کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ…

کیا معاويہ بن أبي سفيان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 3 از 3

 مرزا جہلمی نے اپنی اس وڈیو لنک

کے وقت 01:24 پر صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6488 کا حوالہ دیا اور ترجمہ کر دیا:
حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان جھگڑا ہوا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوفؓ کو "گالیاں" دیں

یہاں بھی مرزا نے

فَسَبَّهُ خَالِدٌ

یعنی خالد نے سب کیا کا ترجمہ خالد رضی اللہ عنہ نے گالیاں دینا کیا ہے۔

ہم اس پر بس اتنا کہ سکتے ہیں

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ 


کیسے ایک صحابی رسولﷺ پر یہ بدبخت گالیاں نکالنے کا الزام لگا رہا ہے۔

حالانکہ مسند احمد حدیث نمبر 11523 سندہ صحیح میں ہے کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان جھگڑا ہوا اور سیدنا خالد بن ولیدؓ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا 
"تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے"
بس یہ وہ الفاظ تھے جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہے تھے جسے مرزا نے "گالیاں" بنا دیا
انصاف کا اگر خون نہیں ہو گیا تو بتائیں کہ ان الفاظ میں کسی گالی کا ذکر ہے؟

ہم آپکو بتاتے ہیں کہ مرزا نے یہاں سب کا ترجمہ گالی کیوں کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ جو جملہ کہا گیا وہ مسند احمد میں بھی موجود یے پھر بھی ترجمہ گالیاں کیا اسکے 2 بڑے مقاصد تھے۔

1: فتح مکہ کے بعد ہونے والے مسلمانوں اور فتح مکہ سے پہلے ہونے والے مسلمانوں میں یہ فرق ثابت کر سکے کہ بعد والے تو اسطرح کے تھے گالیاں دینے والے فحش گو(معاذاللہ)

2: دوسرابڑا  مقصد چونکہ مرزا اوپر صحیح مسلم 6220 کا ترجمہ گالیاں کر آیا تھا  یہاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گالیاں دینے پر یہ وہ حدیث پڑھتا ہے میرے صحابہ کو برا مت کہو پھر کہتا یے دیکھو سیدنا خالد بن ولید رضی لہ عنہ نے گالیاں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ میرے صحابہ کو برا مت کہو تو جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے اور دلواتے ہوں گے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے ناراض ہوں گے؟

اب یہاں اسکی یہ پھینکی گئی رسیاں عام عوام کو سانپ نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
حالانکہ کہ نہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے گالیاں دینا یا دلوانا ثابت ہے اور نہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا گالیاں دینا ثابت یے جیسا کہ اوپر ثابت کر چکے ہیں بس
یہ ساری ڈاکٹرائن مرزا نے خود ہی گھڑ لی اور عوام کو سنا دی۔

ہم اللہ کے فضل سے اوپر تفصیل سے ایک ایک چیز ثابت کر چکے ہیں۔
اور ساری کی ساری مثالیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ہی پیش کی ہیں۔
ہمارے پاس اور بھی کئی احادیث سے عربی لفظ سب کی مثالیں موجود ہیں جیسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو "سب" کیا
 (بخاری:520)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: 
میں نے جسکو سب کر دیا ہو غصے میں اے اللہ! اسے رحمت بنا دے۔
(ابو داؤد:4659)
یہاں بھی کہیں بھی سب کا ترجمہ گالیاں نہیں ہوگا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔

ساری صورتحال آپ کے سامنے واضح کر دی گئی یے حوالے سارے اسلام 360 اپلیکیشن کے مطابق ہیں انہیں چیک کریں اپنی پوری تسلی کریں پھر کوئی فیصلہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف پروپیگنڈہ سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔


--------------------------------------------------------------------------


ڈاؤن لوڈ

صفحہ 3 از 3