کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ…

کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 3

نہیں بلکہ واقعہ یوں ہے کہ سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  بہت مہمان نواز تھے انکے گھر مہمان آئے ہوئے تھے وہ انکو گھر چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے شام کو واپس آتے ہی پوچھا کیا مہمانوں کو کھانا کھلا دیا؟
گھر والے کہنے لگے ہم نے پوچھا تھا انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا کہ ہم نے نہیں کھانا تو پھر ہم نے دیا ہی نہیں
 تو اس بات سے سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور گھر والوں پر "سب' کیا اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے گھر والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ آپ لوگوں نے غلط کیا، وہ تو مہمان ہیں، تکلف میں پڑ گئے مہمان تو ویسے ہی کہہ دیتے ہیں ہم نے نہیں کھانا لیکن آپ نےبھی انہیں کھانا نہیں دیا، اس حدیث میں بھی لفظ”سبّ” ہے،اس کا معنی یہاں لعنت یا گالی گلوچ نہیں بس گھر والوں پر تنقید ہے یا انہیں ڈانٹنا اسکے علاوہ اور کوئی ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔

 دلیل نمبر :4

1: صحیح بخاری 2411  میں ہے

اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ

مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے پر ”سبّ” کیا 

2⃣: صحیح مسلم 4659 میں اسطرح ہے

فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ

مسلمان, یہودی اور ایک مشرک ان تینوں نے ایک دوسرے پر سب کیا۔

 اب غور کریں یہاں بھی بلکل یہی لفظ ہے "سب" کیا
اب یہاں کیا ترجمہ گالیاں کر دیں؟
نہیں بلکہ ادھر بھی حالات و واقعات دیکھنا ہوں گے۔

یہاں جو ”سبّ” ہے ؟اس کی وضاحت حدیث میں ان الفاظ میں ہے۔

قَالَ المُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى العَالَمِينَ، فَقَالَ اليَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى العَالَمِينَ ،

مسلمان کہنے لگا کہ مجھے اس رب کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے،جب کہ یہودی نے کہا مجھے اس ذات کی قسم کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام کوجہانوں پر فضیلت دی ۔

یہ جو دو جملے ایک مسلمان کا اور دوسرا یہودی کا، یہودی نے مسلمان کےجملے پر “سبّ” کیا ہے،اختلاف کرتے ہوئے اس کے خلاف جملہ بولا ہےلہذا حدیث نے ہم کو یہ بتایا کہ بسااوقات”سبّ” کا معنی نقد اور تنقید یا اختلاف بھی ہوتا ہے، اب اگر یہاں “سبّ”کا معنی گالی گلوچ یا لعنت کریں تو حدیث اس کا مکمل ردّ کرتی ہے۔

دلیل نمبر:5

صحیح بخاری حدیث نمبر 6361 میں آتا ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی

اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ  ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ   

اے اللہ جس کو میں نے "سب" کیا ہو یعنی برا بھلا کہ دیا ہو قیامت کے دن اسے اسکے لیے قربت کا ذریعہ بنا دے۔

اب یہاں بھی سب کا لفظ استعمال ہوا ہے تو کیا کوئی سوچ سکتا ہے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب کرنا برا بھلا کہنا کیا گالیاں تھا؟ نعوذ باللہ

 دلیل نمبر:6

صحیح بخاری حدیث نمبر 989 میں ہے:
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال کو سب کیا۔

عَبْدُ اللهِ: فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ

اب یہاں بھی واضح لفظ ہے "سب" کا لیکن ہم ترجمہ یہ نہیں کریں گے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال کو گالیاں دی کیوں کہ پہلے ہم ادھر بھی مسلہ دیکھیں گے کہ آخر واقعہ کیا یے وہ کیوں سب کر رہے ہیں کیا وجہ ہے۔
وہ وجہ اسی حدیث میں یے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر تمہاری عورتیں مسجد جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں مت روکو۔
اس پر بلال کہنے لگا ہم تو ضرور روکیں گے۔
تب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسکو سب کیا۔
اب وہ سب کیا تھا؟ اس سب کی وضاحت صحیح مسلم کی حدیث نمبر 992 میں ہی آ گئی کہ یہاں سب سے مراد ہے ڈانٹنا۔
کیوں کہ بخاری حدیث 992 میں ہے

قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا ۔
یہاں بھی ثابت ہوا کہ جو سب کیا گیا وہ ڈانٹنا تھا

  دلیل نمبر 7 

صحیح مسلم 4664 میں آتا ہے۔
محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جب کعب بن اشرف سے قرض مانگا تو اس نے کہا اپنی اولاد گروی رکھوا دو تو محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔

قَالَ لَهُ: تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، قَالَ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ

ہماری اولاد کو عار دلائی جائے گی کہ یہ وہی ہے جسے کھجوروں کے عوض گروی رکھوا دیا گیا تھا۔
یہاں بھی عربی لفظ سب کا استعمال ہوا ہے کہ ہمارے بچوں کو لوگ سب کریں گے وہ سب کیا ہوگا وہ گالیاں نہیں بلکہ شرم دلانا ہوگا طعنہ دینا ہوگا جیسا اوپر محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:

قَالَ لَهُ: تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، قَالَ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ

ہماری اولاد کو عار دلائی جائے گی کہ یہ وہی ہے جسے کھجوروں کے عوض گروی رکھوا دیا گیا تھا
پس یہاں سب کا معانی طعنہ یا عار دلانا ثابت ہوتا ہے

 صحیح مسلم 6220 میں بھی بلکل یہی چیز ہے کہ قصاص عثمان کا مسلہ تھا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ سے کہا آپ قصاص عثمان پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف کیوں نہیں کرتے یعنی انکے اس موقف پر تنقید کیوں نہیں کرتے۔
بس یہ ترجمہ بنتا تھا اسکا یہاں کیوں کہ جب ہم اوپر بیان کی گئی تمام روایات میں سب کا ترجمہ گالی نہیں کر سکتے۔
بلکہ مسلہ دیکھ کر اس کے حساب سے ترجمہ کر رہے ہیں تو یہاں بھی تو قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کا مسلہ یے اسے ہم کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

امام نووی رحمہ اللہ جنہوں نے صحیح مسلم کے باب قائم کیے ہیں وہ بھی یہی ترجمہ کر کے گئے ہیں کہ یہاں صحیح مسلم:6220 میں سب سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف کرنا ہے۔

ناقابل تردید ثبوت

مرزا نے صرف صحیح مسلم 6220 میں ہی یہ حرکت نہیں کی بلکہ یہی حرکت صحیح مسلم 6488 میں بھی کر رکھی یے

صفحہ 2 از 3