نبی کریم ﷺ اور سیدنا علی ؓ کا مرتبہ برابر ہے۔(معاذاللہ)
جعفر صادق
*شیعت کا عقیدہ امامت کفریہ عقیدہ اور ختم نبوت کا صاف اور واضح انکار ہے*
اہل سنت اکابرین کے فتاوٰی جات کی روشنی میں ملاحظہ کیجیۓ۔
عقیدہ امامت کفریہ عقیدہ ہے۔
یہ ایسا عقیدہ ہے جس میں شیعت اپنے بارہ اماموں کو انبیإ کرام علیہم السلام پر فوقیت دیتے ہیں۔ یہ عقیدہ ان کے کئی کتب سے ثابت ہے کہ امام انبیإ کرام سے افضل و برتر ہیں۔
ملا باقر مجلسی کی بحارالانوار۔ خمینی کی کئی کتب میں اس بات کی تائید موجود۔
کلینی کی الکافی میں اس عقیدے کا پرچار۔
یہاں تک کہ شیعہ مذہب میں اس عقیدے کی اہمیت اتنی ہے کہ اس عقیدے کو بچانے کیلئے شیعہ قرآن کی تحریف کو بھی ماننے کے قائل ہوجاتے ہیں۔
جبکہ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ شیعت کا عقیدہ امامت کفر ہے۔
ذیل میں چند حوالہ جات ملاحظہ کیجئے۔
١). حضرت ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ علیہ ”شرح الشفإ“ میں لکھتے ہیں کہ اماموں کو انبیإ کرام علیہم السلام پر افضلیت دینے والا اور ماننے والا کافر ہے۔
(شرح الشفإ۔ جلد دوم۔ صفحہ 255)
٢). امام نسفی الحنفی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو انبیإ علیہم السلام پر کسی غیر نبی یا ولی کو افضلیت دے۔ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
(تفسیر النسفی۔ جلد دوم۔ صفحہ 315)
٣). حضرت قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم روافض کی تکفیر اس لیۓ کرتے ہیں کہ انہوں نے غیر انبیإ کو انبیإ کرام علیہم السلام سے افضل ٹھہرایا۔ اور جو کسی غیر نبی کو نبی مانے وہ کافر ہے۔
(الشفإ۔ جلد دوم۔ صفحہ 290)
٤). امام علی بن سعید بن حزم رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے لوگ جو کسی غیرنبی کو نبی سے افضل سمجھتے ہیں ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ مذہب اسلام میں اور اہل بیت میں سے کسی کا عقیدہ بھی ایسا نہیں رہا۔
(الفصل فی المسائل والاھوإ والنحل۔ جلد 4۔ صفحہ 21)
اس سے ثابت ہوا کہ شیعت کا عقیدہ امامت کفر ہے۔ اور ختم نبوت کا صریح انکار ہے۔