سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ…

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 3

"كرهناه في الابتداء وحمدناه على الانتهاء"

یعنی ہم لوگوں نے ابتداء میں تو قتال مرتدین کو ناپسند کیا تھا مگر انجام دیکھ کر پھر ہم سب سیدنا صدیقؓ کے شکر گزار ہوئے۔

"مَنْ یَّرْتَدَّ" ارتداد کی دوقسمیں ہیں ایک حقیقی یعنی واقعی طور پر کوئی شخص مسلمان ہونے کے بعد دین اسلام سے پھر جائے یہ ناممکن اور محال ہےچنانچہ دوسری آیتوں میں اس کو بیان فرمایا ہے دوسرا ارتداد صوری کہ ظاہر میں لوگوں کے دیکھنے میں ایک شخص مسلمان ہوا اس کے بعد دین اسلام سے پھر گیا جہاں کہیں اِرتداد کا لفظ بولا جاتا ہے یہی اِرتداد صوری مراد ہوتا ہے۔

"فَسَوۡفَ يَأۡتِى اللّٰهُ"خدا کے لانے کا یہاں بھی وہی مطلب ہے جو آیت استخلاف میں خدا کے خلیفہ بنانے کا بیان ہوچکا یعنی یہ مطلب نہیں کہ خدا اس قوم کو عدم سے وجود میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں لائے گا یا کوئی آواز غیب سے آئے گی کہ یہ لوگ خدا کے لائے ہوئے ہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ خدا ان کو اس کام پر آمادہ کرے گا ان کے دل میں ارادہ اس کام کا مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا۔

"يُحِبُّہُمۡ وَيُحِبُّونَهُ" پہلے خدا نے یہ فرمایا کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں پھر فرمایا کہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں اس میں تنزیہ ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے پہلے خدا کو اس سے محبت ہوتی ہے اگر خدا کو اس سے محبت نہ ہو تو خدا اس کو اتنی بڑی نعمت نہ دے خدا جس کو چاہتا ہے اُس کو یہ نعمت دیتا ہے۔

"أَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِينَ"

 یہ ویسا ہی ہے جیسے سورہ فتح میں فرمایا "اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ" مسلمانوں سے نرمی و محبت کرنے کو یہاں "أَذِلَّةٍ" کے لفظ سے تعبیر فرمایا وہاں "رُحَمَآءُ" کے لفظ سے کفار پر سختی کرتے کو یہاں "أَعِزَّةٍ" کے لفظ سے بیائی فرما دیا وہاں "اَشِدَّآءُ" کے لفظ سے ذلك فضل اللہ جس قوم کا اوپر بیان ہوا اس کے اوصاف کی غیر معمول عظمت اس کلمہ میں بیان فرمائی گئی کہ یہ خدا کی بخشش ہے خدا جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کے یہاں کچھ کمی نہیں ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص کس انعام کا مستحق ہے ولیکم معنی دوست۔

 "رَاکِعُوْنَ" رکوع کے معنے لغت میں جھکنا عاجزی کرنا نماز کے ایک رکن خاص کو بھی رکوع کہتے ہیں یہاں وہی لغوی معنی مراد ہیں۔

یہ آیت نہایت صفائی اور کامل وضاحت کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے خلیفہ برحق ہونے پر اور نیز ان کے اور ان کے ساتھیوں کے اعلیٰ ترین کمالات پر دلالت کرتی ہے اس آیت میں جس قوم یعنی جماعت کا بیان ہے وہ مرتدوں پر اس کے مسلط کرنے کا وعدہ ہے اس جماعت کی کچھ صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ 

اول: یہ کہ وہ جماعت خدا کی محبوب ہے۔

 دوم: یہ کہ وہ خدا کی محب ہے۔

 سوم: یہ کہ وہ مسلمانوں پر مہربان و متواضع ہے۔

 چہارم: یہ کہ وہ کافروں پر سخت ہے۔

 پنجم: یہ کہ وہ راہ خدا میں جہاد کرتی ہے۔ 

 ششم: یہ کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتی۔

آب غور کرو کہ یہ صفات کمالیہ کس رتبہ کی ہیں آیا شریعتِ الٰہیہ میں اب ان سے ما فوق بھی کوئی رتبہ ہو سکتا ہے؟

جب تک فتنہ ارتداد کا ظہور نہ ہوا تھا اُس وقت تک پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ اس آیت میں کسی جماعت کی تعریف بیان ہو رہی ہے مگر فتنہ ارتداد کے ظاہر ہونے کے بعد اور سیدنا صدیقؓ کے دستِ حق پرست سے اس فتنہ کا استیصال مشاہدہ کرنے کے بعد سب کی آنکھیں کھل گئی اور معلوم ہوگیا کہ آیت میں تعریف سیدنا صدیقؓ اور ان کے رفقاء کی ہے سیدنا صدیقؓ اور ان کے طفیل میں ان کے رفقاء خدا کے محبوب و محب ہیں اور جب وہ خدا کے محبوب و محب ہوئے تو ان کی خلافت برحق ہونے میں کسی کو شبہ ہوسکتا ہے سوا اس کے کہ جس کا ایمان قرآن شریف پر نہ ہو اگر کوئی کہے کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کے حق میں ہے انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں مرتدوں سے جنگ کی ہے تو جواب اس کا بچند وجوہ ہے۔

 اول: یہ کہ سیدنا علیؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں جن لوگوں سے جنگ کی ان میں کوئی مرتد نہ تھا سب مسلمان تھے چنانچہ اہلِ شام کے متعلق سیدنا علیؓ کا فرمان نہج البلاغہ میں موجود ہے جس میں صاف تصریح اہلِ شام کے نہ صرف مومن بلکہ مومن کامل ہونے کی ہے سیدنا علیؓ نے اس میں لکھا ہے کہ اللہ و رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں نہ ہم اُن سے زیادہ نہ وہ ہم سے زیادہ ہیں دیکھو نہج البلاغہ مطبوعہ مصر قسم دوم)

 دوم: یہ کہ اگر موافق اصول موضوعہ شیعہ تسلیم کیا جاے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد تھے اور سیدنا علیؓ کی لڑائی مرتدوں سے تھی ونعوذ بالله من ذالک تو حضرات خلفائے ثلاثہؓ سے کیوں جنگ نہ ہوئی حالانکہ آیت کا مقتضا یہ ہے کہ بوقتِ نزول آیت جس قدر کلمہ گو تھے ان میں سے جب کوئی مرتد ہوگا اُس کا قتال ضرور ہوگا بعض مرتدوں سے قتال ہو یہ آیت کی تکذیب ہے لہٰذا سیدنا علیؓ کے حق میں یہ آیت نہیں ہو سکتی۔

سوم: یہ کہ آیت بتلا رہی ہے کہ قتالِ مرتدین میں وہ جماعت کامیاب ہوگی فتنہ ارتداد کا قلع قمع ہو جائے گا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ و اپنی لڑائیوں میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ یوما فیوما ان کے مخالفین کا زور بڑھتا گیا لہٰذا یہ آیت سیدنا علیؓ نے کی شان میں کیسی طرح نہیں ہو سکتی۔

 چہارم: یہ کہ سیدنا علیؓ کے ساتھیوں میں آیت کے موجودہ اوصاف باتفاق فریقین نہ تھے نہج البلاغہ میں بہت سے خطبے ہیں جن میں سیدنا علیؓ نے اپنے اصحاب کی بزدلی اور جہاد سے اُن کا پیچھے ہٹنا بیان فرمایا ہے پھر بھلا ایسے لوگوں کے حق میں یہ آیت کیسے ہو سکتی ہے۔

 اگر کوئی کہے کہ امام مہدی کے وقت میں اس آیت کی پیشینگوئی پوری ہوگی تو اسکے بھی کئی جواب ہیں۔

 اول: یہ کہ آیت لفظ منکم بتلا رہی ہے کہ یہ پیشین گوئی صرف زمانہ نزول کے لیے ہے یعنی اس وقت کے لوگوں میں سے کوئی مرتد ہو جائے تو اس کیلئے آیت مذکورہ وعید ہے اور قطع نظر لفظ منکم سے اگر آیت کو عام کر دیا جائے تو مشاہدہ کے خلاف لازم آئے گا آج جو لوگ مرتد ہو رہے ہیں کون سی قوم ان پر مسلط ہوتی ہے۔

صفحہ 2 از 3