Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

باطل عقائد والے کو لڑکی دینا ہرگز جائز نہیں، اور ایسے شخص کی امامت کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص رشید اپنی لڑکی کا نکاح زید سے کرنا چاہتا ہے اور زید کا عقیدہ یہ ہے کہ ولی اللّٰہ سب کچھ کر سکتے ہیں، اور نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، اور اس زید نے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کو ایک مولوی بلا کر گالیاں دلوائی ہیں، اس مولوی نے مولانا حسین احمدؒ کو گدھا تک کے الفاظ نکالے ہیں، تو زید نے اس کو کچھ نہیں کہا۔ ایسے عقیدہ رکھنے والے اور بزرگانِ دین کے دشمن کے ساتھ لڑکی کا نکاح کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور جو آدمی اس زید کو لڑکی دے رہا ہے کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کے ساتھ برادری کے تعلقات وغیرہ رکھنا اور اس کے ساتھ بولنا وغیرہ شرعی طور پر کیسا ہے؟

جواب: زید کے جو عقائد سوال میں ذکر کئے گئے ہیں، شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لہٰذا اس طرح کے غلط عقائد رکھنے والے شخص کے ساتھ صحیح العقیدہ خاتون کا معتقد نکاح کسی طرح مناسب نہیں۔ نیز یہ شخص مبتدع ہے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔

(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد، 11 صفحہ، 177)