Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا معاويہ بن أبي سفيان ؓ سیدنا علی ؓ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

  کیا معاويہ بن أبي سفيان رضي الله عنہ سیدنا علی رضي الله عنہ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  یہ تحریر اپنے پاس محفوظ کر لیں ہمیشہ کام آئے گی

 ایک کہاوت ہے
 "سچ سچ ہے ، یہ آگ میں نہیں جلتا اور نہ ہی پانی میں ڈوبتا ہے۔"
یعنی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ انسان کسی کو کتنا دھوکہ دینا چاہتا ہے اور چیزوں کی اصل حالت اس سے چھپا سکتا ہے ، جلد یا بدیر ایک نہ ایک دن سچائی آپ کے سامنے آ کر رہے گی۔

جھوٹ, دھوکہ اور پروپیگنڈہ کوئی شک نہیں اس سے بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ فائدہ مستقل نہیں ہوتا بلکہ کچھ عرصہ تک کے لیے ہوتا ہے۔

دنیا کی کوئی طاقت حق کو شکست نہیں دے سکتی خواہ کچھ بھی ہو جائے یہ اللہ کا قانون ہے۔  اندھیرا چاہے کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے بالآخر جب وہ اپنی پوری قوت کا استعمال کر لینے کے بعد بے بس ہو جاتا ہے تونہ صرف اسے سورج کے سامنے سے پسپا ہونا پڑتا ہے بلکہ سورج کی روشنی اسے ایسے پھاڑ کر نکلتی ہے کہ اندھیرے کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو جاتی ہے۔قانون فطرت یعنی اللہ کا قانون یہ ہے کہ پہلے مخالف کو پورا موقع دیا جاتا ہے جب وہ اپنی پوری قوت لگا لے اس کے بعد اس کو اپنی قوت دکھائی جاتی ہے جس کا سامنا وہ نہیں کر سکتا۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی اسی طرح کی پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی۔
اور انکو بدنام کرنے کے لیے صحیح مسلم حدیث نمبر 6220 میں عربی لفظ "سب" کا ترجمہ گالیاں کیا گیا۔
اور اسکی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جسکی وجہ سے کئی لوگ اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے کہ سیدنا معاویہؓ تو سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواتے تھے۔

اس پروپیگنڈے سے عوام کو نکالنے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ انکے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ عربی لفظ "سب" کا معانی صرف گالی نہیں ہوتا بلکہ اسکے کئی اور معانی بھی ہیں جیسے
1⃣: سب کا معانی ڈانٹنا
2⃣: سب کا معانی موقف پر تنقید
3⃣: سب کا معانی کسی بات پر اختلاف
4⃣: سب کا معانی عار دلانا بھی ہوتا ہے
کہاں کونسا معانی استعمال ہوگا اس کے لیے ہمیں واقعہ کا سیاق و سباق دیکھنا پڑے گا پھر ہی سب کا ترجمہ کریں گے ورنہ اگر ہر جگہ سب کا ترجمہ گالیاں کر دیا جائے تو ایسی روایات بھی ہیں جہاں سب کا ترجمہ گالیاں کرنے پر ہم ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

 دلیل نمبر:1

 صحیح مسلم 5947 میں آتا ہے

 فَسَبَّهُمَا" النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

 2 افراد پر ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے "سب" کیا۔
اب یہاں کیا کوئی سب کا معانی گالیاں کر سکتا ہے؟ نعوذ باللہ
نہیں بلکہ واقعہ یوں یے کہ نبیﷺ نے تبوک کے سفر پر حکم دیا تھا کہ جو کوئی بھی اگر تبوک کے پانی کے چشمے پر سب سے پہلے پہنچے تو پانی کو ہاتھ نہیں لگانا جب تک میں نہ آ جاؤں لیکن ہوا یوں کہ دو افراد جو وہاں سب سے پہلے پہنچے انہوں نے پانی کو ہاتھ لگا دیا پھر جب نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ نے ان دو افراد سے کہا کہ کیا تم نے پانی کو ہاتھ لگایا؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپﷺ نے ان دونوں پر "سب" کیا

اب یہاں کوئی سب کا معانی گالی کرے گا یا لعنت کرے گا؟ ہرگز نہیں کیوں کہ کوئی بھی ایسا گمان نبی ﷺ کے متعلق نہیں کر سکتا کہ انکو گالیاں دی ہوں گی معاذ اللہ 
بلکہ ظاہر سی بات ہے ان دو افراد کو جو برا بھلا کہا یعنی سب کیا۔ اس سب سے مراد آپﷺ نے  یہی سب کیا ہوگا کہ ان پر تنقید کی ہوگی ڈانٹ دیا ہوگا کہ میں نے تم کو کہا تھا کہ میرے آنے تک پانی کو ہاتھ نہیں لگانا تم نے ایسا کیوں کیا بس آپﷺ نے انہیں ڈانٹ دیا ہوگا اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہوگا۔

 دلیل نمبر:2  

 1: صحیح بخاری حدیث نمبر 7305 میں آتا ہے۔

اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ ،اسْتَبَّا

سیدنا علیؓ اور سیدنا عباس دونوں نے ایک دوسرے پر سب کر رہے تھے۔

2⃣: صحیح بخاری حدیث نمبر 4033 میں مزید واضح الفاظ ہیں

فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ , وَعَبَّاسٌ

علیؓ اور عباسؓ نے ایک دوسرے پر سب کیا۔

اب کیا کوئی یہاں ترجمہ کرے گا کہ دونوں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے؟ (نعوز باللہ)
صحیح مسلم 6220 میں تو فورآ سب کا معانی گالیاں کر دیا جاتا ہے تو یہاں کیا مسئلہ ہے؟ 
صحیح مسلم 6220 میں سب کا معانی گالیاں کرنا جبکہ دیگر تمام روایات میں جہاں جہاں سب کا لفظ موجود ہے ادھر معانی تنقید کرنا اور اختلاف کرنا یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

 سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ کا واقعہ بھی کچھ یوں ہے کہ باغ فدک کا مسئلہ تھا اس پر سیدنا علیؓ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے درمیاں اختلاف شدید ہو گیا تو فیصلہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا تو وہاں دونوں ایک دوسرے کے موقف پر تنقید کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے موقف کا رد کر رہے تھے دونوں اپنے موقف کو درست اور دوسرے کے موقف کو غلط کہ رہے تھے بس یہی ترجمہ ہوگا سب کا یہاں اسکے علاوہ اسکا اگر کوئی ترجمہ کرے گا تو وہ جاہل ہی ہوگا۔

  دلیل نمبر :3

صحیح بخاری 6141 میں آتا ہے کہ

فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ، فَسَبَّ

سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر والوں پر “سبّ” کیا ۔

کیا یہاں اب کوئی سب کا یہ ترجمہ کرے گا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے گھر والوں پر لعنت کی اور گالیاں دیں؟

نہیں بلکہ واقعہ یوں ہے کہ سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  بہت مہمان نواز تھے انکے گھر مہمان آئے ہوئے تھے وہ انکو گھر چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے شام کو واپس آتے ہی پوچھا کیا مہمانوں کو کھانا کھلا دیا؟
گھر والے کہنے لگے ہم نے پوچھا تھا انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا کہ ہم نے نہیں کھانا تو پھر ہم نے دیا ہی نہیں
 تو اس بات سے سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور گھر والوں پر "سب' کیا اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے گھر والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ آپ لوگوں نے غلط کیا، وہ تو مہمان ہیں، تکلف میں پڑ گئے مہمان تو ویسے ہی کہہ دیتے ہیں ہم نے نہیں کھانا لیکن آپ نےبھی انہیں کھانا نہیں دیا، اس حدیث میں بھی لفظ”سبّ” ہے،اس کا معنی یہاں لعنت یا گالی گلوچ نہیں بس گھر والوں پر تنقید ہے یا انہیں ڈانٹنا اسکے علاوہ اور کوئی ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔

 دلیل نمبر :4

1: صحیح بخاری 2411  میں ہے

اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ

مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے پر ”سبّ” کیا 

2⃣: صحیح مسلم 4659 میں اسطرح ہے

فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ

مسلمان, یہودی اور ایک مشرک ان تینوں نے ایک دوسرے پر سب کیا۔

 اب غور کریں یہاں بھی بلکل یہی لفظ ہے "سب" کیا
اب یہاں کیا ترجمہ گالیاں کر دیں؟
نہیں بلکہ ادھر بھی حالات و واقعات دیکھنا ہوں گے۔

یہاں جو ”سبّ” ہے ؟اس کی وضاحت حدیث میں ان الفاظ میں ہے۔

قَالَ المُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى العَالَمِينَ، فَقَالَ اليَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى العَالَمِينَ ،

مسلمان کہنے لگا کہ مجھے اس رب کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے،جب کہ یہودی نے کہا مجھے اس ذات کی قسم کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام کوجہانوں پر فضیلت دی ۔

یہ جو دو جملے ایک مسلمان کا اور دوسرا یہودی کا، یہودی نے مسلمان کےجملے پر “سبّ” کیا ہے،اختلاف کرتے ہوئے اس کے خلاف جملہ بولا ہےلہذا حدیث نے ہم کو یہ بتایا کہ بسااوقات”سبّ” کا معنی نقد اور تنقید یا اختلاف بھی ہوتا ہے، اب اگر یہاں “سبّ”کا معنی گالی گلوچ یا لعنت کریں تو حدیث اس کا مکمل ردّ کرتی ہے۔

دلیل نمبر:5

صحیح بخاری حدیث نمبر 6361 میں آتا ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی

اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ  ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ   

اے اللہ جس کو میں نے "سب" کیا ہو یعنی برا بھلا کہ دیا ہو قیامت کے دن اسے اسکے لیے قربت کا ذریعہ بنا دے۔

اب یہاں بھی سب کا لفظ استعمال ہوا ہے تو کیا کوئی سوچ سکتا ہے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب کرنا برا بھلا کہنا کیا گالیاں تھا؟ نعوذ باللہ

 دلیل نمبر:6

صحیح بخاری حدیث نمبر 989 میں ہے:
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال کو سب کیا۔

عَبْدُ اللهِ: فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ

اب یہاں بھی واضح لفظ ہے "سب" کا لیکن ہم ترجمہ یہ نہیں کریں گے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال کو گالیاں دی کیوں کہ پہلے ہم ادھر بھی مسلہ دیکھیں گے کہ آخر واقعہ کیا یے وہ کیوں سب کر رہے ہیں کیا وجہ ہے۔
وہ وجہ اسی حدیث میں یے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر تمہاری عورتیں مسجد جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں مت روکو۔
اس پر بلال کہنے لگا ہم تو ضرور روکیں گے۔
تب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسکو سب کیا۔
اب وہ سب کیا تھا؟ اس سب کی وضاحت صحیح مسلم کی حدیث نمبر 992 میں ہی آ گئی کہ یہاں سب سے مراد ہے ڈانٹنا۔
کیوں کہ بخاری حدیث 992 میں ہے

قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا ۔
یہاں بھی ثابت ہوا کہ جو سب کیا گیا وہ ڈانٹنا تھا

  دلیل نمبر 7 

صحیح مسلم 4664 میں آتا ہے۔
محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جب کعب بن اشرف سے قرض مانگا تو اس نے کہا اپنی اولاد گروی رکھوا دو تو محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔

قَالَ لَهُ: تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، قَالَ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ

ہماری اولاد کو عار دلائی جائے گی کہ یہ وہی ہے جسے کھجوروں کے عوض گروی رکھوا دیا گیا تھا۔
یہاں بھی عربی لفظ سب کا استعمال ہوا ہے کہ ہمارے بچوں کو لوگ سب کریں گے وہ سب کیا ہوگا وہ گالیاں نہیں بلکہ شرم دلانا ہوگا طعنہ دینا ہوگا جیسا اوپر محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:

قَالَ لَهُ: تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، قَالَ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ

ہماری اولاد کو عار دلائی جائے گی کہ یہ وہی ہے جسے کھجوروں کے عوض گروی رکھوا دیا گیا تھا
پس یہاں سب کا معانی طعنہ یا عار دلانا ثابت ہوتا ہے

 صحیح مسلم 6220 میں بھی بلکل یہی چیز ہے کہ قصاص عثمان کا مسلہ تھا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ سے کہا آپ قصاص عثمان پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف کیوں نہیں کرتے یعنی انکے اس موقف پر تنقید کیوں نہیں کرتے۔
بس یہ ترجمہ بنتا تھا اسکا یہاں کیوں کہ جب ہم اوپر بیان کی گئی تمام روایات میں سب کا ترجمہ گالی نہیں کر سکتے۔
بلکہ مسلہ دیکھ کر اس کے حساب سے ترجمہ کر رہے ہیں تو یہاں بھی تو قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کا مسلہ یے اسے ہم کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

امام نووی رحمہ اللہ جنہوں نے صحیح مسلم کے باب قائم کیے ہیں وہ بھی یہی ترجمہ کر کے گئے ہیں کہ یہاں صحیح مسلم:6220 میں سب سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف کرنا ہے۔

ناقابل تردید ثبوت

مرزا نے صرف صحیح مسلم 6220 میں ہی یہ حرکت نہیں کی بلکہ یہی حرکت صحیح مسلم 6488 میں بھی کر رکھی یے

 مرزا جہلمی نے اپنی اس وڈیو لنک

کے وقت 01:24 پر صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6488 کا حوالہ دیا اور ترجمہ کر دیا:
حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان جھگڑا ہوا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوفؓ کو "گالیاں" دیں

یہاں بھی مرزا نے

فَسَبَّهُ خَالِدٌ

یعنی خالد نے سب کیا کا ترجمہ خالد رضی اللہ عنہ نے گالیاں دینا کیا ہے۔

ہم اس پر بس اتنا کہ سکتے ہیں

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ 


کیسے ایک صحابی رسولﷺ پر یہ بدبخت گالیاں نکالنے کا الزام لگا رہا ہے۔

حالانکہ مسند احمد حدیث نمبر 11523 سندہ صحیح میں ہے کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان جھگڑا ہوا اور سیدنا خالد بن ولیدؓ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا 
"تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے"
بس یہ وہ الفاظ تھے جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہے تھے جسے مرزا نے "گالیاں" بنا دیا
انصاف کا اگر خون نہیں ہو گیا تو بتائیں کہ ان الفاظ میں کسی گالی کا ذکر ہے؟

ہم آپکو بتاتے ہیں کہ مرزا نے یہاں سب کا ترجمہ گالی کیوں کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ جو جملہ کہا گیا وہ مسند احمد میں بھی موجود یے پھر بھی ترجمہ گالیاں کیا اسکے 2 بڑے مقاصد تھے۔

1: فتح مکہ کے بعد ہونے والے مسلمانوں اور فتح مکہ سے پہلے ہونے والے مسلمانوں میں یہ فرق ثابت کر سکے کہ بعد والے تو اسطرح کے تھے گالیاں دینے والے فحش گو(معاذاللہ)

2: دوسرابڑا  مقصد چونکہ مرزا اوپر صحیح مسلم 6220 کا ترجمہ گالیاں کر آیا تھا  یہاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گالیاں دینے پر یہ وہ حدیث پڑھتا ہے میرے صحابہ کو برا مت کہو پھر کہتا یے دیکھو سیدنا خالد بن ولید رضی لہ عنہ نے گالیاں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ میرے صحابہ کو برا مت کہو تو جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے اور دلواتے ہوں گے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے ناراض ہوں گے؟

اب یہاں اسکی یہ پھینکی گئی رسیاں عام عوام کو سانپ نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
حالانکہ کہ نہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے گالیاں دینا یا دلوانا ثابت ہے اور نہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا گالیاں دینا ثابت یے جیسا کہ اوپر ثابت کر چکے ہیں بس
یہ ساری ڈاکٹرائن مرزا نے خود ہی گھڑ لی اور عوام کو سنا دی۔

ہم اللہ کے فضل سے اوپر تفصیل سے ایک ایک چیز ثابت کر چکے ہیں۔
اور ساری کی ساری مثالیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ہی پیش کی ہیں۔
ہمارے پاس اور بھی کئی احادیث سے عربی لفظ سب کی مثالیں موجود ہیں جیسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو "سب" کیا
 (بخاری:520)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: 
میں نے جسکو سب کر دیا ہو غصے میں اے اللہ! اسے رحمت بنا دے۔
(ابو داؤد:4659)
یہاں بھی کہیں بھی سب کا ترجمہ گالیاں نہیں ہوگا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔

ساری صورتحال آپ کے سامنے واضح کر دی گئی یے حوالے سارے اسلام 360 اپلیکیشن کے مطابق ہیں انہیں چیک کریں اپنی پوری تسلی کریں پھر کوئی فیصلہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف پروپیگنڈہ سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔


--------------------------------------------------------------------------


ڈاؤن لوڈ