کونڈے دینا بدعت ہے. اور اس کا ترک کرنا لازم ہے
کونڈے دینا بدعت ہے. اور اس کا ترک کرنا لازم ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس رسم کے بارے میں جو آج کل لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے. اور مسمی ہے امام جعفر صادقؒ کا کونڈا اس میں صرف اتنا ہوتا ہے کہ کوئی چیز پکا کر غریبوں مسکینوں کو کھلائی جاتی ہے اور بعض لوگ کھانے کے اوپر کپڑا چھپا دیتے ہیں، اور کھانے والوں کو کہہ دیا جاتا ہے کہ کپڑا ڈال کر اوپر پڑا رہے اندر سے کھاتے رہو ،یعنی ظاہر نہ کرو کیا اس فعل کا کوئی ثبوت ہے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں یا تابعین یا تبع تابعین کے زمانہ میں ہوا ہو؟ یا آئمہ کے زمانے میں ہوا ہو یا کسی سے ثابت ہو؟ اور اس کا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: یہ رسم بدعت سئیہ ہے اس ہئیت کذائیہ سے خیرات کرنا صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے زمانے میں نہ تھا، نہ ہی کسی حدیث سے منقول ہے، اس لئے اس کا ترک کر دینا لازم ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمودؒ:جلد:12:صفحہ:205)