مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ…

مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ

  وقاص علی

صفحہ 2 از 4

سیدنا علی المرتضیٰؓ شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے آپؓ کی جائے ولادت کو وہابیوں نے شہید کردیا ہے ان میں سے ایک ایک جملہ بولتی ہوئی حقیقت ہے اگر کسی ایک آدھ عالم نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو مولودِ کعبہ لکھ ہی دیا ہو تو اسے ان کے تسامح اور عدم توجہ محمول کرنا چاہیئے۔

(مولود کعبہ کون صفحہ 67 68)

25۔ مولانا محمد صدیق ہزاروی نے مکمل تفصیل کے ساتھ دلائل دیے ہیں کہ سیدنا علیؓ مولودِ کعبہ نہیں بلکہ بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔

(مولود کعبہ کون صفحہ 69)

 26۔ مولانا انصر القادری کا فیصلہ:

(ایضاً صفحہ 72)

27۔ مفتی حسان عطاری کا بھی یہی فیصلہ ہے۔

28۔ علامہ ابوالحسنات قادری کا رجوع:

ان کی تفسیر دیکھ لیں صفحہ 171سطر 8 مزید حوالاجات درجہ ذیل ہیں:

1۔ احمد بن بن عبدربہ اندلسی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

سیدنا علیؓ بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔

(العقد الفرید جلد 4 صفحہ297)۔

2۔ بریلوی علامہ مفتی سعید احمد لکھتے ہیں کہ:

سیدنا علیؓ کی جائے پیدائش بنو ہاشم ہے (معلم الحجاج صفحہ 3068)۔

قارئین آپ نے دیکھا کہ سیدنا علیؓ کعبہ کے اندر نہیں بلکہ بنو ہاشم میں پیدا ہوئے اور یہی قول معتبر ہے اگر کسی ایک آدھ علماء نے لکھا ہے تو ان سے تسامح ہوا ہے جیسے امام نووی نے بھی اس کی تصریح کردی ہے۔

مولود کعبہ کون؟

قسط سوم: یہاں بعض لوگوں کو شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض کتب اہلِ سنت میں سیدنا علیؓ کی کعبہ میں ولادت کاتذکرہ ملتا ہے اس کے لیے گزارش یہ ہے کہ بعض کتب میں اسں خبر کو صیغہ تمریض سے زکر کیا گیاہے ہے: 

جیسے مدارج النبوت میں ہے کہ گفت اند کہ بود ولادت وی در۔

 جوف کعبہ کہا جاتا ہے:

مدارج النبوت جلد دوم صفحہ نمبر 531: 

اب یہ بات کہنے والے کون ہیں کوئی پتہ نہیں۔

اسی طرح شواہد النبوت میں ہے کہ:

وبعض ھفتہ اند

کعبہ میں سیدنا علیؓ کی پیدائش بعض لوگ کہتے ہیں 

شواہد النبوت صفحہ 160

بعض کی تصریح شواہد النبوت کے مصنف نے بھی نہیں کی۔

علامہ شاہ عبد العزیزؒ نے سیدنا علیؓ کی کعبہ میں پیدائش کے قول کو مشہور روایت لکھا ہے۔

تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 163

لیکن انہوں نے بھی کسی مصادر کا نام نہیں لکھا۔

جب کہ سیدنا حکیم بن حزامؓ کے بارےمیں شاہ صاحب ہی نے لکھا کہ 

سیدنا حکیم بن حزامؓ کا کعبہ میں پیدا ہونا صحیح تواریخ سے ثابت ہے ملاحظہ ہو تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 164:

اور سب جانتے ہیں کہ ہر کسی بے ثبوت بات کا محض مشہور ہونا وقوع کو مستلزم نہیں اور اس بات کو شیعہ علماء نے بھی تسلیم کیا ہے:

جیسا کہ مشہور ومعروف شیعہ عالم جناب محمد حسین سرگودہوی نے اس بات کو تسلیم کر کے لکھا ہے ملاحظہ ہو سعادت الدارین بنیادی طور پر اہلِ سنت میں سے اگر کسی نے اس بات کو کہیں نقل کیا بھی ہے تواس کی بنیاد امام حاکم کی مستدرک ہے جہاں انہوں نے سیدنا علیؓ کی کعبہ میں پیدا ہونے کو متواتر اخبار کے طور پر لکھا تھا 

مستدرک جلد سوم صفحہ 550 لیکن عجیب بات یہ ہے کہ امام حاکم نے اپنی کسی کتاب میں ان خیالی اخبار میں سے کوئی ایک بھی نہیں نقل کی:

قسط چہارم: سیدنا حکیم بن حزامؓ کے کعبہ میں پیدا ہونے کی روایات پر اشکالات کا تحقیقی جائزہ: 

پچھلی اقساط میں دلائل سے یہ بات بیان کر دی گئی ہے کہ مولود کعبہ صرف اور صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ ہی ہیں آپ کے علاوہ کوئی مولود کعبہ نہیں اور سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کو تسلیم کرنے والے مندرجہ زیل عظیم علماء محدثین مفکرین بھی شامل ہیں امام علی بن غنام عامری امام مصعب بن عبداللہ قرشی اسدی امام مسلم علامہ ابوجعفر بغدادی امام محمد بن عبداللہ ازرکی امام زبیر بن بکار امام احمد بن یحییٰ بلازری امام ابنِ حبان امام احمد بن محمد خطاطی حافظ احمد بن علی علامہ عبدالملک بن محمد علامہ حافظ احمد بن عبدااللہ ابونعیم امام حافظ ابنِ عبدالبر مصنف صاحب الاستیعاب امام عبدالرحمٰن بن علی المعروف علامہ ابنِ جوزی امام مبارک بن محمد امام علی بن محمد المعروف علامہ ابنِ اثیر امام عثمان بن عبد الرحمان علامہ محمد بن مکرم حافظ یوسف بن عبد الرحمٰن امام زہبی امام شکیل بن ایبک امام ابنِ کثیر امام ابنِ ملقن شامل 53 سے زائد اکابرین بھی شامل ہیں۔

 اور یہ سیدنا علیؓ کے بارے میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ان کی پیدائش مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی جس کے مزید شواہد ملاحظہ فرمائیں:

چنانچہ حافظ الحدیث و امام تقی الدینؒ جو اولادِ سیدنا حسن مجتبیٰؓ سے ہیں فرماتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی پیدائش نبی اقدسﷺ‎ کی ولادت گاہ کے قریب (شعب بنی ہاشم) میں ہے جسے مسلمان "مولد سیدنا علیؓ" کہتے ہیں اور اس کے دروازہ پر یہ الفاظ موجود تھے 

ھذا مولد امیر المومنین علی ابنِ ابی طالبؓ۔

یعنی یہ سیدنا علیؓ کی ولادت کی جگہ ہے:

ملاحظہ فرمائیں شفاء الغرام باخبار البلد الحرام باب الحادی والعشرون جلد اول صفحہ نمبر 358۔

اور اسی طرح مشہور و معروف قدیم مؤرخ علامہ خلیفہ ابنِ خیاطؒ اپنی سند کے ساتھ سیدنا علیؓ کی پیدائش کو کعبہ میں نہیں بلکہ شعب بنی ہاشم میں نقل کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں 

حدثنا یحییٰ عن عبدالعزیز بن عمران بن عن محمد بن عبداللہ مومل مخزومی قال ولد علی بمکہ شعب بنی ہاشم 

کہ ہم سے یحییٰ نے روایت بیان کی انہوں نے عبدالعزیز بن عمران سے انہوں نے محمد بن عبداللہ سے بیان کی کہ جناب علی مکہ میں شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے اسی طرح قدیم مؤرخ علامہ ابنِ عساکرؒ نے بھی بیان کی کہ سیدنا علیؓ کی پیدائش شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔

تاریخِ خلیفہ ابنِ خیاط صفحہ نمبر 199 تاریخِ دمشق جلد 45 صفحہ 445 رقم روایت 5029۔

 اور جن کُتب میں سیدنا علیؓ فداہ روحی و جسدی کو مولود کعبہ کہا گیا تھا ان کے بل بوتے پر سیدنا علیؓ مولود کعبہ ثابت نہیں ہوتے۔

اور یہ بات ناچیز نے اپنی رائے پر نہیں کہی تھی بلکہ یہ بات پر اجلا حفاظ حدیث اولیائے کاملین اور علمائے معتقدین کے نزدیک صحیح نہیں تھی۔ 

یہاں پر سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کے دلائل پر کچھ اشکالات سامنے آئے ہیں ان کو نقل کر کے جوابات دیئے جائیں گے۔

اشکال اول:

امام مسلم نے بغیر سند کے سیدنا حکیم بن حزامؓ کی پیدائش کعبہ میں ہونے کو لکھا ہے۔

جواب:

صفحہ 2 از 4