سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر 9
شیعہ الزام
حضرت ابوبکر پر توہین امہات المومنین کا الزام
(تاریخ الخلفاء، حیات الحیوان ، ازلۃ الخفاء مختصر سیرت رسول ، الصوعق الحرقہ، حیات الصحابہ)
الجواب اہلسنّت
مذکورہ سوال کا جواب ہم ویب سائٹ پر توہین پر ”توہین ازواج مطہراتؓ کے ضمن میں عرض کر چکے ہیں وہاں ملاحظہ فرمایا جائے۔
یہاں مزید وضاحت کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فیصلہ نبوی کا بجا لانا اپنی ذات اور سارے عزت والوں کی عزت و قدر بچانے سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری قرار دیا۔ اس مقام پر حیاتِ الصحابہ کے عکسی صفحہ میں بھی اسی عزم مصمم کا اظہار و اعلان ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا، اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر جنگل کے درندے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں تو بھی میں اسامہ کے لشکر کو ضرور بھیجوں گا جیسے حضورﷺ نے حکم دیا تھا کہ شہر میں میں ایک ہی رہ جاؤں۔ (حیات الصحابہ جلد 2 عکسی صفحہ دستاویز 610) صدیقِ اکبرؓ کے یہ الفاظ مزید وضاحت کر رہے ہیں کہ بطور محاورہ کے بولے جانے والے مذکورہ زیر بحث الفاظ امہات المؤمنینؓ کی شان میں بے ادبی کیلئے ہرگز نہیں بلکہ کمال عزم کے اظہار کے لئے ہیں کیونکہ کس چیز کی عظمت واضح کرنے کے لیے کسی متفقہ یا بدیہی عظمت والی چیز سے بات سمجھایا جاتا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ امہات المؤمنینؓ کی عظمت مسلم ھے۔
لیکن روانگی جیش اسامہ رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ عظیم مسئلہ ہے ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ صدیقِ اکبرؓ پر صدیقِ اکبرؓ کی توہین کا الزام کیونکہ آپ نے اپنے بارے میں بھی تقریباً ویسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے ہیں جو امہات المؤمنینؓ کے واسطے بطور محاوره کے بولے تھے۔