کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ…

کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 3
  کیا معاويہ بن أبي سفيان رضي الله عنہ سیدنا علی رضي الله عنہ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  یہ تحریر اپنے پاس محفوظ کر لیں ہمیشہ کام آئے گی

 ایک کہاوت ہے
 "سچ سچ ہے ، یہ آگ میں نہیں جلتا اور نہ ہی پانی میں ڈوبتا ہے۔"
یعنی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ انسان کسی کو کتنا دھوکہ دینا چاہتا ہے اور چیزوں کی اصل حالت اس سے چھپا سکتا ہے ، جلد یا بدیر ایک نہ ایک دن سچائی آپ کے سامنے آ کر رہے گی۔

جھوٹ, دھوکہ اور پروپیگنڈہ کوئی شک نہیں اس سے بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ فائدہ مستقل نہیں ہوتا بلکہ کچھ عرصہ تک کے لیے ہوتا ہے۔

دنیا کی کوئی طاقت حق کو شکست نہیں دے سکتی خواہ کچھ بھی ہو جائے یہ اللہ کا قانون ہے۔  اندھیرا چاہے کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے بالآخر جب وہ اپنی پوری قوت کا استعمال کر لینے کے بعد بے بس ہو جاتا ہے تونہ صرف اسے سورج کے سامنے سے پسپا ہونا پڑتا ہے بلکہ سورج کی روشنی اسے ایسے پھاڑ کر نکلتی ہے کہ اندھیرے کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو جاتی ہے۔قانون فطرت یعنی اللہ کا قانون یہ ہے کہ پہلے مخالف کو پورا موقع دیا جاتا ہے جب وہ اپنی پوری قوت لگا لے اس کے بعد اس کو اپنی قوت دکھائی جاتی ہے جس کا سامنا وہ نہیں کر سکتا۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی اسی طرح کی پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی۔
اور انکو بدنام کرنے کے لیے صحیح مسلم حدیث نمبر 6220 میں عربی لفظ "سب" کا ترجمہ گالیاں کیا گیا۔
اور اسکی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جسکی وجہ سے کئی لوگ اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے کہ سیدنا معاویہؓ تو سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواتے تھے۔

اس پروپیگنڈے سے عوام کو نکالنے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ انکے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ عربی لفظ "سب" کا معانی صرف گالی نہیں ہوتا بلکہ اسکے کئی اور معانی بھی ہیں جیسے
1⃣: سب کا معانی ڈانٹنا
2⃣: سب کا معانی موقف پر تنقید
3⃣: سب کا معانی کسی بات پر اختلاف
4⃣: سب کا معانی عار دلانا بھی ہوتا ہے
کہاں کونسا معانی استعمال ہوگا اس کے لیے ہمیں واقعہ کا سیاق و سباق دیکھنا پڑے گا پھر ہی سب کا ترجمہ کریں گے ورنہ اگر ہر جگہ سب کا ترجمہ گالیاں کر دیا جائے تو ایسی روایات بھی ہیں جہاں سب کا ترجمہ گالیاں کرنے پر ہم ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

 دلیل نمبر:1

 صحیح مسلم 5947 میں آتا ہے

 فَسَبَّهُمَا" النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

 2 افراد پر ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے "سب" کیا۔
اب یہاں کیا کوئی سب کا معانی گالیاں کر سکتا ہے؟ نعوذ باللہ
نہیں بلکہ واقعہ یوں یے کہ نبیﷺ نے تبوک کے سفر پر حکم دیا تھا کہ جو کوئی بھی اگر تبوک کے پانی کے چشمے پر سب سے پہلے پہنچے تو پانی کو ہاتھ نہیں لگانا جب تک میں نہ آ جاؤں لیکن ہوا یوں کہ دو افراد جو وہاں سب سے پہلے پہنچے انہوں نے پانی کو ہاتھ لگا دیا پھر جب نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ نے ان دو افراد سے کہا کہ کیا تم نے پانی کو ہاتھ لگایا؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپﷺ نے ان دونوں پر "سب" کیا

اب یہاں کوئی سب کا معانی گالی کرے گا یا لعنت کرے گا؟ ہرگز نہیں کیوں کہ کوئی بھی ایسا گمان نبی ﷺ کے متعلق نہیں کر سکتا کہ انکو گالیاں دی ہوں گی معاذ اللہ 
بلکہ ظاہر سی بات ہے ان دو افراد کو جو برا بھلا کہا یعنی سب کیا۔ اس سب سے مراد آپﷺ نے  یہی سب کیا ہوگا کہ ان پر تنقید کی ہوگی ڈانٹ دیا ہوگا کہ میں نے تم کو کہا تھا کہ میرے آنے تک پانی کو ہاتھ نہیں لگانا تم نے ایسا کیوں کیا بس آپﷺ نے انہیں ڈانٹ دیا ہوگا اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہوگا۔

 دلیل نمبر:2  

 1: صحیح بخاری حدیث نمبر 7305 میں آتا ہے۔

اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ ،اسْتَبَّا

سیدنا علیؓ اور سیدنا عباس دونوں نے ایک دوسرے پر سب کر رہے تھے۔

2⃣: صحیح بخاری حدیث نمبر 4033 میں مزید واضح الفاظ ہیں

فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ , وَعَبَّاسٌ

علیؓ اور عباسؓ نے ایک دوسرے پر سب کیا۔

اب کیا کوئی یہاں ترجمہ کرے گا کہ دونوں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے؟ (نعوز باللہ)
صحیح مسلم 6220 میں تو فورآ سب کا معانی گالیاں کر دیا جاتا ہے تو یہاں کیا مسئلہ ہے؟ 
صحیح مسلم 6220 میں سب کا معانی گالیاں کرنا جبکہ دیگر تمام روایات میں جہاں جہاں سب کا لفظ موجود ہے ادھر معانی تنقید کرنا اور اختلاف کرنا یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

 سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ کا واقعہ بھی کچھ یوں ہے کہ باغ فدک کا مسئلہ تھا اس پر سیدنا علیؓ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے درمیاں اختلاف شدید ہو گیا تو فیصلہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا تو وہاں دونوں ایک دوسرے کے موقف پر تنقید کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے موقف کا رد کر رہے تھے دونوں اپنے موقف کو درست اور دوسرے کے موقف کو غلط کہ رہے تھے بس یہی ترجمہ ہوگا سب کا یہاں اسکے علاوہ اسکا اگر کوئی ترجمہ کرے گا تو وہ جاہل ہی ہوگا۔

  دلیل نمبر :3

صحیح بخاری 6141 میں آتا ہے کہ

فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ، فَسَبَّ

سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر والوں پر “سبّ” کیا ۔

کیا یہاں اب کوئی سب کا یہ ترجمہ کرے گا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے گھر والوں پر لعنت کی اور گالیاں دیں؟

صفحہ 1 از 3