سیدنا موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ (مختصر احوال و فضائل) - دفاعِ…

سیدنا موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ (مختصر احوال و فضائل)

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

میں نے دریافت کیا کہ یہ نوجوان کون ہے تو مجھے بتلایا گیا کہ ان کا نام موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین ابن علی ابنِ ابی طالب ہے یہ سن کر میرے منہ سے برجستہ نکلا کہ اس سید زادے سے اس قسم کے واقعات کوئی تعجب کی بات نہیں (شواہد النبوة صفحہ 337 تذکرہ سیدنا موسیٰ بن جعفر مکتبہ نبویہ لاہور)۔

دوم: ہارون رشید نے خواب میں سیدنا علی المرتضیؓ کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں برچھی تھی اور فرمایا اے ہارون اگر تو نے سیدنا موسیٰ کاظمؒ کو رہا نہ کیا تو میں اس برچھی سے تجھے ذبح کر دوں گا وہ سہما ہوا خواب سے اٹھا اس وقت پولیس افسر کو حکم دیا کہ سیدنا موسیٰ کاظمؒ کو رہا کر دیا جائے اور ساتھ ہی تین ہزار درہم ان کے لیے روانہ کیے اور یہ بھی کہا کہ سیدنا موسیٰ کاظمؒ کو یہاں رہنے یا کسی اور جگہ جہاں وہ چاہیں جانے کا اختیا ہے سیدنا موسیٰ کاظمؒ مدینہ تشریف لے آئے اور پھر ہارون الرشید نے آپ کو خواب کا واقعہ سنایا آپ نے اس سے عجیب تر واقعہ سنایا انہوں نے مجھے چند کلمات سکھلائے کہنے لگے میں نے ابھی وہ کلمات پورے ادا نہیں کیے تھے کہ میری رہائی ہوگئی (صواعقِ محرقہ صفحہ 204 تذکرہ سیدنا موسیٰ کاظم مطبوعہ قاہرہ طبع جدید)۔

آپ کی شب و روز کی عبادت

تاریخِ بغداد: عمار ابنِ ربانی سے روایت ہے کہ جب سیدنا موسیٰ کاظمؒ سندھی کے ہاں گرفتار کیے گئے تو سندھی کی ہمشیرہ نے اپنے بھائی کو کہا سیدنا موسیٰ کاظمؒ کو میرے سپرد کر دے وہ دیندار تھی سندھی نے اس کی بات مانی اور سیدنا موسیٰ کاظمؒ کو اس کے سپرد کر دیا یہی بی بی بیان کرتی ہے کہ جب سیدنا موسیٰ کاظمؒ نماز عشاء پڑھتے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح و تہلیل میں مصروف ہو جاتے جب رات ڈھل جاتی تو آپ نوافل شروع فرماتے صبح تک نفل ادا کرتے رہتے پھر تھوڑا سا ذکر کرتے حتیٰ کہ جب سورج طلوع ہوتا تو کچھ دیر وہیں بیٹھے رہتے صلوات چاشت ادا کرتے پھر سونے کی تیاری فرماتے مسواک کرتے کھانا کھاتے اور آرام کرنے کے لیے سو جاتے زوال تک آرام فرماتے پھر اٹھتے وضو فرماتے قبلہ رخ ہو کر اللہ کا ذکر فرماتے تسبیح و تہلیل اور نماز پڑھتے پھر دوسری نماز تک یہی سلسلہ جاری رہتا مغرب کے بعد نوافل ادا فرما کر پھر عشاء کا عمل اسی طرح جیسا کہ گزر چکا شروع فرماتے آپ کا یہ روزانہ کا معمول تھا (تاریخِ بغداد جلد 13 صفحہ 31 تذکرہ موسیٰ بن جعفر)۔

آپ کی سخاوت ( تاریخ بغداد)

محمد بن عبداللہ بکری کا کہنا ہے کہ قرض کی خاطر میں مدینہ آیا اس آنے جانے سے میں تھک گیا میں نے دل میں سوچا کہ اگر سیدنا موسیٰ کاظمؒ کے پاس قرض مانگنے چلا جاتا تو اس تکلیف سے چھوٹ جاتا میں اس سوچ پر عمل کرتے ہوئے ان کے پاس احد پہاڑ کے قریب واقعہ موضع نقمہ پہنچا آپ میری طرف آئے آپ کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اس کے پاس گوشت تھا سیدنا موسیٰ کاظمؒ کے ہاں اس وقت کوئی مہمان نہ تھا لہٰذا میں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا پھر انہوں نے مجھ سے میری حاجت کے بارے میں پوچھا میں نے انہیں سارا واقعہ سنا دیا آپ اٹھے مکان میں تشریف لے گئے جلدی ہی واپس آئے اور غلام سے فرمانے لگے تم ذرا چلے جاؤ غلام کے جانے کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ میری طرف لمبا کیا اور ایک تھیلی پھینکی جس میں تین سو دینار تھے پھر اٹھے اور پشت پھیر کر تشریف لے گئے میں بھی اٹھا اپنی سواری پر سوار ہوا اور اپنے گھر واپس چل پڑا (تاریخِ بغداد جلد 13 صفحہ 28 تذکرہ موسیٰ بن جعفر)۔


صفحہ 2 از 2