صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 5

الغرض علمائے دیوبند اور تمام اہلِ السنت و الجماعت کے نزدیک عدالتِ صحابہ کے مسئلہ پر امت کا اجماع ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی قطعاً کوئی راہ نہیں، پھر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ لفظ ’’سب‘‘ عربی زبان کے اعتبار سے صرف فحش کلامی اور گالی گلوچ کو ہی نہیں کہتے بلکہ ہر ایسا کلام جس سے کسی کی تنقیص و توہین یا دل آزاری ہوتی ہے وہ لفظ ’’سبّ‘‘ میں داخل ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم نہیں:

عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مسئلے میں مذکورہ بالا وسعت اور عموم کے باوجود ہم ان کو معصوم نہیں کہتے البتہ انہیں محفوظ من اللہ مانتے ہیں جو ولایت کا انتہائی مقام ہے جس میں بشاشتِ ایمان، جوہرِ نفس بن جاتی ہے اور تقویٰ باطن ہمہ وقت مذکِّر رہتا ہے، اس میں امکان معصیت رہتا ہے اور معصیت کا صدور ہوا بھی ہے لیکن اس میں تقاضائے بشری اور بیرونی عوارض کار فرما رہے دواعی قلب کا دخل نہ رہا تھا اوراس صدورِ معصیت سے ان کی باطنی بزرگی اور باطنی تقویٰ کو جس کی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے متہم نہیں کیا جاسکتا۔

وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌۔

(سورة الفتح: آیت، 26)

ایک شبہ کا ازالہ:

البتہ یہاں ایک خلجان دل میں پیدا ہوسکتا ہے، وہ یہ کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چھوٹے بڑے سب کے سب صرف روایت حدیث میں نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں عادل ہیں اور عدالت کے مفہوم میں کبائر شرک و فسق اور بدعت وغیرہ سے اجتناب شامل ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم بھی نہیں، ان سے صدور معصیت ہوا ہے جس پر آپﷺ نے حدود بھی جاری فرمائی ہیں، تو پھر ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر عدالت کا مفہوم کیوں کر صادق آ سکتا ہے؟

اس سلسلے میں علمائے دیوبند اور اہلِ السنت و الجماعت کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ بعض صحابہ سے معصیت کا صدور ہوا لیکن معصیت، عدالت کے لیے نقصان دہ اس وقت ہے جب کہ اس سے توبہ نہ کی گئی ہو یا اللہ تعالیٰ نے از خود معاف نہ کر دیا ہو اور امت کے عام افراد کے حق میں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ان کے گناہ کی معافی ہوئی یا نہیں اس لیے جب تک وہ توبہ نہ کرلیں اور توبہ پر ثابت قدمی ظاہر نہ ہو جائے ان کو ساقط العدالت ہی مانا جائے گا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ:

1: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب میں جو خوف و خشیت اور معاصی سے تنفر راسخ ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ گمان رکھیں کہ انہوں نے ضرور توبہ کرلی ہوگی اور بعض کا توبہ کرنا قطعی دلائل سے معلوم بھی ہے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف زبانی توبہ پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کوئی اپنے آپ کو رجم جیسی سخت ترین سزا کے لیے پیش کر دیتا ہے، کوئی اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتا ہے اور جب تک قبولِ توبہ کا اطمینان نہیں ہو جاتا اس کو صبر نہیں آتا۔

2: ہمارا خیال ہے کہ ان کے حسنات، دینِ متین کے تئیں ان کی قربانیاں اور ان کی رسول اللہ سے محبت و نصرت اتنی عظیم اور بھاری ہے کہ عمر بھر کا ایک آدھ گناہ وعدہ الہیٰ کے مطابق معاف ہوہی گیا ہوگا۔

اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ‌الخ۔

(سورۃ ھود: آیت، 114)

3: یہ ہمارا محض خیال نہیں ہے یہ قرآنِ کریم کی ایک سے زائد آیات سے مؤید اور تصدیق شدہ ہے کہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کسی خاص جماعت کے لیے خاص اور کہیں سابقین و آخرین تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے عام اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے، بیعتِ حدیبیہ میں شریک تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں قرآنِ کریم کا یہ واضح اعلان ہے:

لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت، 18)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔

سابقین و آخرین تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اعلان کیاگیا:

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت، 100) 

اور مہاجرین اور انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی اتباع کی اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔

سورۃ الحدید میں ارشادِ باری ہے:

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ الخ۔

(سورۃ الحدید: آیت، 10)

اللہ نے ان میں سے ہر ایک سے حسنیٰ کا وعدہ کرلیا ہے پھر سورۃ الانبیاء میں حسنیٰ کے متعلق یہ ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ۞

(سورۃ الانبیاء: آیت، 101)

جن کے لیے ہماری طرف سے حسنیٰ مقدر کردی گئی وہ جہنم سے دور کیے جائیں گے۔

جب ان آیاتِ قرآنیہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغزشوں کی معافی واضح طور پر معلوم ہوگئی تو ان کو کسی وقت بھی کسی معاملے میں ساقط العدالت یا فاسق نہیں کہاجا سکتا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے غیر معصوم ہونے اور ان کے عادل ہونے میںجو ایک ظاہری شبہ ہوا کرتاہے اس کا جواب جمہورِامت کے نزدیک یہی ہے جو بالکل واضح اور صاف ہے۔

مشاجراتِ صحابہ اور علمائے دیوبند:

صفحہ 3 از 5