تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے…

تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے انحراف

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 4

مجھے تو یہ خیال آتا ہے کہ ان لوگوں کا مقصد ان روایات سے لوگوں کے دلوں میں شیعہ عقائد کا راسخ کرنا نہیں تھا بلکہ ان لوگوں کا مقصد اسلام اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر چیز کو بدنام کرنا تھا اور جب ہم ان روایات پر گہری نظر ڈالتے ہیں جو ان لوگوں نے ائمہ شیعہ سے روایت کی اور ان بحثوں پر جو خلافت کے موضوع پر اور تمام اصحابِ رسولﷺ پر نقطہ چینی پر انہوں نے پھیلائی اور عصرِ رسالت اور اسلامی معاشرے کو جو نبوت کے زیرِ سایہ زندگی بسر کر رہا تھا وہ بالا کرنے کے لیے پھیلائیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ سیدنا علیؓ اور ان کے اہلِ بیت خلافت کے زیادہ حقدار تھے اور یہ کہ وہ عظمتُ شان اور علو مرتبت کے حامل تھے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان راویوں نے اللہ انہیں معاف کرے سیدنا علیؓ اور ان کے اہلِ بیت کے ساتھ اس سے بھی بڑھ کر بدسلوکی کی ہے جو انہوں نے خلفاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں روایات بیان کر کے کی ہے اور اس طرح ان کی ہر چیز کو غلط انداز میں پیش کرنے کی ابتداء اہلِ بیت سے ہوئی ہے اس طرح ابتداءِ اہلِ بیت اور بالاخر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق کسی بھی چیز کو غلط انداز میں پیش کرنے کا اثر رسولِ اکرمﷺ کی ذات گرامی اور آپﷺ کے عہد مبارک پر جا پڑتا ہے۔

 جب اہلِ بیت کے پردے میں اسلام کی عمارت کو گرایا گیا:

اس مقام پر مجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور میں حیرت میں گم ہو جاتا ہوں اور میرے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کیا ان شیعہ راویوں اور محدثین نے اہلِ بیت کی محبت کے پردے میں اسلام کی عمارت گرانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی ہے؟ ان روایات سے وہ کیا چاہتے ہیں جو انہوں نے ائمہ شیعہ کی طرف منسوب کی ہیں جبکہ وہ اساطینِ اسلام اور فقہاءِ اہلِ بیت تھے ائمہ کی طرف منسوب ان روایات سے کیا مقصود ہے جبکہ وہ سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیت کی سیرت کے منافی ہیں اور ان میں سے بہت روایات عقل رسا اور فطرت سلیم سے بھی متصادم ہیں۔

اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شیعہ رواۃ و محدثین اور ان کے فقہا شیعہ ائمہ شیعہ کے بارے میں بد زبانی اور ان کے نام پر روایات وضع کرنے میں اس وقت وہ آگے نکل گئے جب رسمی طور پر شام کی "غیبت کبریٰ" کا اعلان کر دیا گیا امام مہدی سے ان کا قول منقول ہے:

 "من ادعی رویتی بعد الیوم فکذبوہ"۔ 

 "آج کے بعد جو شخص مجھے دیکھنے کا دعویٰ کرے اسے جھوٹا سمجھو"۔ 

اس طرح وہ تمام راستے بند کر دیئے گئے جس کے ذریعے امام سے رابطہ قائم کیا جا سکتا اور اس کی طرف نیز اس کے آباؤ اجداد میں سے آئمہ کرام کی طرف منسوب روایات کے بارے میں پوچھا جا سکتا تھا اس طرح تشریح اور اسلام دونوں کے بارے میں کسی برے وقت کا انتظار کرنے والوں کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا گیا انہوں نے لا یعنی مباحث پیدا کی اور فضول موشگافیوں میں پڑ گئے پھر ان کے قلموں نے جو کچھ ان کے جی میں آیا لکھا۔

شیعہ راویوں نے مَن گھڑت روایات کو جنم دیا

میں صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے مسئلے کی مزید وضاحت کرتا ہوں اور مسلمہ خلافت سے ابتداء کر دوں گا تا کہ ہمیں پتہ چل سکے کہ شیعہ رواۃ نے صحابہ کرام

رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفاء کے حق میں جو کچھ روایت کیا ہے وہ سیدنا علیؓ اور اہلِ بیت کی سیرت سے واضح طور پر متصادم ہے اس کے بعد ہم اس کا بھی جائزہ لیں گے کہ ان رواۃ اور بعض علماء شیعہ نے اپنی آراء کو زور دار بنانے اور سیدنا علیں اور اہلِ بیت کے صریح اور واضح موقف کو الٹنے کے لیے جو ان کی طرف منسوب روایات کے منافی ہے ان کے بعد کس طرح تحریف کر کے امام موصوف اور اہلِ بیت کے مؤقف کے برعکس کر دیا اور ایسی صورت میں جس کا ظاہر خوبصورت اور باطن گھناؤنا ہے مقصد صرف یہ تھا کہ اپنی آراء کو اپنے حسبِ منشاء ثابت کریں۔

 شیعہ عقائد میں رد و بدل کا اقرار

لیکن کیا اس سب کچھ کا یہ مطلب ہے اور یہی بات خلافت کے متعلقات اور اس مسئلہ کے تمام فروعات میں بنیادی پتھر اور مقطع کی حیثیت رکھتی ہے کہ اس مسئلے میں کوئی آسمانی حکم موجود ہے جو سیدنا علیؓ کو بطورِ خلیفہ تعین کرتا ہو یا یہ صرف نبی اکرمﷺ کی ذاتی خواہش تھی؟ سیدنا علیؓ خود فرمایا کرتے تھے کہ اس مسئلے میں کوئی واضح آسمانی نص موجود نہیں ہے ان کے ساتھی اور ان کے معاصرین کا بھی یہی عقیدہ تھا غیبتِ کبریٰ کے ضمانت تک یہ اعتقاد قائم رہا یہی وہ زمانہ ہے جس میں شیعہ کے عقائد میں رد و بدل شروع ہوا اور ان کو بالکل الٹ کر رکھ دیا گیا۔

ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ ان دو الگ الگ عقیدوں میں بڑا فرق ہے سیدنا علیؓ خلافتِ رسولﷺ کا دوسروں کی نسبت زیادہ حق رکھتے تھے لیکن مسلمانوں نے کسی دوسرے کو منتخب کر لیا خلافت سیدنا علیؓ کا آسمانی حق تھا لیکن ان سے چھین لی گئی۔

آئیے سیدنا علیؓ کی زبانی سنیں پوری وضاحت اور کامل صراحت کے ساتھ مسئلہ پر گفتگو فرماتے ہیں اور خلفاء کے انتخاب کے شرعی ہونے پر مہر تصدیقِ ثبت فرماتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ خلافت کے مسئلے میں نص موجود نہیں ہے فرماتے ہیں:

بلاشبہ جن لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی انہی لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور اس شرط پر کی ہے جس پر ان کی بیعت کی تھی اس لیے کسی حاضر کو تردد کا اور کسی غائب کو انکار کا حق نہیں ہے اور بلاشبہ مشورہ مہاجرین و انصار کا حق ہے اگر وہ حضرات کسی پر اتفاق کر لیں اور اسے امام بنا دیں تو یہ اللہ کی رضا کی دلیل ہوگی اور اگر کوئی شخص ان پر طعنہ زنی کرے اور نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے ان کے احکامات سے روگردانی کرے تو ان کا حق ہے کہ مسلمانوں کا راستہ چھوڑنے کے سبب اس سے جنگ کریں۔

 خلافت کے لیے کوئی نص موجود نہیں ہے

لہٰذا اگر خلافت اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور حکمِ آسمانی کے مطابق بھی ہو تو قطع نظر اس سے کہ کون اس کا والی بنتا ہے ہم مسلمانوں کا عام حق اور آسمانی دستور تھا۔

صفحہ 3 از 4