابتؓ، سیدنا عمرو بن عنبسہؓ اور علماء کی ایک کثیر جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ سب سے پہلے آپؓ نے اسلام قبول کیا۔ مگر اس سلسلے میں دوسرے کچھ اکابرین سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کے قائل ہیں اور کچھ سیدنا علیؓ کے ان تمام اقوال میں تطبیق اس طر ح سے دی گئی ہے کہ: مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکرؓ نے اسلام قبول کیا۔ اور عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ نے اور بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علیؓ نے۔
جانثاری و فدا کاری
آپؓ پوری زندگی رسول اکرمﷺ کے ساتھ رہے۔ مشکل سے مشکل لمحات میں بھی آپؓ نے کنارہ کشی اختیار نہ کی۔ بلکہ اپنی جان پر کھیل کر حضور اکرمﷺ کا دفاع کیا۔ اور آپﷺ کے معاون و مددگار بنے رہے۔ یہاں تک کے آپؓ نے ہجرت کے مصائب و آلام سے بھرے سخت سفر میں بھی اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر حضورﷺ کی معیت کا شرف حاصل کیا۔ اور آپؓ نے اس سفر میں ایسی جانثاری اور وفاداری کا حق ادا کیا کہ اس کی مثال ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ آپؓ نے ہر موقع پر سب سے آگے بڑھ کر اسلام کی خدمت سر انجام دی۔
سیدنا عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ: ایک مشکل ترین لمحے میں جبکہ اسلام کےتحفظ کے لئے مال و دولت کی سخت ضرورت تھی ہمیں رسول اللہﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اُن دنوں میرے پاس کافی مال تھا ،میں نے سوچا کہ اگر میں کبھی سیدنا ابوبکرؓ سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج ہی ان سے زیادہ اللہ کی راہ میں اپنا مال لٹا کر بڑھ سکتا ہوں۔ میں اپنے گھر گیا اور اپنے پورے مال کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصہ حضور اکرمﷺ کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوا آپﷺ نے مجھ سے پو چھا کہ تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے کہا: اتنا ہی جتنا یہاں لایا ہوں۔پھر سیدنا ابوبکرؓ اپنے پورے مال و دولت اور جو کچھ بھی ان کے پاس تھا سب لے کر حاضر ہوئے حضورﷺ نے ان سے پوچھا: اے ابوبکرؓ تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کے لئے صرف اللہ و رسول کو چھوڑا ہے۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں میں نے اس دن کہا قسم بخدا میں کبھی کسی بھی چیز میں ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہوں۔
(جامع ترمذی: کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی بکرؓ وعمرؓ کلیھما، حدیث: 3675)
بیعت و خلافت:
صفحہ 2 از 3