Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمر فاروق ؓ کا قاتل ملعون ابو لولو فیروز مجوسی

  جعفر صادق

شیعہ روافض کا باپ

أبو لؤلؤة الفارسي المجوسي لعنة الله علیه

أبو لؤلؤة الفارسي المجوسي ملعون اس کا نام " فيروز" تها اس لیئے اس کو الفيروزي بهی کہتے ہیں ، یہ ملعون فارسي الأصل مجوسی غلام تها ، اسی ملعون نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کو شہید کیا۔

شیعہ کی کتب میں اس ملعون مجوسی کو ( بابا شجاع الدين ) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، أبو لؤلؤة المجوسي ملعون نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کو کیوں شہید کیا ۔

ابو لولو مجوسی ملعون کی شیعہ کے ہاں قدر و منزلت

ہم جب ابولولو فیروز کو مجوسی کہتے ہیں تو شیعہ اسکا دفاع کرتے ہیں کہ وہ مجوسی نہیں تھا خیر اب شیعوں کے مجتھد نے بھی اسے مجوسی لکھا ہے اور ایرانیوں نے ایران میں اسکی مزار بنا کہ اسے بابا کا خطاب دیا ہے پس ثابت ہوا شیعہ ہی مجوسی ہیں۔

شیعہ کتاب ⬇️⬇️

شيخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ الله فرماتے هیں کہ أبو لؤلؤة باتفاق أهل الإسلام  کافر مجوسی تها۔ مجوسی وه لوگ هیں جو آگ کی عبادت کرتے ہیں ، اس نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کو شہید کیا۔ اسلام اور مسلمانوں سے شدید بغض کی وجہ سے ، اور مجوس و کفار کا انتقام لینے کی وجہ سے کیونکہ سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ نے ان کے بلاد کو فتح کیا اور ان کے رؤساء کو قتل کیا اور ان کے اموال کو تقسیم کیا۔

( منهاج السنة النبوية لابن تيمية )

الله تعالی نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کے سبب مسلمانوں کے لیئے بلاد فارس کو فتح کیا اور کفر کے ایوانوں میں اسلام کا جهنڈا لہرایا گیا ، لہذا اسی بغض وحسد کی وجہ سے أبو لؤلؤة مجوسی نے حضرت عمر رضي الله عنہ کو شہید کیا۔

أبو لؤلؤة المجوسي ملعون کو شیعہ روافض کیا سمجهتے ہیں ؟

تمام شیعہ و روافض سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کی شہادت کے دن کو بہت بڑی عید کا دن سمجهتے هیں اور اس دن عید مناتے ہیں ، اور حضرت عمر رضي الله عنہ کے قاتل أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث کو أفضل المسلمين یعنی مسلمانوں میں سب سے افضل وبہتر مسلمان کا لقب اس کو دیتے ہیں۔

شیعہ کا شیخ نعمت الله الجزائری ملعون کہتا ہے کہ

" إن هذا يوم عيد وهو من خيار الأعياد "

یہ عید کا دن ہے اور یہ بہترین اور افضل عیدوں میں سے ہے۔

( الأنوار النعمانية للجزائري )

شیعہ کی دیگرکتب میں بهی یہی لکها هے۔

یہ ہے شیعہ کا عقیده سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کے متعلق۔

أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث کی قبر کہاں ہے ؟

سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کی شہادت کا مختصر واقعہ اس طرح ہے کہ آپ فجرکی نمازپڑهانے کے لیے تشریف لائے صفوں کو سیدها کرنے کاحکم دیا ، ابهی آپ نے تکبیر پڑهی تهی کہ پیچهے سے أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث ملعون نے دو دهاری خنجرکے ساتهہ آپ کے اوپر حملہ کیا اور دائیں بائیں جو بهی آتا سب کو مارتا گیا تقریبا تیره آدمیوں کوزخمی کیا جن میں سے نو شہید ہوگئے صحابہ میں سے کسی نے أبو لؤلؤة ملعون پرچادر پهینک کراس کو پکڑ لیا تواس ملعون کوعلم ہوگیا کہ اب میں تو بچ نہیں سکتا لہذا خود ہی اپنا گلا کاٹ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنم رسید هوگیا۔

اور سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنہ  کا هاتهہ پکڑ کر نماز کے لیئے آگے کیا ، مسجد کے کناروں میں جو لوگ تهے ان کو ابهی پورا علم نہیں تها اس واقعہ کا صرف یہ سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کی آواز بند ہوگئی اور آپ سبحان اللّه سبحان اللّه پڑهہ رہے تهے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنہ نے ہلکی سی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضرت عمر رضي الله عنہ نے ابن عباس رضي الله عنہ سے کہا دیکهو میرے اوپر کس نے یہ وار کیا ؟ تو انهوں نے کہا مغیره کے غلام أبو لؤلؤة نے تو آپ نے فرمایا الله اس کو ہلاک کرے میں نے تو اس کو اچهائی کا ہی حکم دیا ہے ، پهر فرمایا

( الحمد لله الذي لم يجعل ميتتي بيد رجل يدعي الإسلام )

تمام تعریفیں الله کے لئے ہیں کہ جس نے میری شہادت کسی مسلمان کے ہاتھ پر نہیں کی۔

اب أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث ملعون آگ کے پجاری نے اپنے آپ کو اسی دن خود قتل کیا اور اسی دن جہنم رسید کیا گیا ، تو اس ملعون کی نعش ایران کے شہر کاشان کیسے پہنچ گئی ؟ اور وہاں اس کی جہنم کده کیسے بنائی گئی ؟

شیعہ جس کا حج و طواف و عبادت کرتے هیں؟ کیا شیعہ سے بڑا بے وقوف و گمراه و ملعون و مغضوب و مردود مذهب آپ نے کبهی دیکها یا سنا ہے ؟

ایران میں اس ملعون کے جهوٹے من گهڑت مزار کی چند تصاویر ملاحظہ کریں

ایران کے شہر کاشان کے عوام اور اوباش ذوالحجہ کی چھبیس تاریخ کو آٹے کا ایک مجسمہ تیار کرتے ہیں، اور اس کے پیٹ کو سرخ شیرے سے پُر کرتے ہیں، اور اس مجسمے کا نام #عمر (معاذاللہ)  رکھتے ہیں۔ پھر اس مجسمے کو ہلاتے ہیں اور وجد و رقص کرتے ہیں، اور اسی دوران طبلے ڈھول اور دیگر آلات لہو استعمال کیے جاتے ہیں اور حد سے زیادہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پہ لعن طعن اور سب و شتم کرتے ہیں اور ساتھ ہی فریادی و زاری اور آہ و بکا کرتے ہیں صبح سے شام تک تمام دن اسی حال میں گزارتے ہیں اور جب رات کی تاریکی چھانے لگتی ہے اور گھروں کو واپس جانے کا ارادہ کرتے ہیں تو بابا مزکورہ یعنی ابو لولو فیروز مجوسی کی قبر سے رخصت ہونے لگتے ہیں تو ان میں سے بعض ارازل اور اوباش چھری سے وار کرکے اس مجسمے یعنی حضرت عمرؓ  کے پیٹ میں گھونپ دیتے ہیں تانکہ وہ سرخ شیرہ اس مجسمے کے پیٹ سے نکلنے لگتا ہے۔پھر وہ اس شیرہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا خون سمجھ کر پیتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے خون کے پیاسے ہیں ۔۔۔۔

شہادت عمر فاروقؓ کے بعد ابو لولو ملعون نے اسی وقت اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کر لی تھی اور جہنم رسید ہوگیا۔

آخر اس ملعون کی نعش مدینہ پاک سے ایران کے شہر کاشان کیسے پہنچ گئی؟؟ وہاں اس کا عالیشان مزار کیسے بن گیا؟؟

اور اسلام اور اهل اسلام اور صحابہ اور خصوصا سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کے ساتهہ شیعہ کے باطنی بغض وعداوت وخبث کوملاحظہ کریں ، کہ کس طرح ایک مجوسی ملعون کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے کہ اس نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کو شہید کیا۔