مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ…

مولود کعبہ صرف صحابی رسولﷺ‎ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ

  وقاص علی

صفحہ 3 از 4

اس قول کو مستدرک کی روایات کے شواہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے امام حاکمؒ نے سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کو دو اسناد سے ثابت کیا ہے چنانچہ امام حاکمؒ نقل کرتے ہیں:

پہلی سند:

سمعت ابا الفضل الحسن بن یعقوب یقول سمعت ابا احمد محمد بن عبدالوھاب یقول سمعت علی بن غنام العامری یقول ولد حکیم بن حزام فی جوف کعبہ۔

دوسری سند:

اخبرنا ابوبکر بن محمد بن احمد بن بالویہ حدثنا ابراہیم بن اسحاق الحربی حدثنا مغرب بن عبداللہ۔

مستدرک حاکم جلد پنجم کتاب معرفہ صحابہ صفحہ 201 202۔

اشکال دوم:

 جناب زبیر بن بکار چونکہ اہلِ بیت کی دشمن تھے اس لیے ان کا سیدنا حکیم بن حزامؓ کا کعبہ میں پیدائش ہونا انہوں نے اس دشمنی میں نقل کیا۔

جواب اول:

 سیدنا حکیم بن حزامؓ کا کعبہ میں پیدا ہونے کو نقل کرنے کا تعلق اہلِ بیت کی دشمنی سے کوئی تعلق نہیں یہ خیالی جرح تب زیر بحث ہونے کے قابل تھی جب یہ ثابت ہوتا کہ سیدنا علیؓ کی ولادت کو انہوں نے رد کیا یا ان کے دور میں ان کی ولادت کو کسی نے بیان کیا ہوتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خیالی بات امام حاکم نے چوتھی صدی ہجری میں جناب زبیر بن بکار کے بعد بغیر کسی سند کے نقل کرتے ہوئے پیش کی۔

جواب دوم:

اگر یہی بات ہے تو پھر وہ ساری روایات جو سیدنا جعفرؒ و سیدنا باقرؒ نام کے راویوں نے امامیہ کتب میں اصحاب رسولﷺ‎ والی فضیلتوں کو چھپا کر صرف اپنے خاندان کے اکابرین کے بارے میں نقل کیں وہ بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشمنی کے لیبل کے ساتھ رد ہو جائیں گی۔

اشکال سوم:

امام حاکم نے سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کو رد کیا۔

جواب اول:

اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

جواب دوم:

یہ ہے کہ امام حاکم نے دو اسنادی روایات کو نقل کیا جس سے صحابی رسول سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کا اثبات ہے اور صرف دوسری روایت میں جناب مصعب بن عبداللہ کے ان الفاظ کو اپنی خیالی روایات سے وہم قرار دیا جس میں سیدنا حکیم بن حزامؓ کا مولدِ کعبہ ہونے کی تخصیص تھی نہ کہ ان صحابی کی ولادت کی بات کو ملاحظہ ہو مستدرک حاکم جلد پنجم ۔

اشکال چہارم:

سیدنا حکیم بن حزامؓ کی کعبہ میں ولادت کو سبط ابنِ جوزی نے ایک راوی پر جرح کر کے رد کیا۔

جواب اول:

سبط ابنِ جوزی خود مردود ہے اس کی جرح سرے سے حُجت ہی نہیں۔

ملاحظہ فرمائیں میزان الاعتدال لسان المیزان۔

جواب دؤم:

سبط ابنِ جوزی نے جس راوی پر جرح کی ہے جبکہ اس کی توثیق بھی ثابت ہے ملاحظہ ہو میزان الاعتدال جلد دوم۔

جواب سوم:

سبط ابنِ جوزی ہی نے بغیر سند کے سیدنا علیؓ کی کعبہ میں ولادت والی ایک روایت کو بغیر سند کے نقل کیا اس کو غلو کی بیماری کی وجہ سے کچھ لوگ آ نکھیں بند کر کے قبول کر لیتے ہیں "زہے نصیب"

اشکال پنجم:

امام ذہبیؒ نے امام حاکم والی مولود کعبہ سیدنا علیؓ والی بات اپنی تلخیص میں نقل کی۔

جواب اول:

امام ذہبیؒ نے اپنی تلخیص میں کئی جگہ امام حاکم کی باتوں کو اور روایات نقل کر کے سکوت اختیار کر جاتیں ہیں جبکہ مستدرک کی ایسی کئ باتیں اور روایات غلط ثابت ہیں جن پر امام ذہبی نے بغیر جرح کے نقل کیں۔

جواب دؤم:

امام ذہبیؒ کی تاریخ اسلام 52 جلدوں میں موجود ہے لیکن اس میں کہیں بھی سیدنا علیؓ کا کعبہ میں پیدا ہونے کو نقل نہیں کیا جبکہ اس کے برعکس اپنی کتاب سیر اعلام النُبلا میں سیدنا حکیم بن حزامؓ کے بارے میں مولودِ کعبہ ہونا نقل کرتے ہیں۔

اشکال ششم:

 ملا علی قاریؒ کا نام بھی سیدنا علیؓ کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے۔

جواب:

جبکہ علامہ ملا علی قاریؒ نے امام حاکم ہی کا قول نقل کیا اور یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ سیدنا حکیم بن حزامؓ ہی مولودِ کعبہ ہیں چنانچہ آپ ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

 کوئی نہیں جانتا کہ انکے علاؤہ بھی کوئی کعبہ میں پیدا ہوا اور یہی مشہور ترین ہے۔

ملاحظہ ہو شرح شفاء جلد اول صفحہ نمبر 159۔

اشکال ہفتم:

 نزھتہ المجالس میں ہےکہ سیدنا علیؓ کعبہ میں پیدا ہوئے جس سے سیدنا حکیمؓ والی خبر کی تردید ہوتی ہے۔

جواب:

یہ بے سند بات جس کتاب سے پیش کی جاتی ہے اسی کے اندر جناب عمرو بن حزم کے بارے میں بھی موجود ہے کہ یہ شخص بھی کعبہ میں پیدا ہوئے ۔

اور یہ بات اس کتاب کو پیش کرنے والوں کے مؤقف کا اثبات نہیں بلکہ کلی طور پر جھٹلا رہی ہے کیونکہ اس کو پیش کرنے والے اس فضیلت کے مصداق صرف سیدنا علیؓ کو مانتے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض

اسی روایت میں ایک اور کفر بھی لکھا ہے اور اسی نزہتہ المجالس سے سیدہ فاطمہ بنت اسدؓ اعتقادی عملی شرک کرنے والی ثابت ہو رہی ہیں اور ملاحظہ ہو جلد دوم ۔

اشکال ہشتم:

فضائل میں ضعیف روایت قابل قبول ہوتی ہے۔

جواب:

جو روایت سیدنا علیؓ کے بارے میں پیش کی جاتی ہے وہ اس قسم میں شامل ہی نہیں ایسے راویوں کی روایت من گھڑت ہوتی ہے چنانچہ علامہ ملا علی قاریؒ نقل کرتے ہیں کہ:

من امارات کون الحدیث موضوعا ایکون راوی رافضیا والحدیث فی فضائل اھل البیت

(مرقات جلد 11 صفحہ 387) 

ایک جاہلانہ مطالبہ:

سیدنا حکیم بن حزامؓ کے بارے میں کعبہ میں ولادت پر کسی عالم کا قول دیکھائیں جس میں اس کو صحیح اخبار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔

جواب:

علامہ شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ:

در تواریخ صحیحہ ثابت است کہ حکیم بن حزام بن خویلد ہم کہ برادر زادہ اُم المومنین سیدہ خدیجہ الکبریؓ بود درکعبہ متولد شدہ۔

اور تواریخ صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزامؓ جو سیدہ خدیجہ الکبریؓ کے بھتیجے تھے یہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

(ملاحظہ فرمائیں تحفہ اثنا عشریہ باب دوم صفحہ، 144)

معتدل مؤقف

سیدنا حکیم بن حزامؓ کے بارے میں تو جگہ کا کوئی اختلاف نہیں کہ آپؓ کے بارے میں کعبہ کے علاؤہ کہیں پیدا ہونے کا ذکر ہو جبکہ سیدنا علیؓ کی جائے پیدائش میں کئی اختلاف ہیں اور ان روایات میں اسلام کے خلاف بھی ایسی باتیں موجود ہیں جن کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور ان ہی روایات میں خود اس مؤقف کے مدعی کے مؤقف کی تردید میں بھی باتیں موجود ہیں 

پس راجح قول یہ ہی ہے کہ سیدنا علیؓ مکہ میں شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئی 

تنبیہ:

صفحہ 3 از 4