سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ (پارٹ2)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 3

جناب خالد بن معدان سے روایت ہے کہ حضرت مقدام بن معدیکرب، عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہل قنسرین میں سے تھا، حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ہاں آئے۔ معاویہ نے مقدام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما وفات پا گئے ہیں؟ تو مقدام نے (انا لله وانا اليه راجعون) پڑھا۔ تو ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ رسول اللہﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا:’’ یہ (حسن) مجھ سے ہے اور حسین علی سے

‘‘اسدی آدمی نے کہا: دہکتا کوئلہ تھا جسے اللہ عزوجل نے بجھا دیا ۔ مقدام نے کہا: مگر (میں تو ایسی بات نہیں کہتا جو اس اسدی نے کہی ہے) میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا اور وہ کچھ سناؤں گا جو تمہیں برا لگے۔ پھر کہا: اے معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو تردید کر دینا۔

معاویہ نے کہا: ایسے ہی کروں گا۔

مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا ہاں۔

مقدام نے پھر کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تمہیں خبر ہے کہ "رسول اللہﷺ نے ریشم پہننے سے روکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے روکا ہے؟ کہا: ہاں۔

مقدام نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھا ہے اے معاویہ! اس پر معاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تجھ سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا۔ خالد بن معدان نے بیان کیا کہ پھر حضرت معاویہؓ نے مقدام کے لیے اس قدر انعام کا حکم دیا جو اس کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہیں تھا اور ان کے بیٹے کے لیے دو سو والوں میں حصہ مقرر کر دیا۔

چنانچہ حضرت مقدامؓ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ مگر اسدی نے جو وصول کیا اس میں سے کسی کو کچھ نہ دیا۔ معاویہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام کھلے ہاتھ کے سخی آدمی ہیں اور اسدی اپنے مال کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔

(سنن ابی داؤد: 4131)

اس حدیث کا جواب درکار ہے

جواب: سیدنا معاویہؓ کے خلاف مرزا جہلمی اور اس کے مقلدین سنن ابی داؤد کی ایک روایت 4131 پیش کرتے ہیں روایت اس طرح۔

Sunnan e Abu Dawood#4131

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ بَحِيرٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ خَالِدٍ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، ‌‌‌‌‌‏وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، ‌‌‌‌‌‏وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ  أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، ‌‌‌‌‌‏فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‌‌‌‏ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ:‌‌‌‏ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ هَذَا مِنِّي، ‌‌‌‌‌‏وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ الْأَسَدِيُّ:‌‌‌‏ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَقَالَ الْمِقْدَامُ:‌‌‌‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ:‌‌‌‏ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَكَذِّبْنِي، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ أَفْعَلُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‌‌‌‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ خَالِدٌ:‌‌‌‏ فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، ‌‌‌‌‌‏فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ:‌‌‌‏ وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ
صفحہ 1 از 3