سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کس دن ہوئی؟ تحقیق -…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کس دن ہوئی؟ تحقیق

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

ایک دوست نے ان بکس میں سوال کیا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات غلط مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت یکم محرم الحرام کو ہوئی یہ در اصل دشمنان اہل بیت رضی اللہ عنہم کی طرف سے پھیلایا گیا ہے جھوٹ ہے۔

جواب: سر دست تین حوالے پیش خدمت ہیں جن کے  اندر صاف طور پر ذکر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات محرم کی پہلی تاریخ کو ہوئی تھی، اور یہی بات مشہور ہے

حوالہ نمبر 1: 

ابن اثير جزرى اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ "حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا 

(اسد الغابة في معرفة الصحابة: جلد،  4 صفحہ، 166)

نوٹ: ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ "والاول اصح ما قيل في عمر" کہ پہلی بات جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپؓ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)

حوالہ نمبر 2: 

ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ "ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حملے میں زخمی کیے گئے، اسکے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی۔"

(تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابنِ عساكر: جلد، 44 صفحہ، 478)

حوالہ نمبر 3:

"حضرت عبداللہ بن زبير رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بروز بدھ جب ذوالحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپؓ تین دن تک زندہ رہے پھر اسکے بعد آپؓ کی وفات ہوئی" (كتاب المحن: صفحہ، 66)

ایک عجوبہ: 

میں اسی موضوع پر تحقیق کر رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کس تاریخ کو ہوئی تو ایک كتاب میں یہ الفاظ ملے کتاب کا مصنف "رافضی" ہے اور متشدد قسم کا رافضی ہے  نام ہے "نعمة الله جزائرى" لکھتا ہے کہ:

"دوسرے کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا" (دوسرے مراد خلیفہ دوم ہیں) (الانوار النعمانية: جلد، 1 صفحہ، 84)

اور اس پر مزید مزے کی بات یہ ملی کہ اس کتاب پر حاشیہ میں یہ لکھا گیا کہ:

"قتل عمر في اليوم التاسع منه كان مشهوراً بين الشيعة"

یہ بات شيعہ میں مشہور تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا تھا۔

اس کے علاوہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ کم و بیش تقریباً ہر مورخ نے ہی ان پر ابو لولو فیروز کے حملہ کرنے سے شہادت کے دن تک کا درمیانی حصہ تین یا چار دن ذکر کیا ہے۔

ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ 26 یا 27 ذی الحجہ کو ہوا اور ان کی شہادت اس واقعہ کے تیسرے یا چوتھے دن بعد 1 محرم الحرام کو ہوئی اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اسی روز دفن ہوئے۔ اس بارے میں حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ کی صراحت اصح ہے۔

اگر کوئی قول 26 ذی الحج کا مل بھی جائے تو بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں اقوال ملتے ہیں پر مشہور قول جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ اور دیگر ائمہ اہلسنت کے نزدیک یکم محرم ہی ہے۔


صفحہ 2 از 2