صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 5

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین جو اخلافات رونما ہوئے اور خون ریز جنگوں تک کی نوبت آ گئی ان اختلافات کو علمائے امت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشاجرات کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، جنگ و جدال کی تعبیر سے گریز کرتے ہیں کہ اس میں یک گونہ ان کے تئیںسوء ادب ہے، مشاجرہ کے معنیٰ از روئے لغت ایک درخت کی شاخوں کا دوسرے میں داخل ہونا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ درختوں کے لیے باعثِ زینت ہے نہ کہ عیب، اس طرح علمائے امت اس اختلاف کی تعبیر سے ہی یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وہ اختلافات جو اپنی انتہاء کو پہنچ گئے تھے اور جس میں وہ باہم برسرِ پیکار بھی ہوگئے، وہ اختلافات بھی کوئی نقص و عیب نہیں بلکہ زینت وکمال ہیں۔

مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں باعثِ تشویش یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق، جب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واجب الاحترام اور لائق تعظیم ہیں اور کسی ایک کے حق میں بھی ادنیٰ سے ادنیٰ سوء ادب کی گنجائش نہیں تو پھر اختلاف کے موقع پر یہ احترام کیسے قائم رہ سکتا ہے کیونکہ ان اختلافات میں ایک فریق کا حق پر اور دوسرے فریق کا خطا پر ہونا بدیہی ہے بلکہ ایمان و عقیدے کے لیے اہلِ حق اور اربابِ خطاء کی تعیین ضروری بھی ہے تو جو خطا پر ہیں ان کی تنقیص ایک لازمی امر ہے۔

مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس شبہ کے سلسلے میں علمائے امت اور علمائے دیوبند کا دوٹوک مؤقف یہ ے کہ باجماعِ امت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واجب التعظیم ہیں، اسی طرح اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل و جنگِ صفین میں سیدنا علیؓ حق پر تھے اور ان سے مقابلہ کرنے والے سیدنا معاویہؓ وغیرہ خطا پر لیکن ان کی خطا اجتہادی تھی جو شرعاً گناہ نہیں کہ جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے عتاب کے مستحق قرار پائیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ جب انہوں نے اصولِ اجتہاد کی رعایت کرتے ہوئے اپنی وسعت بھر تمام تر کوشش کی پھر بھی خطا ہوگئی تو وہ ایک اجر کے حق دار ہوں گے، اس طرح خطا وصواب بھی واضح ہوگیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبے پر کوئی آنچ بھی نہیں آئی، ہمارے خیال میں مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورۃ الحجرات کی آیت وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا الخ۔

(سورۃ الحجرات: آیت، 9)

کے ذیل میں اہلِ السنت و الجماعت کے مسلک کی بہترین تحقیق فرمائی ہے، اس کا مطالعہ کر لینا ہی چاہیئے، یہ سطور اس تفصیل کی متحمل نہیں۔

تاہم مفسر موصوف کے ایک استدلال کا خلاصہ نقل کر دینا مناسب ہوگا جو ان شاء اللہ بیمار دلوں کے لیے سامانِ شفاء ہوگا۔

مفسر موصوفؒ نے اس نظریے کو مدلل کرتے ہوئے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی گناہ اور فسق و فجور کا مرتکب نہیں تھا، سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ اور سیدنا عمارؓ سے متعلق ارشاداتِ نبویﷺ بیان فرمائے ہیں، جس کا ماحصل یہ ہے:

نبی اکرمﷺ نے سیدنا طلحہٰؓ کے بارے میں فرمایا ہے: سیدنا طلحہٰؓ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں اور سیدنا زبیرؓ کے بارے میں خود سیدنا علیؓ سے یہ حدیث مروی ہے سیدنا زبیرؓ کا قاتل جہنم میں ہے سیدنا علیؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو اور یہ دونوں حضرات ان عشرہ مبشرہ میں ہیں جن کے نام لے کر جنتی ہونے کی خبر حضورﷺ نے دی ہے، پھر یہ بھی معلوم ہے کہ ان دونوں حضرات نے سیدنا عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کیا تھا، سیدنا علیؓ سے مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے۔

دوسری طرف سیدنا عمار بن یاسرؓ ہیں، سیدنا علیؓ کے طرف دار ہیں آپؓ کے مخالفین سے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور نبی اکرمﷺ نے ان کی شہادت کی بھی پیشین گوئی فرمائی ہے۔

جب حال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کے طرف دار بھی شہید اور مخالفین بھی شہید، تو پھر کیسے کسی فریق کو گناہ گار یا فاسق کہا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان تمام حضرات کے پیش نظر رضاء الہیٰ کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا، دونوں کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہ تھا؛ بلکہ اجتہاد ورائے کی بنا پر تھا جس پر کسی بھی فریق کو مجروح و مطعون نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کنارہ کش رہے وہ بھی اجتہاد کی بنا پر اس لیے وہ بھی نقص وعیب سے مبرا اور واجبُ التعظیم ہیں۔

پھر علمائے دیوبند کے نزدیک سب سے اہم سکوت اور کفِّ لسان ہے اور سیدنا حسن بصریؒ کا یہ قول ان کے لیے اسوہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:

یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملے پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔

(قرطبی سورۃ الحجرات)

خلاصہ کلام:

الغرض! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کتاب و سنت کی روشنی میں اس امت کے افضل ترین اور مقدس ترین افراد ہیں، ان کے قلوب صاف اور وہ عنداللہ راضی و مرضی ہیں، وہ سب کے سب عادل، متقن اور پاک باطن ہیں، امت کا کوئی بڑے سے بڑا ولی ان میں سے ادنیٰ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا، وہ حق و باطل کی کسوٹی ہیں اور تنفید سے بالاتر ان کی محبت، اللہ اور رسول اللہ کی محبت ہے اور ان سے بغض اللہ اور اللہ کے رسول سے بغض، ان کی عیب جوئی اوران کے مشاجرات کو اُچھالنا زیغِ باطن کی علامت اور زندقہ ہے، ان کے اختلافات حق و باطل کے نہیں، اجتہادی خطا وصواب کے ہیں اس لیے ان پر معصیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

ان سطور کو سرخیلِ جماعت دیوبند شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن قدس سرہ کے تلمیذِ رشید، استاذِ محترم حضرت مولانا فخر الدین سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کے ایک قول پر ختم کیا جاتا ہے، حضرت فرمایا کرتے تھے:

صفحہ 4 از 5