صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام - دفاعِ…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 4

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جس سے خدا راضی ہو جائے خدا کے بندوں کو بھی اس سے راضی ہو جانا چاہیئے، کسی اور کے بارے میں تو ظن و تخمین ہی سے کہا جا سکتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہے یا نہیں مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں تو نصِ قطعی موجود ہے اس کے باوجود اگر کوئی ان سے راضی نہیں ہوتا بلکہ ان کو بہر صورت غلط کار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو گویا اسے اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے۔

اور پھر صرف اتنی بات کو کافی نہیں سمجھا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ ان حضرات کی عزت افزائی کی انتہا ہے۔

4: حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مسلک کو معیاری راستہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کو براہِ راست رسول اللہﷺ کی مخالفت کے ہم معنیٰ قرار دیا گیا اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو وعید سنائی گئی۔

وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا۞

(سورۃ النساء: آیت، 115)

ترجمہ: اور جو شخص مخالفت کرے رسول اللہﷺ کی، جب کہ اس کے سامنے ہدایت کھل چکی اور چلے مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر، ہم اسے پھیر دیں گے جس طرف پھرتا ہے اور اسے داخل کریں گے جہنم میں اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے لوٹنے کی۔

آیت میں، المومنین کا اولین مصداق اصحاب النبیﷺ کی مقدس جماعت ہے رضی اللہ عنہم، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتباعِ نبوی کی صحیح شکل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کو اسلام کے اعلیٰ معیار پر تسلیم کیا جائے۔

5: اور سب سے آخری بات یہ کہ انہیں آنحضرتﷺ کے سایہ عاطفت میں آخرت کی ہر عزت سے سرفراز کرنے اور ہر ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنے کا اعلان فرمایا گیا۔

يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ ۚنُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ الخ۔

(سورۃ التحریم: آیت، 8)

ترجمہ: جس دن رسوا نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مؤمن ہوئے آپ کے ساتھ، ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے داہنے۔

اس قسم کی بیسیوں نہیں سیکڑوں آیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب مختلف عنوانات سے بیان فرمائے گئے ہیں اوراس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اگر دین کے سلسلہ سند کی یہ پہلی کڑی اور حضرت خاتم الانبیاءﷺ کے صحبت یافتہ حضرات کی جماعت معاذ اللہ، ناقابلِ اعتماد ثابت ہو، ان کے اخلاق و اعمال میں خرابی نکال لی جائے اور ان کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ دین کی علمی و عملی تدبیر نہیں کر سکے تو دین اسلام کا سارا ڈھانچہ ہل جاتا ہے اور خاکم بدہن۔ رسالتِ محمدیہ مجروح ہو جاتی ہے۔ دنیا کا ایک معروف قاعدہ ہے کہ اگر کسی خبر کو، رد کرنا ہو تو اس کے راویوں کو جرح و قدح کا نشانہ بناؤ، ان کی سیرت و کردار کو ملوث کرو اور ان کی ثقاہت و عدالت کو مشکوک ثابت کرو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چونکہ دین محمدی کے سب سے پہلے راوی ہیں اس لیے چالاک فتنہ پردازوں نے جب دین اسلام کے خلاف سازش کی اور دین سے لوگوں کو بدظن کرنا چاہا تو اس کا سب سے پہلا ہدف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے چنانچہ تمام فرقِ باطلہ اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہدفِ تنقید بنانے میں متفق نظر آتے ہیں، ان کی سیرت و کردار کو داغدار بنانے اور ان کی شخصیت کو نہایت گھنائونے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی، ان کے اخلاق و اعمال پر تنقیدیں کی گئیں، ان پر مال و جاہ کی حرص میں احکامِ خداوندی سے پہلو تہی کرنے کے الزامات دھرے گئے۔ ان پر خیانت، غصب اور کنبہ پروری اقربا نوازی کی تہمتیں لگائی گئیں اور غلو و انتہا پسندی کی حد ہے کہ جن پاکیزہ ہستیوں کے ایمان کو حق تعالیٰ نے معیار قرار دے کر ان جیسا ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت تھی۔ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 13) انہی کے ایمان و کفر کا مسئلہ زیرِ بحث لایا گیا اور تکفیر و تفسیق تک نوبت پہنچا دی گئی جن جانبازوں نے دینِ اسلام کو اپنے خون سے سیراب کیا تھا۔ انہی کے بارے میں چیخ چیخ کر کہا جانے لگا کہ وہ اسلام کے اعلیٰ معیار پر قائم نہیں رہے تھے حالانکہ ان مردانِ خدا کے صدق و امانت کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی تھی۔

رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا۞

(سورۃ الاحزاب: آیت، 23)

ترجمہ: یہ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا جو عہد انہوں نے اللہ سے باندھا، بعض نے تو جانِ عزیز تک اسی راستہ میں دے دی اور بعض بے چینی سے اس کے منتظر ہیں اور ان کے عزم و استقلال میں ذرا تبدیلی نہیں ہوئی۔

انہی کے حق میں بتایا جانے لگا کہ وہ صدق و امانت سے موصوف تھے، اخلاص و ایمان کی دولت انہیں نصیب تھی، جن مخلصوں نے اپنے بیوی بچوں کو، اپنے گھر بار کو، اپنے عزیز و اقارب کو، اپنے دوست احباب کو، اپنی ہر لذت و آسائش کو، اپنے جذبات و خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اس کے رسولﷺ پر قربان کر دیا تھا، انہی کو یہ طعنہ دیا گیا کہ وہ محض حرص و ہوا کے غلام تھے اور اپنے مفاد کے مقابلے میں خدا و رسول کے احکام کی انہیں کوئی پروا نہیں تھی۔ لقد جئتم شیئًا اِدّاً۔

ظاہر ہے کہ اگر امت کا معدہ ان بے ہودہ نظریات کی مردہ مکھی کو قبول کر لیتا اور ایک بار بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امت کی عدالت میں مجروح قرار پاتے تو دین کی پوری عمارت گرجاتی قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ سے ایمان اٹھ جاتا اور یہ دین جو قیامت تک رہنے کے لیے آیا تھا ایک قدم آگے نہ چل سکتا؛ مگر یہ سارے فتنے جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے۔ علم الہیٰ سے اوجھل نہیں تھے اس لیے اس کا اعلان تھا۔

وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ۞

(سورۃ الصف: آیت، 8)

صفحہ 2 از 4