صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 5
  1. چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عام افرادِ امت کی طرح نہیں ہیں بلکہ یہ حضرات، رسولِ خداﷺ خلقِ خدا کے درمیان خدا تعالیٰ کا ہی عطاء کیا ہوا ایک واسطہ ہیں، یہ ازروئے قرآن و حدیث ایک خاص مقام رکھتے ہیں اس لیے ان کے مقام کی تعیین تاریخ سے نہیں، قرآن و سنت سے کی جائے گی۔
  2. چونکہ قرآنِ کریم کی دسیوں آیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات مصرح مذکور ہیں اس لیے تاریخی روایات ان کے معارض قطعاً نہیں ہوسکتیں۔
  3. یہ ان احادیثِ صحیحہ ثابتہ کے بھی معارض نہیں ہوسکتیں جن کے جمع و تدوین میں وہ احتیاط برتی گئی ہے جو احتیاط تاریخ میں نہیں کی گئی،

اصول حدیث کے معروف امام ابن صلاح لکھتے ہیں:

وَغَالِبٌ علی الأخبارِیِّیْنَ الْإکْثَارُ وَالتَخْلِیْطُ فِی مَا یَرْوُوْنَہٗ۔

(علوم الحدیث، صفحہ، 263)

مؤرخین میں یہ بات غالب ہے کہ روایاتِ کثیرہ جمع کرتے ہیں جن میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔

4. پھر یہ مسئلہ عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور جمہورِ امت نے کتب عقائد میں اپنے اپنے ذوق کے مطابق مفصل یا مجمل اس کا ذکر کیا ہے اس لیے اس کا مدار قرآن و سنت پر ہی رکھا جا سکتا ہے نہ کہ تاریخ کی خلط ملط روایات پر۔

عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علمائے دیوبند:

عدالت اور عدل کے معنیٰ کی فقہائے محدثین نے مختلف تعبیریں کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ عادل وہ شخص ہے جو مسلمان عاقل بالغ ہو، کبائر سے مجتنب ہو، صغائر پر اصرار نہ کرتا ہو، نیز صغائر کا عادی بھی نہ ہو،

حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ شرح النخبہ میں فرماتے ہیں:

وَالمرادُ بِالْعَدْلِ مَنْ لَہٗ مَلَکَۃٌ تُحَمِّلُہٗ علی ملازمۃِ التقویس والمروۃِ والمرادُ بالتقوی اجتنابُ الأعمالِ السیئۃِ من شرکٍ، أو فسقٍ، أو بدعۃٍ۔

(شرح النخبہ: صفحہ، 24، 25 طبع دیوبند)

عدل سے مراد وہ شخص ہے جسے ایسا ملکہ حاصل ہو جو اسے تقویٰ اور مروت کی پابندی پر برانگیختہ کرے اور تقویٰ سے مراد شرک، فسق اور بدعت جیسے اعمالِ بد سے اجتناب ہے۔

عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے جمہور اہلِ السنت و الجماعت کے شانہ بہ شانہ علمائے دیوبند کا موقف یہی ہے کہ:

اَلصَّحَابَۃُ کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ مَنْ لَابَسَ الْفِتَنَ وَغَیْرُہُم۔

ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب عادل ہیں جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔

علمائے دیوبند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و جلالت میں کسی تفریق کے بھی قائل نہیں کہ کسی کو لائقِ محبت سمجھیں اور کسی کو معاذ اللہ لائقِ عداوت، کسی کی مدح میں رطبُ اللسان رہیں اور کسی کے حق میں تبرائی بن جائیں، ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شرفِ صحبت میں یکساں ہیں البتہ باہم فرقِ مراتب ہے اور یہی جمہور کا قول معتبر ہے۔

والقولُ بِالتَّعْمِیْمِ ہو الذي صَرَّحَ بہ الجُمْہُورُ وہو المعتبر۔ 

(تدریب الراوی: صفحہ، 400)

پھر علماء دیوبند ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی تو بہت دور کی بات رہی کسی ادنیٰ سی ایسی بات کو بھی روا نہیں رکھتے جو ان کے منصب و عظمت کے شایانِ شان نہ ہو اس لیے اگر کوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں یوں ہرزہ سرائی کرتا ہے کہ: کچھ صحابہ فاسق ہیں جیسا کے ولید بن عقبہ اور اسی کے مثل کہا جائے گا معاویہؓ، عمروؓ، مغیرہ اور شعبہ کے حق میں۔ کہ معاذ اللہ وہ بھی فاسق ہیں۔

(نزل الابرار: جلد، 2 صفحہ، 96)

یا کوئی اپنے قلب کا ضلال یوں ظاہر کرتا ہے:

عائشہ سیدنا علیؓ سے لڑکر مرتد ہوئی اگر بے توبہ مری تو کافر مری (العیاذ باللہ) اور صحابہ کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں ہم کو سب کی حدیثیں یاد ہیں، صحابہ سے ہمارا علم بڑا ہے صحابہ کو علم کم تھا۔

(کشف الحجاب: صفحہ، 21)

یا کوئی یوں زبان تنقیص دراز کرتا ہے:

ان میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے تھے اور فی الواقع تھے جن کے اندر تزکیہ نفس کی اس بہترین تربیت کے باوجود کسی نہ کسی پہلو میں کوئی کمزوری باقی رہ گئی تھی، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادب کا کوئی لازمی تقاضہ بھی نہیں ہے کہ اس کا انکار کیا جائے۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ، 283)

یا کسی کی ہفوات کا ظہور یوں ہوتا ہے:

عثمانؓ، معاویہؓ اور یزید، سب ایک ہی درجے کے ظالم و مجرم تھے، بقیہ صحابہ یا تو شیخین کے گروپ کے تھے اور اقتدار تک پہنچنے کے ان کے مقصد کی تکمیل میں شریک بن گئے تھے، یا وہ شیخین اور ان کے حامیوں سے خائف تھے، شیخین کے خلاف کوئی بات زبان پر لانے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔

(مزید دیکھیے، خمینی، کشف الاسرار: صفحہ، 112، 120)

تو اس قسم کی تمام تر ہرزہ سرائیوں سے علمائے دیوبند بلکہ تمام اہلِ السنت و الجماعت نہ صرف یہ کہ اظہارِ برأت اور ان کی مذمت کرتے بلکہ اس طرح کے خیالات رکھنے والوں کے اسلام کو مشکوک مانتے اور اس ہرزہ سرائی کو زندقہ گردانتے ہیں اور فرمان رسول اللہﷺ:

إذَا رَأَیْتُمُ الذینَ یَسُبُّوْنَ أَصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی شَرِّکُمْ۔

(جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 491)

ترجمہ: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہتے ہیں تو تم کہہ دو کہ خدا کی لعنت ہو اس پر جو تم میں بدتر ہے۔ قرآن کی روشنی میں ایسے لوگوں کو مستحقِ لعنت شمار کرتے ہیں، امام مسلمؒ کے استاذ امام ابوزرعہ عراقی فرماتے ہیں:

جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے؛ اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہﷺ حق ہیں، قرآن حق ہے، قرآن و سنت ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حق ہیں، یہ تنقیص کرنے والے، ہمارے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل کریں لہٰذا خود ان کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے، یہ زندیق ہیں۔ 

(الکفایہ، خطیب بغدادی: صفحہ، 49 حیدرآباد، دکن)

صفحہ 2 از 5