سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مختصر سوانح و فضائل -…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

سیدنا زین العابدین سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے سیدنا حسینؓ کو باصرار کہا کہ کوفہ والے بے وفا ہیں ان کے پاس نہ جائیں مگر آپؓ نے جانے کا ارادہ ترک نہ فرمایا سیدنا حسینؓ جب کوفہ پہنچے تو 30 ہزار عراقیوں نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن دوسرے ہی روز بیت کرنے والوں نے سیدنا حسینؓ پر تلوار کھینچی اور ہنوز بیعت ان کی گردنوں میں تھی کہ انہوں نے سیدنا حسینؓ کو دمشق جانے والے راستے کربلا کے مقام پر 10 محرم کو نہایت بے دردی اور مظلومیت کے ساتھ ذبح کر دیا اور اسلامی تاریخ کے اوراق پر یہ عظیم حادثہ ثبت ہوگیا۔

معرکہ کربلا میں شہید ہونے والے خاندانِ نبوت کے افراد

سیدنا سعد غلامؓ قنبر غلام سیدنا حسینؓ سیدنا عبداللہ بن عقیل عبدالرحمٰن بن عقیل سیدنا جعفر بن عقیل سیدنا عبداللہ بن مسلم سیدنا محمد بن عبداللہ سیدنا عون بن عبداللہؓ سیدنا ابوبکر بن حسینؓ سیدنا عثمان بن حسنؓ سیدنا عمر بن حسینؓ سیدنا زین العابدین بن حسینؓ علی اکبر بن حسینؓ علی اصغر بن حسینؓ سیدنا عبداللہ بن علیؓ سیدنا جعفر بن علیؓ عبداللہ بن حسن محمد بن سعد۔

سیدنا حسینؓ کے صفات و کمالات

سیدنا حسینؓ نے خانوادہ نبویﷺ میں پرورش پائی تھی اس لیے معدنِ فضل و کمل بن گئے تھے چونکہ عہدِ رسالت میں کم سن تھے اس لیے جناب رسالت مآبﷺ سے براہِ راست سنی ہوئی مرویات کی تعداد صرف 8 ہے البتہ بالواسطہ روایت کی تعداد کافی ہے حضورﷺ کے علاوہ انہوں نے جن بزرگوں سے احادیث روایت کی ہیں ان میں سیدنا علیؓ سیدنا عمر فاروقؓ سیدہ فاطمہؓ سیدہ ہندؓ بن ابی ہمالہ کے اسمِ گرامی قابلِ ذکر ہیں ان کے رواہ میں برادرِ بزرگ سید حسنؓ صاحبزادے سیدنا علی زین العابدینؓ صاحبزادیاں سیدہ سکینہؓ سیدہ فاطمہؓ پوتے سیدنا محمد باقرؓ سیدنا شعبی عکرمہمؒ سنان بن ابی سنانؒ عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ فرزوق شاعر وغیرہ شامل ہیں۔

تمام اربابِ سیر نے سیدنا حسینؓ کے فضل و کمال کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ بڑے فاضل تھے سیدنا علیؓ قضا و افتاء میں بہت بلند مقام رکھتے تھے سیدنا حسینؓ نے ان کے آغوشِ تربیت میں پرورش پائی تھی اس لیے وہ مسندِ افتاء پر فائز ہوگئے تھے اور اکابرِ مدینہ مشکل مسائل میں ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ ابنِ زبیرؓ نے ان سے پوچھا کہ قیدی کو رہا کرانے کا فرض کس پر عائد ہوتا ہے انہوں نے فرمایا ان لوگوں پر جن کی حمایت میں لڑا ہو ایک اور موقع اور سیدنا ابنِ زبیرؓ نے ان سے استفاء کیا کہ شیر خوار بچہ کا وظیفہ کب واجب ہوتا ہے انہوں نے فرمایا پیدائش کے فوراً بعد جب بچے کے منہ سے آواز نکلتی ہے اس کا وظیفہ واجب ہو جاتا ہے۔

سیدنا حسینؓ دینی علوم کے علاوہ اس عہد کے عرب کے مروجہ علوم میں بھی پوری دسترس رکھتے تھے ان کے تبحرِ علمی علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ ان کے خطبات سے کیا جاسکتا ہے جن میں سے کچھ آج بھی کتبِ سیر میں محفوظ ہیں فضائل اخلاق کے اعتبار سے سیدنا حسینؓ پیکر محاسن تھے عبادت و ریاضت ان کا معمول تھا قائم اللیل اور دائم الصوم تھے فرض نمازوں کے علاوہ بکثرت نوافل پڑھتے تھے ان کے فرزند سیدنا علی زین العابدینؓ کا بیان ہے کہ وہ شب و روز میں ایک ایک ہزار نمازیں نوافل پڑھ ڈالتے تھے روزے بکثرت رکھتے تھے اور سادہ غذا سے افطار فرماتے تھے رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ قرآنِ پاک ضرور ختم کرتے تھے حج بھی کثرت سے کرتے تھے اور وہ بالعموم پاپیادہ ایک روایت کے مطابق انہوں نے 25 حج پاپیادہ کیے

(تہذیب الاسماء امم نوویؒ)

 ذریعہ معاش: سیدنا حسینؓ مالی حیثیت سے نہایت آسودہ حال تھے سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں پانچ ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا جو انہیں سیدنا عثمانؓ کے زمانہ تک برابر ملتا رہا سیدنا حسنؓ خلافت سے دستبرداری کے وقت سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ان کے لیے دو لاکھ سالانہ مقرر کرا دیئے تھے اس مرفہ الحال کے باوجود ان کی زندگی پر فخر و زہد کا اثر نمایاں تھا اپنا مال کثرت سے راہِ خدا میں لٹاتے رہتے تھے کوئی سائل ان کے در سے خالی ہاتھ نہ جاتا تھا بعض مرتبہ غرباء کے گھروں پر خود کھانا پہنچاتے تھے اگر کسی قرض دار کی سقیم حالت کا پتہ چلتا تو خود اس کا قرضہ ادا کر دیتے تھے۔

سخاوت اور دریا دلی: ایک دفعہ نماز میں مشغول تھے گلی میں ایک سائل کی آواز کانوں میں پڑی جلدی جلدی نماز ختم کر کے باہر نکلے صدا دینے والے سائل پہ خستہ خالی دیکھی تو اپنے خادم قنبر کو آواز دی وہ حاضر ہوئے تو پوچھا ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی رہ گیا ہے؟ قنبر نے جواب دیا آپ نے دو سو درہم اہلِ بیت میں تقسیم کرنے کے لیے دیے تھے وہ ابھی تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔

فرمایا یہ ساری رقم لے آؤ اہلِ بیت سے ذیادہ ایک مستحق آگیا ہے قنبر نے 200 درہم لا کر پیش کیے تو سب کے سب سائل کو دے دیئے اور ساتھ ہی معذرت کی کہ اس وقت میرا ہاتھ خالی ہے اس سے زیادہ خدمت نہیں کر سکا۔

صدقہ خیرات کے علاوہ اہلِ علم اور شعراء کی سرپرستی بھی کرتے تھے اور ان کو انعام کے طور پر بڑی بڑی رقموں سے نوازتے رہتے تھے۔

سیدنا حسینؓ کے مجالس وقار اور متانت کا مرقع ہوتی تھیں

لوگ ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے تھے ان کے سامنے ایسے سکون اور خاموشی سے بیٹھتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور وقار و متانت اور بلند مرتبت کے باوجود سیدنا حسینؓ تمکنت اور خود پسندی سے کوسوں دور تھے اور بے حد حلیم الطبع اور منکسر المزاج تھے نہایت کم حیثیت کے لوگوں سے بھی خندہ پیشانی سے ملتے تھے ایک مرتبہ کسی طرف جا رہے تھے راستے میں کچھ فقراء کھانا کھا رہے تھے انہوں نے سیدنا حسینؓ کو دیکھ کر اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی آپ سواری سے اتر پڑے اور فرمایا ان اللہ لا یحب المتکبرین بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا فارغ ہوئے تو ان سب کو دعوت پر بلایا جب وہ لوگ حاضر ہوئے تو آپؓ نے گھر والوں کو حکم دیا جو کچھ ذخیرہ ہے وہ سب بھجوا دو۔


صفحہ 2 از 2