سنی العقیدہ لڑکی کی شیعہ لڑکے کے ساتھ مناکحت ناجائز ہے
سنی العقیدہ لڑکی کی شیعہ لڑکے کے ساتھ مناکحت ناجائز ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ: علاقہ بھکر میں ایک واقعہ سنی شیعہ کا در پیش ہے حضرت مولانا سید مولوی محمد عبداللہ مدرسہ دار الہدیٰ بھکر کی خدمت میں یہ واقعہ پیش کیا تو انہوں نے زبانی یہ فرمایا کہ لڑکی جدی سنی کی ہو اور لڑکا شیعہ کا ہو تو یہ نکاح شرعاً جائز نہیں۔ اور آپ کی خدمت میں عرض کی جاتی ہے کہ شریعت اس میں نکاح کے متعلق کیا فرماتی ہیں؟ کیونکہ مسماۃ کرموں کا نکاح تقریبا 10 مہینے اہلِ شیعہ کے ساتھ غلطی سے کیا گیا ہے۔ نکاح پڑھانے والا مولوی بھی شیعہ ہے عرصہ آٹھ دس مہینے سے مسماۃ کرموں اپنے خاوند کے گھر میں نماز روزہ بہ طریقہ اہلِ سنت والجماعت ادا کرتی رہی، خاوند نے دیکھا تو اس نے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو تبرا بازی شروع کر دی مسماۃ کرموں اپنے خاوند کے گھر سے اپنے والد کے گھر آئی آپکے والد کی خدمت میں ماجرا پیش کیا تو والد نے اپنے داماد کو ہر طریقہ سے سمجھایا۔ مسماۃ کرموں کو کچھ دنوں کے بعد اپنے خاوند کے گھر بھیج دیا اس کے بعد یہی شیعہ سنی کی کشمکش چلتی رہی اب محرم کے دنوں میں مسماۃ کرموں کے خاوند نے ذاکر بلا کر تبرا بازی شروع کی اور مسماۃ کرموں سے بھی کہا کہ تو بھی تبرا کر۔ مسماۃ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کو تبرا اور شیعہ مذہب سے جواب دے کر اپنے والد کے گھر چلی آئی اب علماء کی رائے کیا ہیں کہ شیعہ اور سنی کے درمیان نکاح جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: مسماۃ کرموں کے شیعہ خاوند کے عقائد درجہ کفر تک اگر پہنچے ہوئے ہیں مثلاً: سیدنا علیؓ کی اُلوہیت کا قائل ہو یا حضرت جبرائیلؑ کو وہی پہنچانے میں غلطی کرنے کا قائل ہو وحی سیدنا علیؓ پر لانی تھی حضرت محمدﷺ پر لے آئے (معاذ اللّٰہ) یا تحریف قرآن کا قائل ہوں یا صحبتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا انکاری ہو یا سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہو یا اور اس قسم کے عقائد رکھتا ہو جو قرآن کے :صریح نصوص قطعی الثبوت والد لالۃ: کے مخاطب ہوں تو ایسے شخص کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں اور اگر پہلے یہ عقائد نہ رکھتا تھا بعد میں اس کے یہ عقائد بن گئے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمودؒ:جلد:4:صفحہ:595)