سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ…

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 1 از 3

سیدنا صدیق اکبرؓ قرآن کی روشنی میں

حق تعالیٰ کے اس انعام کا شکر کس زبان و قلم سے ادا کیا جائے کہ اس نے اپنے کلام پاک کی تفسیر کی توفیق اسے ناکارہ کو عطا فرمائی اور قرآن مجید کی خدمت میں مشغول کیا۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ٰامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِ فَسَوۡفَ يَأۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ۬ يُحِبُّہُمۡ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الۡكَـٰفِرِينَ يُجَـٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَآٮِٕمٍ۬‌ۚ ذَٲلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُ‌ۚ وَللّٰهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ  

 (پارہ، 6 سورة مائده رکوع، 11 آیت، 54)

اے ایمان والو اگر مرتد ہو جائے گا کوئی تم میں اپنے دین سے تو بہت جلد آمادہ کر رہے گا اللہ ایک ایسی قوم کو جو اللہ کی محبوب اور اللہ کی محب ہوگی تواضع کرنے والی ہوگی ایمان والوں کہ مقابلہ میں سختی کرنے والی ہوگی کافروں جہاد کرے گی اور راہ خدا میں اور نہ ڈرے گی ملامت سے کسی ملامت کرنے والے کی یہ اللہ کی بخشش ہے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا اور دانا ہے۔

اس آیت قتال مرتدین پر ایک نظر ڈالو کہ کس طرح خداوند عالم غیب نے ایک آئندہ آنے والے ہولناک واقعہ کی پیشینگوئی فرمائی اور اپنے جلال و جبروت کا کس طرح اظہار کیا کہ اے مسلمانو جو لوگ تم میں سے مرتد ہو جائیں گے خدا نے ان کے قلع قمع کرنے کیلئے عالم غیب میں یہ تدبیر مقرر کی ہے کہ خاصانِ خدا کی ایک جماعت ان کے قتال پر من جانب اللہ برانگیختہ کی جائے گی اور وہ ان کی سرکوبی کر دے گی۔

کیفیت اس واقعہ کی یوں ہوئی کہ آنحضرتﷺ کے اخیر زمانہ میں عرب میں تین قبیلے مرتد ہوگئے اور ہر قبیلہ میں ایک ایک شخص مدعی نبوت اٹھ کھڑا ہوا اور ان لوگوں نے بڑا فساد برپا کیا۔

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد تو یہ فتنہ بہت بڑھ گیا سوا حرمین شریفین اور شہر جواثی کے جو بحرین کے مضافات میں ہے اکثر مقامات کے لوگ مرتد ہوگئے اور بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ بعد آنحضرتﷺ کے کسی کو زکوٰۃ لینے کا اختیار نہیں ہے ایک طرف تو مسلمانوں پر یہ قیامت کبریٰ کہ رسول رب العٰلمین اللہﷺ جن کا منہ دیکھ کر جیتے تھے ان کا سایہ سر سے اٹھ گیا دوسری طرف یہ آفت کہ فتنہ ارتداد روز بروز ترقی کر رہا ہے تیسری طرف رسولِ خداﷺ کی یہ وصیت کہ سیدنا اسامہؓ کا لشکر بجانب شام مسلمانوں کا انتقام لینے کے لیے روانہ کر دیا جائے سیدنا صدیقؓ ہی تھے کہ جن کی قوت قلبیہ نے اُس وقت رنگ دکھلایا اور کوہِ استقامت بن کر تمام پریشانیوں کو انہوں نے جھیلا اور چند ہی روز میں مطلع اسلام پر جو غبار آگیا تھا اس کو صاف کر دیا۔ 

 سیدنا صدیقؓ نے جس وقت ان مرتدین سے قتال کا ارادہ فرمایا بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اس امر میں ان سے اختلاف کیا بعض لوگ تو یہ کہتے تھے کہ ان سے قتال کرنا ہی نہ چاہیے اور اور بعض کا یہ قول تھا کہ اس وقت مصلحت نہیں ہے یہ وقت اسلام کیلئے نہایت نازک ہے اس وقت تالیف قلوب سے کام لینا چاہئیے اس طور پر ایسے میں میں ملامت کا ذکر ہے وہ ملامت پیش آگئی اور اپنوں کی ملامت بہت زیادہ ناقابل برداشت ہوتی ہے سیدنا صدیقؓ نے اس ملامت کی کچھ پرواہ نہ کی اور اپنا کام پورا کر دیا "لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِم" کی تصدیق ہوگئی۔

اس ملامت کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے بھی ان سے اختلاف کیا اور نرمی کی صلاح دی میں پر سیدنا صدیقؓ نے دو جلال بھرے الفاظ فرمائے کہ آج انکو سن کر بدن کانپ جاتا ہے فرمایا "اجبار فی الجاهلية وخوار في الاسلام" اے سیدنا عمرؓ تم جاہلیت میں تو بڑے تند مزاج تھے اسلام میں ایسے نرم بن گئے اور فرمایا "تم الدین وانقطع الوحى أينقص واناحی" دین کامل ہوچکا وحی الہٰی بند ہوگئی کیا دین پر زوال آئے اور میں زندہ ہوں یعنی میری زندگی میں دین پر یہ آفت آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے یہ قصہ مشکوٰۃ میں منقول ہے۔

راقم سطور کہتا ہے کہ میں جب سیدنا صدیقؓ کے اس کلام کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک عجیب بات اس میں نظر آتی ہے غور سے دیکھو یہ لفظ کہ میری زندگی میں دین ناقص ہو جائے کیسا کلمہ ہے اس کلمہ کے کہنے کا کس کو حق ہوسکتا ہے کوئی شخص مرجائے اور اس کا صرف ایک اکلوتا بیٹا ہو وہ بیشک کہہ سکتا ہے کہ میری زندگی میں میرے باپ کا مال لٹ جائے لیکن اگر کسی شخص کے متعدد اولاد ہوں تو ان میں سے کوئی ایک اس کلمہ کو نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی میں میرے باپ کا مال لٹے اگر کہے گا تو یوں کہے گا کہ ہم لوگوں کی زندگی میں یہ کلمہ سیدنا صدیقؓ کا بتلا رہا ہے کہ رسول خداﷺ کے حقیقی وارث آپ کے اکلوتے روحانی فرزند وہی ایک تھے اس لیے ان کی زبان سے یہ لفظ نکلا کہ میری زندگی میں دین پر آفت آئے؟ اکلوتا بیٹا موجود اس کی نظر کے سامنے اس کے باپ کی بڑی محنت و جانفشانی سے جو باغ تیار ہوا تھا وہ کاٹ ڈالا جائے یقینا سیدنا صدیقؓ کا ادعا اسلام پر ایسا ہی تھا اور انہوں نے رسول خداﷺ کے سامنے اور آپ کے بعد کام بھی ایسے ہی کیے لوگوں نے انہی کو خلیفہ رسول اللہﷺ کہا ان کے بعد پھر کوئی خلیفہ اس نام سے نہیں پکارا گیا بلکہ خلفائے مابعد امیر المؤمنین کہے گئے امیر المؤمنین کا لفظ بطور تواضع کے ایک کم درجہ کا لفظ سمجھ کر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اپنے لیے تجویز کیا تھا جس کو آج طفرائے امتیاز سمجھ کر سیدنا علیؓ کے نام کے ساتھ استعمال کرتے ہیں سیدنا صدیقؓ کے اس کارنامہ یعنی قتال مرتدین کو انجام کار میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی عزت کی نظر سے دیکھا سیدنا فاروقِ اعظمؓ فرمایا کرتے تھے کہ سیدنا صدیقؓ میری تمام عمر کی عبادت لے لیں اور مجھے صرف اپنی ایک رات اور اپنے ایک دن کی عبادت دے دیں "اما ليلة قليلة الغار واما يومہ الردة" یعنی رات سے مراد شب غار ہے اور دن سے مراد فتنہ ارتداد کا دن ہے۔

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں:

"قام فی الردة مقام الانبياء"

یعنی فتنہ ارتداد میں سیدنا صدیقؓ نے وہ کام کیا جو پیغمبروں کے کرنے کا تھا۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 3