خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،…

خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3
جس دن نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا اسی دن سقیفہ بنو ساعدہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر تبادلہ خیال ہوا ۔کئی امور زیرِ تجویز آئے لیکن آخر میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر اتفاق ہوگیا۔ سب سے پہلے سیدنا عمرؓ نے بیعت کیا پھر دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور اگلے دن مسجدِ نبوی میں بیعتِ عام ہوئی جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ: جب نبی کریمﷺ کا وصال ہوا ۔تو مہاجرین و انصار سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہوئے اور آخر کار سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر سب متفق ہو گئے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ: نبی کریمﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نےمتفق ہو کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنایا۔
(المستدرک للحاکم: کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث: 4466، 4476)
ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ آپﷺ نے گو کہ کسی کو خلیفہ نامزد نہ کیا مگر آپﷺ نے واضح اشارات و ہدایات سیدنا ابوبکرؓ کے لئے فرما دیا تھا۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ: مجھ سے رسول اللہﷺ نے مر ض وصال میں فر مایا: اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلا لاؤ تاکہ میں ان کے متعلق ایک مکتوب لکھ دوں۔ کیونکہ مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا کہ میں زیادہ خلافت کا حقدار ہوں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان سیدنا ابوبکرؓ کے سوا ہر ایک کی خلافت کا انکار کر دیں گے۔
(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل ابی بکر الصدیقؓ، حدیث: 3387)
اور یہی وجہ تھی کہ حضورﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب مسجد نہ جا سکے تو آپﷺ نے سیدنا عمرؓ کے لئے سیدہ عائشہؓ کے اصرار کے باوجود بھی اپنی جگہ پر امامت کے لئے سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی کو مقرر کیا۔
(صحیح بخاری)
نیز آپﷺ نے صاف صاف ارشاد فرمایا تھا کہ: تم لوگ میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنا
(جامع ترمذی: باب فی مناقب ابی بکرؓ و عمرؓ کلیھما، حدیث: 3665)
اس کے علاوہ آپﷺ نے واضح انداز میں مختلف مواقع سے سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ وہ روایتیں آج بھی کتب احادیث میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔
اس لئے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؓ کی ذات پر اتفاق کیا اور زندگی بھر دل و جان سے آپؓ کے احکام سنتے اور مانتے رہے۔ مگر کچھ نا عاقبت اندیش لوگ سیدنا علیؓ کے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں گڑھ کے آپؓ کی ذاتِ اقدس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ کہ خلافت سیدنا علیؓ کا حق تھا آپؓ نے جب دیکھا کہ میرے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ میں تلوار کے زور سے اپنا حق حاصل کروں اور مسلمانوں کے اتنے بڑے گروہ سے لڑوں تو آپؓ نے مجبوراً نہ چا ہتے ہوئے بھی بیعت کر لیا۔ نعوذ با للہ من ذالک
کیا کوئی مسلمان جو سیدنا علیؓ کی شان و عظمت سے واقف ہے آپؓ کے بارے میں ایسی لا یعنی باتیں مان سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ وہی مان سکتا ہے جو سیدنا علیؓ کو بزدل اور لوگوں کے درمیان بے وقار مانتا ہو۔ جبکہ اہلِ سنت انہیں شیرِ خدا، مانتے ہیں۔ جو اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر کسی باطل کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے گندے خیالات سے بچائے۔
مدت خلافت:
اسلام دشمن عناصر جو حضور اکرمﷺ کے وصال کے انتظار میں تھے کہ جیسے آپﷺ کا وصال ہو، ہم اپنی طاقت و قوت لے کر اٹھیں اور اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیں چنانچہ آپﷺ کے وصال کے بعد ان لوگوں نے طرح طرح کے عجیب و غریب فتنے کھڑے کر دئیے کچھ مکار صفت لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور مسلمانوں سے ٹکڑانے کے لئے فوجی طاقتیں جمع کر لی تو کچھ لوگو ں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ کو مرکز ماننے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے پورے عرب میں ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی اس کے ساتھ کفار و مشرکین کی بیرونی طاقتوں نے اسلامی حکومت کے سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اندرونی اور بیرونی دونوں اعتبار سے شدید مشکلات در آئیں۔ مگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی خداداد فہم و بصیرت اور شجاعت و بہادری سے سارے فتنوں کو سر کیا اور تمام فتنوں کو جڑ سے اکھاڑ کر اسلام اور اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط سے مضبوط تر کیا اوراسلامی حکومت کے دائر ے میں تو سیع کے ساتھ بہت سارے کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔ خاص طور سے آپؓ نے قرآن مجید ،جو اب تک اکٹھا ایک جگہ جمع نہ ہو سکا تھا جمع کر وایا۔
آپؓ نے کل دو سال سات مہینے کار خلافت انجام دیا۔(المستدرک للحاکم: کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث: 4417)
وصال پُر ملال:
آپؓ کا وصال 22 جمادی الآخرہ سن 13 ہجری میں ہوا۔ آپؓ کی وصیت تھی کہ غسل ان کی زوجہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ دے۔ سو انہوں نے غسل دیا۔ سیدنا عمر ابن الخطابؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور رات کے وقت حضورﷺ کے پہلو اقدس میں آپؓ کو دفن کیا گیا۔ آپؓ کی کل عمر شریف 63 سال کی ہوئی۔
(المستدرک للحاکم: کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث: 4409)

صفحہ 3 از 3