صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام - دفاعِ…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: اور اللہ اپنا نور پورا کر کے رہے گا خواہ کافروں کو یہ ناگوار ہو۔

یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بار بار مختلف پہلوئوں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ فرمایا۔ ان کی توثیق و تعدیل فرمائی اور قیامت تک کے لیے یہ اعلان فرما دیا:

اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ الخ۔ 

(سورۃ المجادلۃ: آیت، 22)

ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے لکھ دیا ان کے دل میں ایمان اور مدد دی ان کو اپنی خاص رحمت سے۔

ادھر نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بے شمار فضائل بیان فرمائے بالخصوص خلفائے راشدین، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ کے فضائل کی تو انتہا کر دی، جس کثرت و شدت اور تواتر و تسلسل کے ساتھ آنحضرتﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب ان کے مزایا خصوصیت اور ان کے اندرونی اوصاف و کمالات کو بیان فرمایا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ اپنی امت کے علم میں یہ بات لانا چاہتے تھے کہ انہیں عام افراد امت پر قیاس کرنے کی غلطی نہ کی جائے، ان حضرات کا تعلق چونکہ براہِ راست آنحضرتﷺ کی ذاتِ گرامی سے ہے اس لیے ان کی محبت عین محبت رسول ہے اور ان کے حق میں ادنیٰ لب کشائی ناقابلِ معافی جرم فرمایا:

اللہ اللہ فی اصحابی، اللہ اللہ فی اصحابی لا تَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا من بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اذاہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ ومن اذی اللہ فیوشِک ان یأخذَہ۔

ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملہ میں مکرر کہتا ہوں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملہ میں، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض رکھنے کی بنا پر جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔

امت کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا گیا کہ تم میں سے اعلیٰ سے اعلیٰ فرد کی بڑی سے بڑی نیکی ادنیٰ صحابی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا مقابلہ نہیں کرسکتی؛ اس لیے ان پر زبانِ تشنیع دراز کرنے کا حق امت کے کسی فرد کو حاصل نہیں، ارشاد ہے:

لاَ تَسُبُّوا أصحابی فلو أنَّ احدََکم اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا ما بَلَغَ مُدَّ احَدِہم ولا نَصِیْفَہٗ۔ 

(بخاری، مسلم)

میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ تمہارا وزن ان کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں جتنا پہاڑ کے مقابلہ میں ایک تنکے کا ہو سکتا ہے چنانچہ تم میں سے ایک شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کے عشر عشیر کو۔

مقامِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نزاکت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ امت کو اس بات کا پابند کیاگیا کہ ان کی عیب جوئی کرنے والوں کو نہ صرف ملعون و مردود سمجھیں بلکہ یہ برملا اس کا اظہار کریں، فرمایا۔

إذَا رَأیتُمُ الذینَ یَسُبُّونَ أصحابی فقولوا لعنۃُ اللہ علی شَرِّکُم۔

(رواہ الترمذی)

ترجمہ: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہتے اور انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ناقدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جو بُرا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بُرا بھلا کہنے والا ہی بدتر ہو گا۔

یہاں تمام احادیث کا استیعاب مقصود نہیں بلکہ کہنا یہ ہے کہ ان قرآنی و نبوی شہادتوں کے بعد بھی اگر کوئی شخص حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں عیب نکالنے کی کوشش کرے تو اس بات سے قطع نظر کہ اس کا یہ طرزِ عمل قرآنِ کریم کے نصوصِ قطعیہ اور ارشاداتِ نبوت کے انکار کے مترادف ہے، یہ لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ نے نبی کریمﷺ پر جو فرائض بحیثیتِ منصب نبوت کے عائد کیے تھے اور جن میں اعلیٰ ترین منصبِ تزکیہ نفوس کا تھا، گویا حضرت رسالت پناہﷺ اپنے فرض منصبی کی بجا آوری سے قاصر رہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ نہ کر سکے اور یہ قرآنِ کریم کی صریح تکذیب ہے۔ حق تعالیٰ تو ان کے تزکیہ کی تعریف فرمائے اور ہم انہیں مجروع کرنے میں مصروف رہیں اور جب نبی کریمﷺ ان کے تزکیہ سے قاصر رہے تو گویا حق تعالیٰ نے آپﷺ کا انتخاب صحیح نہیں فرمایا تھا۔ بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں قصور نکلا تو اللہ تعالیٰ کا علم غلط ہوا۔ (نعوذُ باللّٰہ مِنَ الغَوَایَۃِ والسَّفَاہَۃ) چنانچہ اہلِ ہوا کی بڑی جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بدا ہے یعنی اسے بہت سی چیزیں جو پہلے معلوم نہیں تھیں بعد میں معلوم ہوتی ہیں اور اس کا پہلا علم غلط ہو جاتا ہے جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور ہو رسول اور نبی اور ان کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ان کے نزدیک کیا درجہ رہے گا؟

الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنے، ان کی غلطیوں کو اچھالنے اور انہیں موردِ الزام بنانے کا قصہ صرف ان ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خدا اور رسول، کتاب و سنت اور پورا دین اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور دین کی ساری عمارت منہدم ہو جاتی ہے بعید نہیں کہ آنحضرتﷺ نے اپنے اس ارشاد میں جو اوپر نقل کیا گیا ہے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہو:

من اذاہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ ومن اذی اللہ فیوشِک ان یَاخذَہ۔

ترجمہ: جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔

اور یہی وجہ ہے کہ تمام فرق باطلہ کے مقابلہ میں اہلِ حق کا امتیازی نشان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و محبت رہا ہے۔ تمام اہلِ حق نے اپنے عقائد میں اس بات کو اجماعی طور پر شامل کیا ہے کہ:

صفحہ 3 از 4