مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ…

مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ

  وقاص علی

صفحہ 1 از 4

مولودِ کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزامؓ 
تحقیق وقاص علی

قسط اول: اس حوالے سے حدیث سیرتُ و تاریخ کی بے شمار کُتب ہمیں بتاتی ہیں کہ صحابی رسولﷺ سیدنا حکیم بن حزامؓ کعبہ میں پیدا ہوئے چنانچہ امام مسلم اپنی صحیح مسلم میں لکھتے ہیں کہ: 

سیدنا حکیم بن حزامؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی۔

(صحیح مسلم جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 433)

 علامہ ابو جعفر محمد بن ابی بغدادی متوفی 245 ہجری لکھتے ہیں: 

حکیم بن حزامؓ ولد فی الکعبہ

سیدنا حکیم بن حزامؓ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔

(کتاب المخبر: صفحہ، 176)

امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر المالکیؒ لکھتے ہیں کہ:

حکیم بن حزام بن خویلد ولد فی الکعبہ

سیدنا حکیم بن حزامؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔

(الاستیعاب جلد اول باب حکیم بن حزام صفحہ، 417)

امام حاکم اپنی مستدرک میں لکھتے ہیں:

 سیدنا مصعب بن عبداللہؒ فرماتے ہیں کہ:

سیدنا حکیم بن حزامؓ مولود کعبہ ہیں ان سے پہلے یا بعد کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔

مستدرک امام حاکم کتاب معرفت صحابہ زکر سیدنا حکیم بن حزامؓ صفحہ 202 روایت 6044

 شیعہ مؤرخ مرزا تقی لکھتا ہے کہ:

درکعبہ مادرش رادر دزادن بگرفت نطعی حاضر کردندتا حکیم رابزاد سو

یعنی سیدنا عقیل بن حزامؓ کا واقعہ اندر پیدا ہوئے 

ناسخ التواریخ کتاب اصحاب حرف الحا جلد سوم صفحہ 322 کتاب فروشی تہران

مولود کعبہ کون؟

قسط دوم: سیدنا علی المرتضیٰؓ کے حوالے سے دو باتیں ملتی ہیں

1۔ آپؓ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

2۔ آپؓ اپنے والد کے گھر میں پیدا ہوئے۔

قوی بات یہی ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنے والد کے گھر شعب بنو ہاشم میں پیدا ہوئے اس ثبوت کے مزید شواہد ملاحظہ فرمائیں جن میں صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزامؓ کے کعبہ میں پیدا ہونے کا اثبات اور صحابی رسولﷺ‎ سیدنا علیؓ کے کعبہ میں پیدا ہونے کی نفی مؤرخین اور محدثین نے کی:

1۔ محدث امام ابنِ عساکر 571 ھ لکھتے ہیں:

 سیدنا علیؓ اپنے والد کے گھر پیدا ہوئے۔

(تاریخِ دمشق جلد 42 صفحہ 575)

2۔ امام حلبیؒ لکھتے ہیں:

 سیدنا علیؓ کے کعبہ کے اندر پیدا ہونے والی بات کمزور ہے

(سیرت حلبیہ جلد 1 صفحہ 165 باب تزویجہ خدیجة)۔

3۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں:

یعنی سیدنا حکیم بن حزامؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ہیں اور کوئی نہیں سیدنا علیؓ کے مولود کعبہ ہونے والی بات علماء کے نزدیک کمزور ہے۔

4۔ علامہ السفیری شارح بخاری لکھتے ہیں:

سیدنا حکیم بن حزامؓ کے سوا کوئی بھی مولود کعبہ نہیں

(المجالس الوعظیہ فی شرح احادیث خیرالبیریہ جلد 2 صفحہ 161)۔

5۔ امام جلال الدین السیوطی رحمۃ اللہ 911 ھ لکھتے ہیں:

سیدنا حکیمؓ کی ولادت کعبہ میں ہوئی شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:

آپؓ کے علاوہ کسی کا کعبہ کے اندر پیدا ہونا معروف نہیں

(تدریب الراوی جلد 2 صفحہ 360 النون الستون)

6۔ علامہ خفاجیؓ 1029 ھ لکھتے ہیں:

سیدنا حکیم بن حزامؓ عام الفیل سے تیرہ سال پہلے کعبہ میں پیدا ہوئے ان کے علاوہ کعبہ میں اور کوئی پیدا نہیں ہوا۔

(نسیم الریاض جلد 1 صفحہ509 التقسم الاول الباب الثانی)۔

7۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

سیدنا حکیم بن حزامؓ کے علاوہ کسی کا کعبے میں پیدا ہونا معروف نہیں (تدریب الراوی صفحہ 359)۔

8۔ علامہ دیار بکری کا فیصلہ:

اپنی مشہور کتاب تاریخ الخمیس جلد 2صفحہ 275 پر لکھتے ہیں:

سیدنا علیؓ کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوئے۔

9۔ مفتی بہاؤالدین مکی کا فیصلہ لکھتے ہیں: 

سیدنا علیؓ کا کعبہ میں پیدا ہونا کمزور قول ہے۔

(تاریخِ المکہ المرشفہ و المسجد حرام صفحہ 185)

10۔ ملاعلی قاری حنفی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: 

مشہور یہ ہے کہ سیدنا حکیمؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور کوئی نہیں۔

(شرح الشفاء جلد 1 صفحہ 159)۔

11۔ خلیفہ ابنِ خیاط لکھتے ہیں:

سیدنا علیؓ کی ولادت مکہ کی وادی بنو ہاشم میں ہوئی 

(تاریخ خلیفہ جلد، 1 صفحہ، 47)

12۔ علامہ ابنِ منظور لکھتے ہیں:

سیدنا علیؓ مکہ کے اندر بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔

(مختصر تاریخِ دمشق دوسرا نسخہ جلد 5 صفحہ 446)

13۔ علامہ برہان الدین حلبی رحمۃ اللہ کا بیان:

سیدنا حکیمؓ کے علاوہ کعبہ کے اندر کوئی پیدا نہیں ہوا۔

(سیرت حلبیہ جلد 1 صفحہ 139 عربی)۔

14۔ علامہ جامیؒ کا مؤقف:

یہ رسول اللہﷺ کے عم زاد ہیں آپﷺ کے داماد اور دوست ہیں ان کی جائے ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی۔

(شواہد النبوۃ صفحہ 280 مترجم)

15۔ علامہ ابنِ جبیر کا بیان:

سیدنا علیؓ کی ولادت گاہ جس میں رسول اللہﷺ نے پرورش پائی یہ آپ کے چچا ابوطالب کا گھر ہے۔

(رحلتہ ابنِ جبیر صفحہ 129)۔

16۔ علامہ تقی الدین محمد بن احمد بن علی الفاسی فرماتے ہیں:

سیدنا علیؓ کی ولادت گاہ نبی کریمﷺ‎ کی ولادت گاہ کے قریب ہوئی پہاڑی کے متصل اوپر والی جگہ اور یہ بات مکہ والوں کے نزدیک بغیر کسی اختلاف کے مشہور ہے اور اس دروازے پر لکھا ہے یہ سیدنا علیؓ کی ولادت گاہ ہے۔

(شفا الغرام جلد 1 صفحہ 358)

17۔ علامہ زینی لکھتے ہیں:

سیدنا علیؓ کی ولادت کعبہ میں نہیں بلکہ ایک دوسری جگہ پیدا ہوئے۔

(خلاصتہ الکلام فی بیان امراء البلد الحرام جلد، 2 صفحہ،  278)

18۔ بریلوی مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں (بہار شریعت جلد صفحہ 1150)

19۔ بریلوی مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:

سیدنا علیؓ جس جگہ پیدا ہوئے وہ ابوطالب کا گھر تھا (سفر نامے صفحہ 92 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ لاہور)۔

20۔ مفتی عبدالقیوم ہزاروی کا بیان: (تاریخ نجد و حجاز صفحہ 316)

21۔ بریلوی مفتی جلال الدین امجدی: (انوار الحدیث صفحہ442)

22۔ بریلوی مولانا غلام رسول سعیدی کی امام حاکم کے بارے میں وضاحت:

اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت اسدؓ نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالبؓ کو جوف کعبہ میں جنم دیا۔

(المستدرک للحاکم جلد 3صفحہ 483)

امام ذھبی نے بھی ان کے بیان کو برقرار رکھا:

تلخیص المستدرک جلد 3صفحہ 483 لکھتے ہیں تاہم ہمیں تلاش و بسیار سے اس واقعہ کا ثبوت نہیں ملا

(نعمتہ الباری فی شرح صحیح البخاری جلد، 2 صفحہ، 784)

23۔ علامہ غلام رسول قاسمی کا بیان:

صفحہ 1 از 4