تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے…

تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے انحراف

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 4

تیسرا باب 

شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے انحراف

یہ بات بھی عجائباتِ عالم میں داخل ہے کہ دنیا میں ایک ایسا گروہ بھی ہے جس نے اپنے مذہب کی بنیاد جن 12 ائمہ پر رکھی ہے کو ان کا طرزِ عمل نظریات اعمال و افعال کی ایک چیز بھی ان کی ان ائمہ اور پیشواؤں سے نہیں ملتی مثلاً مسلمانوں کے ہاں حضورﷺ کی مقدس شخصیت کائنات کی سب سے بزرگ اور برگزیدہ ہستی ہے آپﷺ کا کلمہ مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے اگر مسلمان بھی ایسا کلمہ پڑھیں جو آنحضرتﷺ سے منقول نہ ہو یا وہ ایسی مقدس کتاب کی تلاوت کریں جو ان کے پیغمبرﷺ پر نہ اتری ہو یا ایسے نصبُ العین پر عمل پیرا ہوں جو ان کے رسولﷺ سے دور کا بھی واسطہ نہ رکھتا ہو اسے بھی عجوبہ ہی کہا جائے گا

ہر ذی عقل اسے بدترین مذاق ہی قرار دے گا یا ایسے لوگوں کو پاگلوں اور احمقوں کا گروہ قرار دے گا جو اپنے قول و فعل کے تضاد اور عقیدہ و عمل کے تفاوت میں یدِ طولیٰ رکھتے ہوں جس کی کوئی بات قابلِ اعتبار نہ ہو جو ہندوؤں کی طرح ایسا عقیدہ رکھتا ہو جس کے مطابق ان کی مقدس کتاب "وید" کو ماننے والا بھی ہندو ہو اور نہ ماننے والا بھی ہندو ہو عقائد و نظریات کے بارے میں ایسی بوقلمونی اور ایسا واضح تضاد تاریخ کے کسی گوشے میں نظر نہیں آتا شیعہ مذہب سے ناواقف انسان کبھی بھی اس کے تضادات سے شناسائی حاصل نہیں کر سکتا تاریخِ شیعہ اور عقائدِ شیعہ کا مطالعہ کرنے والا اس وقت حیرتُ و استعجاب کی گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے جب اس پر اس عجیب و غریب مذہب کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے جب ایک انسان یہ دیکھتا ہے آنحضرتﷺ اور آپﷺ کی اولاد کے ایک درجن کے قریب صالح بزرگوں کے نام پر قائم ہونے والا مذہب کلمہ طیبہ کے دو جز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ساتھ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ خلیفتہ بلا فصل کا اضافہ کرتا ہے اور حقائق کے مطابق آنحضرتﷺ اور ان کے ایک درجن بزرگوں کے تصور خیال میں بھی اس وقت یہ اضافہ نہ تھا اور جو کتاب حضورﷺ پر اتری اس کی آیات 6666 ہوں اور یہ گروہ 17 آیات والے قران کا دعویدار ہے اور حضورﷺ کے خلفاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کو خود آنحضرتﷺ نے اپنی مسند پر کھڑا کیا جس جماعت کی عظمت کے ترانے قرآن اور صاحبِ قرآن نے گاۓ جن کی عظمت و تقدس 12 بزرگوں نے سال کے ہر دن اور ہر موڑ پر آشکار کیا جن کی ثناخوانی ان 12 بزرگوں کے مکتوبات خطبات فرمودات اور قرابتداریوں میں ہر جگہ آویزاں ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفاءِ راشدینؓ کی شان میں آنے والے تمام خطبات اس شیعہ مذہب کی کئی دینی کتب میں تا حال موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ہر عہد کا شیعہ عالم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفائے راشدینؓ کو کافر و مرتد تحریر کرتا ہو آنحضرتﷺ کی مقدس ازواجِ مطہراتؓ یا اہلِ بیت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا جنہوں نے اپنا ایمان قرار دیا ہو ایسے فریب دینے اور کھانے والے لوگ دنیا کے کسی اور مذہبی عقیدے میں کہاں ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی صاحبزادیوں صاحبزادوں نواسوں نواسیوں اور آپ ان کی اولاد کے تمام بزرگ پوری امت کے نزدیک مقدس اور برتر ہستیاں ہیں آنحضرتﷺ کی اولاد و احفاد کا ہر فرد قابلِ احترام ہے۔

آنحضرتﷺ کے داماد اور چچازاد بھائی سیدنا علیؓ ان کے صاحبزادگان سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور اگلی اولاد سیدنا زین العابدینؓ سیدنا باقرؒ سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا موسیٰ کاظمؒ سیدنا رضا کاظمؒ سیدنا تقی علیؒ سیدنا نقی علیؒ سیدنا حسن عسکریؒ یہ تمام حضرات اپنے اپنے دور کے منفرد اور یکتائے روزگار پیشوا اور مقتدا ہیں ان کا مقام و مرتبہ ہدایت و اصلاح کے باب میں فوجی سریہ تک پہنچا ہوا ہے انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ان اساطینِ امت کی طرف شیعہ راویوں نے ان کی وفات کے 300 سال کے بعد جو اقوال منسوب کیے وہ ان کی تعلیمات اور افکار سے اکثر مختلف ہیں ائمہ ہدایت کی طرف مَن گھڑت باتوں اور بے بنیاد روایات کے گھڑنے میں شیعہ راویوں نے ایسا کمال دکھایا کہ پورا ایک مذہب معرض شہود میں لے آئے دفتروں کے دفتر اور دیوانوں کے دیوان لکھ مارے مَن گھڑت اور موضوع روایات پر اوراق کے اوراق سیاہ کر کے محمدی شریعت کی تصویر بدل کر رکھ دی قرآنُ و حدیث کے سچے موتیوں کے مقابلے میں کذاب اس طرح کے غلیظ چیتھڑوں سے اسلامی شریعت کا دامن آلودہ کر ڈالا ائمہ ہدایت کی وہ سچی تعلیمات جو ان کے اپنے دور سے منقول ہو کر آج تک چلی آ رہی ہیں صرف 300 سال بعد پہلی تعلیم کے بالکل برعکس ایسے ایسے مضامین گھڑ گھڑ کر ان کی طرف ایسے سلیقے سے منسوب کیا کہ سچائی کو فریب کے پردوں میں چھپا دیا گیا یہودیت کی کوکھ سے جنم لینے والی شیعیت عہدِ عثمانی میں جس صورت میں ظاہر ہوئی تھی ڈھائی 300 سال بعد رواہ کی ہوشیاری ایرانی حسن بن صباح کی مکاری اور دغا بازی سے اسلام کا شفاف چہرہ ضلالت و غوایت اور کذب و فریب سے گدلا پڑ گیا۔

ہم اپنے ان سطور کی تائید کے لیے عصرَ حاضر کے ایک عراقی شیعہ عالم ڈاکٹر موسیٰ موسوی(جو جامع مسجد نجفِ اشرف کے خطیب کے صاحبزادے ہیں) کی ان کی تصریحات کو ان کی کتابُ "الاصلاح الشیعہ" سے نقل کرتے ہیں جنہوں نے شیعہ کے اپنے مذہب سے انحراف ائمہ کی طرف غلط روایات کے منسوب کرنے کے خلاف چیخ چیخ کر واویلا کیا ہے۔

ڈاکٹر موسیٰ موسوی کی تصریحات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ شیعہ مذہب میں 301 ھجری کے عہدِ انحراف کے بعد جو تبدیلیاں ہوئیں وہ غیر اسلامی افکار کی امیزش کا واضح نمونہ ہیں۔

منصف مزاج شیعہ عالم کی کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

 ڈاکٹر موسٰی موسوی کی طرف شیعہ مذہب کا تعارف شیعہ عالم دین کا کھلا اعتراف

 شیعہ کے ابتدائی عقائد کے بارے میں شیعہ عالم کی تحریر پر مشتمل مستقل باب:

صفحہ 1 از 4