سیدنا حسنؓ کی وفات ، حضرت امیر معاویہؓ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ (پارٹ2)
مولانا ابوالحسن ہزارویجناب خالد بن معدان سے روایت ہے کہ حضرت مقدام بن معدیکرب ، عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہل قنسرین میں سے تھا ، حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے ۔ معاویہ نے مقدام سے کہا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں ؟ تو مقدام نے ( انا لله وانا اليه راجعون ) پڑھا ۔ تو ایک آدمی نے ان سے کہا : کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا :’’ یہ ( حسن ) مجھ سے ہے اور حسین علی سے !‘‘ اسدی آدمی نے کہا : دہکتا کوئلہ تھا جسے اللہ عزوجل نے بجھا دیا ۔ مقدام نے کہا : مگر ( میں تو ایسی بات نہیں کہتا جو اس اسدی نے کہی ہے ) میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا اور وہ کچھ سناؤں گا جو تمہیں برا لگے ۔ پھر کہا : اے معاویہ ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو تردید کر دینا ۔ معاویہ نے کہا : ایسے ہی کروں گا ۔ مقدام نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا ہاں ۔ مقدام نے پھر کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تمہیں خبر ہے کہ ‘ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے روکا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ حضرت مقدام نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے روکا ہے ؟ کہا : ہاں ۔ مقدام نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھا ہے اے معاویہ ! اس پر معاویہ نے کہا : اے مقدام ! مجھے معلوم تھا کہ میں تجھ سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا ۔ خالد بن معدان نے بیان کیا کہ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام کے لیے اس قدر انعام کا حکم دیا جو اس کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہیں تھا اور ان کے بیٹے کے لیے دو سو والوں میں حصہ مقرر کر دیا ۔ چنانچہ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا ۔ مگر اسدی نے جو وصول کیا اس میں سے کسی کو کچھ نہ دیا ۔ معاویہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا : مقدام کھلے ہاتھ کے سخی آدمی ہیں اور اسدی اپنے مال کی خوب حفاظت کرنے والا ہے ۔
سنن ابی داؤد 4131
اس حدیث کا جواب درکار ہے۔۔۔
الجواب
سیدنا معاویہ کے خلاف مرزا جہلمی اور اس کے مقلدین سنن ابی داؤد کی ایک روایت(4131) پیش کرتے ہیں روایت اس طرح۔
Sunnan e Abu Dawood#4131
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي، وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ .
مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔
یہ روایت 3 علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے
پہلی علت
اس روایت میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں اور انہوں نے یہ روایت
عن (حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ،)
سے روایت کی اور مدلس جب عن سے روایت کرے تو قبول نہیں ہوتی
اور مرزا انجینئر بھی اس اصول کو بارہا اپنے کلپس میں بیان کر چکا ہے کہ
" یہ پیٹ رول ہے صحیح مسلم کے مقدمے میں اور محدثین کا اجماع ہے مدلس کی عن والی روایت سماع کی تصریح کے بغیر ضعیف تصور کی جاتی ہے "
دوسری علت
بقیہ بن ولید عام مدلس نہیں بلکہ وہ تدلیس تسویہ کرتا تھا
عام تدلیس :
مدلس ایسے راوی کو کہتے ہیں جو بسا اوقات اپنے استاد کو روایت کرنے میں گرا دے یعنی جس سے اس نے یہ حدیث سنی اس کا نام نا لے بلکہ اس سے اگلے بندے کا نام لے کر آگے سند بیان کر دے اور سند " عن " کے ساتھ بیان کرے کہ فلاں سے روایت ہے
تدلیس تسویہ:
تدلیس تسویہ (تسویہ سے مراد برابر کرنا) سے مراد کہ راوی صرف اپنے استاد کو روایت میں سے نا گرائے بلکہ وہ سند میں کسی بھی راوی کو کسی بھی موقع پر گرا دیتا ہے اور تدلیس تسویہ کرنے والا جب تک پوری سند میں سماع کی صراحت پیش نہ کرے تب تک روایت قابل قبول نہیں ہوتی
تیسری علت
جب عقبہ بن ولید سے کوئی حمصی راوی بیان کرے اور سماع کی تصریح بھی بیان کر دے تو بھی اس کی سماع کی صراحت قابل قبول نہیں
امام زرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب عقبہ بن ولید سے کوئی حمصی راوی بیان کرے اور سماع کی تصریح بھی کر دے تو اس کی سماع کی تصریح قابل قبول نہیں اگرچہ اس روایت میں حدثنا کا لفظ منقول ہے لیکن یہ حدیث بقیہ نے عبد العزيز سے نہیں سنی یہ راویت اہل حمص سے مروی ہے اور اہل حمص سماع کی تصریح کی تمیز نہیں کرتے تھے
(کتاب العلل مجلد السادس صفحہ: 281)
بعض مرزا کے مقلدین اس روایت کے جواب میں مسند احمد (حدیث نمبر: 17189) کی ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ اس میں بقیہ بن ولید نے سماع کی تصریح بیان کی ہے
گزارش یہ ہے کہ مسند احمد کی اس روایت میں بقیہ بن ولید نے اپنے استاد سے تو سماع کی تصریح بیان کر دی لیکن سند میں "عن خالد بن معدان" پھر بھی موجود ہے یعنی سند میں "عن" اب بھی موجود ہے لہٰذا بقیہ بن ولید کی تدلیس تسویہ کی وجہ سے پوری سند میں سماع کی صراحت ضروری ہے اس کے بغیر روایت قابل قبول نہیں
نوٹ: مسند احمد میں اسی حدیث کے تحت شیخ شعیب الارنووط نے اس کی سند کو ضعیف کہا۔
وجہ ضعف: بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
البانی یا زبیر علی زئی نے اگر اس روایت کو صحیح کہا ہے تو یہ ان کی علمی خطأ ہے کیونکہ بہت سے محدثین نے بقیہ بن ولید کو مدلس کہا اور کہا یہ تدلیس تسویہ کرتا ہے اس ضمن میں دلائل نیچے آرہے ہیں۔
بعض لوگوں کا اعتراض ہوتا ہے کہ یہ لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کا جھوٹا دفاع کرنے کے چکر میں اپنی طرف سے دلیلیں بناتے ہیں۔
اعتراض کے جواب:
ہم دس محدثین کے حوالے پیش کریں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا ہے اور تدلیس تسویہ کرنے والے کا پوری سند میں سماع کی صراحت کرنا ضروری ہوتی ہے
پہلا حوالہ
امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے بیٹے امام عبدالرحمن بن ابی حاتم ان کی کتاب " العلل " ہے اس میں انہوں نے اپنے والد کا قول نقل کیا ہے کہ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا ہے
(کتاب العلل المجلد الخامس صفحہ: 251)
دوسرا حوالہ
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الکفایہ فی علم الرویہ میں یہی بات لکھی ہے کہ بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہےتدلیس تسویہ کرنے والے کو پوری سند میں سماع کی صراحت ضروری ہوتی ہے
(کتاب الکفایہ فی علم الرویہ صفحہ: 365)
تیسرا حوالہ
امام ابن جوازی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب العلل المتناھیة میں لکھا بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(کتاب العلل المتناھیة جز الاول صفحہ: 162 ، 470 ، 469)
(کتاب العلل المتناھیة جز الثانی صفحہ: 731)
چوتھا حوالہ
امام ابن ملقن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب البدر المنیر میں لکھا بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(البدر المنیر المجلد الخامس صفحہ: 102)
پانچواں حوالہ
امام ابن قطان الفاصی رحمہ اللہ انہوں نے بھی کہا بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے یہ بات حافظ ابن حجر نے التلخیص الحبیر میں ذکر کی
(تلخیص الحبیر الجز الثالث صفحہ: 309)
چھٹا حوالہ
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اتحاف المھرة میں لکھا کہ بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(اتحاف المھرة جز الثالث عشر صفحہ: 234)
ساتواں حوالہ
حافظ علائی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب جامع التحصیل میں یہ بات لکھی بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(جامع التحصیل صفحہ: 105)
آٹھواں حوالہ
امام زرکشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب النکت علی المقدمة ابن صلاح میں لکھا بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(النکت علی المقدمة ابن صلاح الجز الثانی صفحہ: 106)
نواں حوالہ
حافظ ابن عراقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المدلسین میں لکھا بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(المدلسین صفحہ: 37)
دسواں حوالہ
علامہ السبط العجمی اپنی کتاب التبیین الاسماء المدلیسن یہ بات لکھی بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے
(التبیین الاسماء المدلیسن صفحہ: 16)
غور فرمائیں! کیا یہ سب محدثین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا جھوٹا دفاع کرتے رہے؟؟