سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ…

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 3 از 3

 دوم: یہ کہ بفرض محال بلا دلیل ہم آیت کو زمانہ نزول کے ساتھ خاص نہ رکھیں تو بھی زمانہ نزول ضرور مراد ہوگا آیت میں بطور شرط و جزاء کے بیان ہوا ہے لہٰذا اگر ہزار بار فتنہ ارتداد پیدا ہو تو ہر مرتبہ مرتدین پر قوم موصوف کا تسلط ہونا چاہیے اور یہ کم ہے کہ آخر عہد نبوی اور خلافت اولیٰ میں بعض عرب قبائل مرتد ہوئے لہٰذا اُن پر قوم موصوف کا تسلط ضروری ہوا پس امام مہدی کے وقت کے لیے مخصوص کرنا آیت کی تکذیب ہے۔

المختصر حضرات شیعہ اس آیت کی کوئی تاویل نہیں کر سکتے تاویل اگر ہوسکتی تھی تو یہ اس زمانہ میں فتنہ ارتداد کے وقوع سے انکار کرتے مگر متواتر واقعات کا انکار امکان سے باہر ہے ان کے مؤرخین اور مفسرین اس کو تسلیم کر رہے ہیں چنانچہ تفسير "منہج الصادقین" وغیرہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے۔

 فائدہ: اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کو خلیفہ بنانے کا حکم نہیں دیا حکم دینے کے بعد بندوں کو اختیار باقی رہتا ہے کہ اس حکم پر عمل کریں یا نہ کریں بلکہ آیت استخلاف و آیہ تمکین کی طرح اس آیت میں بھی خداوند علیم و خبیر نے ایک پیشین گوئی فرمائی اور اس پیشین گوئی کے ضمن میں خلیفہ برحق کے علامات بیان فرمائے ہیں اور اس تقرر کے عالمِ غیب سے ظہور پذیر ہونے کا وعدہ فرمایا وَمَنْ اصْدَقُ مِنَ اللهِ قِیلا واقعی جو اہتمام حضرت خاتم النبیینﷺ کی بعثت میں تھا اس کا یہی تقاضا تھا کہ آپ کے بعد آپ کی خلافت راشدہ کا انتظام عالم غیب سے ہوتا ہندوں کے ہاتھ میں اس کے انجام دینے کی باگ نہ دی جاتی گو عالمِ غیب کا انتظام بھی انہیں بندوں کے ہاتھ سے ظاہر ہوا مگر اس صورت میں بندے مراد حق کے لیے صرف آلہ بن گئے جو خدا کی رضا تھی وہی ظہور میں آیا اور اس کے خلاف کا ظہور ہونا نا ممکن ہو گیا۔ 

 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَولا و اخرا


صفحہ 3 از 3