صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 5

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علمائے دیوبند کا مؤقف:

یوں تو علوم و فنون، تہذیب و تمدن، صنعت و حرفت اور وہ تمام چیزیں جن کی انسانی زندگی میں ضرورت پیش آتی ہے ان کی تحصیل و تکمیل فرائض میں داخل ہے لیکن ان تمام فرائض میں نفوسِ انسانی کی تہذیب و تکمیل سب سے اہم اور ضروری فرض ہے اسی لیے دنیا میں انسان اوّل حضرت آدم علیہ السلام ہی اس ذمہ داری سے گراں بار ہو کر تشریف لائے، پھر یہ سلسلہ ترقی کرتا ہوا خلاصہ کائنات نبی آخر الزماںﷺ کی ذات اقدس تک پہنچ کر ابد الآباد تک کے لیے مکمل ہو گیا۔ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ الخ۔ 

(سورۃ المائدہ: آیت، 3)

اب اگر یہ پوچھا جائے کہ اس تہذیب و تمدن اور اخلاقِ فاضلہ کے آخری علم بردار نے نفوس انسانی کی تہذیب میں کون سا کمال کر دکھایا؟ تو جواباً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ان مقدس شخصیات کو پیش کردیا جائے گا جو آپﷺ کے اخلاق و اعمال کے مظہر اتم، آپﷺ کی تعلیم و تربیت کی واضح مثال، آپﷺ کے ارشاد و ہدایت کے مخاطب اوّل اور آپﷺ کے فیض صحبت سے شب و روز بہرہ اندوز تھے، یہ مقدس جماعت، رسولِ خداﷺ اور خلقِ خدا کے درمیان خدا تعالیٰ کا ہی عطا کیا ہوا وہ واسطہ ہے جس کے بغیر نہ اللہ کا نازل کردہ قرآن ہاتھ آ سکتا ہے، نہ رسول اللہﷺ کا بیان کردہ بیان قرآن لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ الخ۔

(سورۃ النحل: آیت، 44)

یہ مقدس جماعت دینِ مستقیم کی امین و محافظ، سنتِ نبوی کی پاسبان اور اسوہ رسالت کا مجسم نمونہ تھی اوراس کی سیرت، سیرت النبیﷺ کا پرتَو ہے، اس قدسی صفات جماعت نے تعلیماتِ نبویﷺ کو اپنے زن و فرزند اور اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کرکے دنیا کے گوشے گوشے میں مِنْ و عَنْ و بلاکم و کاست پہنچایا ہے، اس مقدس جماعت کی تنقیص وتنقید نہ صرف یہ کہ ان کی شان میں گستاخی ہے بلکہ اصولِ دین سے اعتماد ختم کرنے اور قرآن و سنت کو نعوذ باللہ ناقابلِ اعتبار قرار دینے کے مترادف ہے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات پر اعتماد نہیں ہوگا تو پھر ان کے واسطے سے پہنچنے والا قرآنِ کریم اور ان سے مروی احادیث رسول کا ذخیرہ کیوں کر معتبر ٹھہرے گا؟ اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا منہ

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء دیوبند:

جماعت علماء دیوبند نہ کوئی نیا فرقہ ہے اورنہ ہی وقت و حالات کی پیدا کردہ نئے عقائد و خیالات کی حامل کوئی جماعت بلکہ یہ اہلِ السنت و الجماعت ہی ہیں جن کا مرکز تعلیم دیوبند ہے بہ قول حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قدس سرہؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند:

ان کا واحد نصب العین کتاب و سنت کی روشنی میں امت کو اسی مزاج پر برقرار رکھنا ہے جو مزاج نبی اکرمﷺ نے اپنے فیضانِ صحبت وارشاد سے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تابعین کرام رحمہم اللہ میں اور انہوں نے اپنے ما بعد کے طبقات میں سلسلہ بہ سلسلہ، زمان بہ زمان، مکان بہ مکان پیدا فرمایا تھا۔

اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات کے بارے میں علماءِ دیوبند کا موقف ہی کیا، ان کے کسی بھی عقیدے اور نظریے کو جاننے کے لیے اہلِ السنت و الجماعت کی کوئی بھی مستند و معتبر اور جامع کتاب دیکھ لی جائے اس میں اہلِ السنت و الجماعت کے عقائد، حنفی فقہ و اصولِ فقہ، احسان و تصوف اور تزکیہ اخلاق کے حوالے سے جو کچھ درج ہوگا، وہی علمائے دیوبند کے عقائد و مسائل ہوں گے اور احسان و تصوف ہوگا، انبیاء کرام علیہم السلام، حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ اور امت کے جن جن اولیائے عظامؒ کی علمی قدر و منزلت پر جمہور امت کا اتفاق ہے وہی شخصیات علماء دیوبند کے لیے مثال اورنمونہ ہیں۔

اس لیے ان سطور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے اس کی حیثیت قندِ مکرر کی ہے اور یہ مشک ہے جو مکرر رگڑا جا رہا ہے تاکہ امت اس خوشبو سے معطر ہو اور نجومِ ہدایت پر اہلِ زیغ و ضلالت کے اٹھائے ہوئے غبار کو چھانٹا جا رہا ہے تاکہ گم گشتہ گان راہ اپنی منزل مقصود کا پتہ لگا سکیں،

أصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِأیِّہِمْ اقْتَدَیْتُمُ اہْتَدَیْتُمْ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تاریخی روایات اور علمائے دیوبند:

احوالِ زمانہ سے عبرت حاصل کرنا، انقلاباتِ جہاں سے دنیا کی بے ثباتی کا سبق لے کر فکرِ آخرت کو مقدم رکھنا، اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کا استحضار، انبیاء وصلحائے امت کے احوال سے قلوب کو منور کرنا اور کفار و فجار کے انجام بد سے نصیحت حاصل کرنا وغیرہ فنِ تاریخ کے فوائد ہیں جو واقعات نگاری اور احوالِ ماضیہ کو بیان کرنے کا نام ہے اس لیے اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے، اس کی اہمیت کے لیے تو یہی کافی ہے کہ قصص و تاریخ، قرآنِ کریم کے پانچ علوم میں سے ایک ہے اور اس کا وہ حصہ جس پر حدیثِ نبوی کے صحت و سقم کو پہچاننے کا مدار ہے، اس اہمیت کے باوجود تاریخ کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس سے عقائد کے باب میں استدلال کیا جائے، یا حلال و حرام کی تعیین میں حجت قرار دیا جائے، یا قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت شدہ مسائل میں تاریخی روایات کی بنا پر شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تاریخی روایات کے باب میں علمائے دیوبند کا مؤقف جمہور امت کے مطابق یہ ہے کہ:

صفحہ 1 از 5