تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے…

تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے انحراف

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 4

ائمہ شیعہ عباسی خلفاء کے عہد میں مسلمانوں کے ہاں بڑی عزت و احترام سے بہرہ ور تھے ایسی ہی خلافت کے بارے میں ان کے زیادہ اور اولین حقدار ہونے کا تصور بھی بعض لوگوں میں پایا جاتا تھا سو اگر عام مسلمانوں کی رائے یہ نہ ہوتی کہ اہلِ بیت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں عباسی سیدنا علی الرضاؒ کو اپنا ولی عہد منتخب نہ کرتا یہ الگ بات ہے کہ سیدنا علی الرضاؒ مامون ہی کے زمانے میں وفات پا گئے اور خلافت بنو عباس ہی میں رہ گئی اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیدنا علیؓ اور ان کے اہلِ بیت کی جماعت کا رجحان جو اس وقت کی اسلامی معاشرے میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا اس کے پرجوش حامی تھے۔

ان تمام مقدمات سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تشیع کے افکار ہجرت کے بعد پہلی 3 صدیوں میں موجود تھے اس دور کے شیعی افکار کا خلاصہ درج ذیل چند نکات میں منحصر ہے۔

اولاً: یہ کہ سیدنا علیؓ اوروں کی نسبت خلافت کے زیادہ حقدار تھے لیکن مسلمانوں اور خود سیدنا علیؓ نے خلفائے راشدینؓ کی بیعت کر لی پھر سیدنا عثمانؓ کے بعد مسلمانوں نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کر لی سو سیدنا ابوبکرؓ سے لے کر سیدنا علیؓ تک تمام خلفائے راشدینؓ کی خلافت کے شرعاً درست ہونے میں اب کوئی شک و شبہ نہیں۔

ثانیاً: امویوں کے لیے اظہار عداوت جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سیدنا علیؓ کے بارے میں موقف حادثہِ کربلا میں سیدنا حسینؓ کے قتل زمام اقتدار خلیفہ اموی سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کے ہاتھ آنے تک تقریباً 50 برس تک اموی خلفاء کے برسرِ ممبر سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے کی وجہ سے خلیفہ سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ نے سیدنا علیؓ کے خلاف زبان درازی سے منع کر دیا تھا۔

ثالثاً: شرعی احکام اور فقہی مسائل میں اہلِ بیت کو مرجع سمجھنا۔

رابعاً: اہلِ بیت عموماً اور سیدنا حسینؓ کی اولاد میں سے ائمہ کرام خصوصاََ امویوں اور عباسیوں کی نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔

 ابتدا میں یہی چار نقطے شیعہ مذہب کی بنیاد تھے

سن 329 میں امام مہدی کی غیبت کبریٰ کے باقاعدہ اعلان کے بعد شیعی فکر میں چند عجیب و غریب امور وہ آئے جو شیعہ اور تشیع کے درمیان اختلاف کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے دوسرے لفظوں میں ان کو عہدِ انحراف کا آغاز بھی کہا جا سکتا ہے۔

فکری انحراف کے بارے میں ان امور میں سے اولین امران آرا کا بہت اچھی چیز ظہور تھا کہ رسول اکرمﷺ کے بعد خلافت سیدنا علیؓ کا حق تھا اور یہ حق نص الٰہی کے ساتھ ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ چند کے علاوہ باقی صحابہ رسول نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ مقرر کر کے اس کی مخالفت کی جا سکے اس زمانے میں چند دیگر آراء کا ظہور ہوا جن کا منشاء تھا کہ تکمیلِ اسلام کے لیے ایمان بالامامت ضروری ہے حتیٰ کہ بعض شیعہ علماء نے تین اصول دین توحید نبوت اور معاد کے ساتھ امامت اور عدل کا اضافہ بھی کر دیا (یہیں سے شیعہ اور مسلمانوں کے اصولِ دین تبدیل ہو گئے از مؤلف) جب کہ بعض دوسرے علماء کا خیال تھا کہ یہ عقیدہ (امامت و عدل)اصولِ دین میں سے نہیں بلکہ اصولِ مذہب میں سے ہے اور کچھ ایسی روایات سامنے آئی جنہیں ائمہ شیعہ سے نقل کیا جاتا ہے اور ان میں خلفائے راشدینؓ اور بعض ازواجِ مطہراتؓ پر طعن و تشنیع ہوتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ غیبت کبریٰ کے بعد اچانک اسلامی معاشرے میں جو چند عجیب و غریب آراء شہرت پذیر ہوئی ان کا ہمیں سیدنا علیؓ اور اہلِ بیت کے حواریوں میں کہیں بھی پتہ نہیں چلتا ہے قتلِ سیدنا حسینؓ کے بعد جب اس کا انتقام لینے کے لیے شورشیں ظاہر ہو رہی تھی ایسے ہی ان ادوار میں جب کہ تند و تیز آندھی خلافت امویہ کی کمر توڑ کر خلافتِ عباسیہ کے لیے راہ ہموار کر رہی تھی۔

 تقیہ کا عقیدہ بعد میں گھڑا گیا

ان آراء کی نشر و اشاعت اور انہیں سادہ لوح فرزندانِ شیعہ کی عقلوں میں راسخ کرنے میں شیعہ مذہب کے بعض علماء اور رواۃ نے اپنا کردار ادا کیا اور اس زمانے میں تقیہ کا تصور عام ہوا جو شیعہ کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ جو کچھ دل میں ہو اس کے برعکس ظاہر کریں ان نوپید عقائد کو عام لوگوں میں پھیلنے نیز سخت گیر حکمرانوں کی گرفت سے محفوظ کرنے کے لیے انہیں چھپائے رکھنا ضروری تھا شیعہ روات نے ان عجیب و غریب روایات کو عموماً ائمہ شیعہ اور خصوصا سیدنا باقرؒ اور سیدنا صادقؒ کی طرف منسوب کیا تاکہ ان نامانوس آراء کے لیے دینی بنیاد مہیا ہو جائے اور ان میں کسی قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے کا جواز باقی نہ رہے۔

عصمتِ ائمہ کا عقیدہ بھی خود ساختہ ہے

ان روایات کی صحت ثابت کرنے ان کے مضامین پر غور کیے بغیر جوں کا توں قبول کرانے کے لیے اس زمانے میں ائمہ شیعہ کی عصمت کا نظریہ قائم ہوا تھا کہ ان انوکھی روایات میں سے کچھ کو مزید تقدس مہیا ہو جائے اور وہ ہر قسم کے بحث و جدل اور مناقشہ و اعتراض سے بالاتر قرار پائیں اور اس طرح انہیں ایک اور مضبوط بنیاد مہیا ہو جائے شیعہ مذہب کی ترتیب و تدوین کے ساتھ براہِ راست تعلق رکھنے والے ان نامانوس اور خانہ ساز آراء میں سے ہر ایک کا ذکر ہم نے مستقل فصل میں کیا ہے ان فصول میں ہم ان آراء کا تجزیہ کریں گے اب ہم بحثِ خلافت و امامت کی طرف لوٹتے ہیں تاکہ ان تبدیلیوں کا جائزہ لے سکیں جو شیعہ مذہب کے اور علماء روات نے غیبت کبریٰ کے بعد کی ہیں۔

 شیعہ راویوں کے کذب و افتراء کا اقرار

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے دوران شیعہ علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں شیعہ راویوں کے واسطے سے آنے والی روایات میں انصاف کے ساتھ مسلسل غور کرنے والا شخص اس نہایت تکلیف دہ نتیجے تک پہنچے گا کہ بعض شیعہ راویوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے جو جدوجہد کی ہے یقیناً وہ آسمان و زمین کے برابر بوجھل ہے۔

 اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کا اقرار شیعہ ہونے کے باوجود

صفحہ 2 از 4