غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوف یا تقیہ کا الزام لگایا گیا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 3

غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علیؓ پر خوف یا تقیہ کا الزام لگایا گیا

یہاں ان لوگوں کے کردار کی باری آئی بس یہاں پہ جنہوں نے سیدنا علیؓ اور ان کی شخصیت کو ختم کرنا چاہا اور بالواسطہ طور پر انہیں الزامات کا نشانہ بنانا چاہا اس طرح زمانہ رسالت و عہد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ہر چیز کو ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ زمانہِ رسالت کو جس میں کبارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شامل ہیں ورنہ اس اسلامی معاشرے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے صریح احکام سے بغاوت کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے اور یہ عمل اس بات پر موقوف تھا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصوص باور کرایا جائے اور رسولﷺ کی جانب سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک اس نص کی تبلیغ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس نص کو جان لینے کے باوصف اس کی خلاف ورزی اور پھر سیدنا علیؓ کی بحیثیت دغا باز مداہنت کیش اور چاپلوس آدمی کی شکل میں تصویر کشی کی جائے جو 25 برس تک اپنے پہلے خلفاءِ ثلاثہؓ کا بظاہر دیانت دار مشیر اور گرم جوش دوست بنا رہا جو ان کی مدح میں اور ان کی تعریف میں بہترین کلمات نچھاور کرنے والا ہو اور اس کا دل اس کی زبان کے ساتھ نہ تھا جو وہ کرتا تھا اس کا ایمان نہ تھا یہاں تک کہ اس نے مجبوری کی حالت میں اپنی بیٹی سیدہ ام کلثوم سیدنا عمرؓ بن خطاب کے عقد میں دے دی اپنے بیٹوں کے نام سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ رکھے حالانکہ وہ ان کے نام رکھنے پر راضی نہ تھے وعلیٰ ہذالقیاس۔

علامہ شیعہ اور ان کی احادیث کے راویوں اللہ انہیں معاف کرے نئے سیدنا علیؓ کے متعلق صراحتاً یا کنایتاً جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہی ہے میں نہیں جانتا کہ قیامت کے دن جب سیدنا علیؓ ان کے متعلق اپنے رب سے شکایت کریں گے تو ان لوگوں کا کیا موقف ہوگا

اسی طرح میرا عقیدہ یہ ہے کہ اس اکثریت کے درمیان غیر معمولی گروہ موجود تھا جس نے متحدہ اسلامی فکر میں تبدیلی پیدا کر کے اسے نفاق و اختلاف کے راستے پر ڈالنے اور سیدنا علیؓ اور سیدنا عمرؓ سمیت اسلام اور مسلمانوں پر ضرب کاری لگانے میں اپنا کردار ادا کیا حالانکہ بظاہر یہ لوگ خود کو شیعہ مذہب کے حامی کے طور پر پیش کرتے تھے مگر ان کا مقصد تمام مذاہب کو ختم کرنا بالفاظِ دیگر اسلام کو طعنوں کا نشانہ بنانا تھا چنانچہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل تک جو غیبتِ کبریٰ کا زمانہ ہے ہمیں اس نظریہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا کہ سیدنا علیؓ سے خلافت چھینی گئی یا یہ کہ خلافت خدائی حق تھا ان سے چھین لیا گیا یا یہ کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اکٹھے ہو کر یہ کام کیا اور اس طرح سے جیسا کہ ہم نے کہا سیدنا علیؓ کے خلافت کے لیے اولیت کے نظریے کو خدائی خلافت اور اللہ تعالیٰ کے منصوص حکم کی مخالفت کے نظریہ سے بدل دیا گیا لہٰذا شیعہ نے خلفاءِ راشدینؓ کی تشنیع کا طریقہ اختیار کر کے اپنا ائمہ کی زبانوں سے اپنے راویوں کی وضع کردہ روایات کے ذریعے مقدس لوگوں کی مذمت کی ان موضوع روایات نے جو اپنے پیچھے تباہی بربادی کے آثار چھوڑے انہیں اللہ کے سوا کوئی شخص شمار میں نہیں لا سکتا۔

ہم یہاں شیعہ سے خالص انہی کی منطق میں گفتگو کر رہے ہیں اس لیے ہم خلفاءِ راشدینؓ کے مطابق سیدنا علیؓ کے اقوال درج کرتے ہیں پھر سیدنا علیؓ کے اپنے بارے میں اقوال سے شہادت پیش کرتے ہیں پھر اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ ایسے عظیم الشان امام سیدنا علیؓ نے خلفاء کی نہ چاہتے ہوئے بیعت کی جبکہ وہ اس پر راضی نہ تھے؟ یا وہ اپنے اس رویے سے مسلمانوں کو بیعت کے ذریعے دھوکہ دے رہے تھے؟ کیا انہوں نے ایسی بات زبان سے کہی جسے حق نہیں سمجھتے تھے؟ اور ایسا عمل بجا لاتے رہے جس پر ان کا اپنا ایمان نہیں تھا؟۔

کیا شیعہ کو واقعی سیدنا علیؓ سے سچی محبت ہے؟ جبکہ وہی ایسے امور ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں یا صرف اقتدار حاصل کرنے اور اپنے ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے یہ پرخار راستہ اختیار کر رہے ہیں خواہ اس راستے میں انہیں سیدنا علیؓ کی شہرت ان کی جلالتِ قدر عظمتِ ذاتی اور مقامِ بلند کی قربانی بھی دینی پڑے۔

خلفاءِ راشدینؓ کے متعلق سیدنا علیؓ کے اقوال

آئیے ان سیدنا علیؓ کو خلیفہ سیدنا عمر بن خطابؓ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنیں:

اللہ اللہ سیدنا عمرؓ آزمائش سے کس طرح سرخرو نکلے انہوں نے ٹیڑھا پن نکالا اور بیماری کا علاج کیا فتنہ کو ماند کیا اور سنت قائم کی اس حالت میں گئے کہ دامن صاف عیب نایاب تھا خیر حاصل کی شر سے بالاتر رہے اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کی اور کما حقہ تقویٰ اختیار کیا اب آپ رحلت فرما گئے ہیں تو لوگ چوراہے پر کھڑے ہیں ناواقف کو راہ سجھائی نہیں دیتی اور واقف یقین سے بہرہ مند نہیں ہوتا (بحوالہ اصلاح شیعہ)۔

دوسرے مقام پر جب خلیفہ نے رومیوں کے ساتھ جنگ میں بذاتِ خود شریک ہونے کے مسئلے میں سیدنا علیؓ سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

اگر آپؓ دشمن کی طرف بذاتِ خود جاتے اور ان کے مقابلے میں اترتے ہیں تو شکست کی صورت مسلمانوں کے لیے بعید ترین علاقہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اور آپؓ کے بعد کوئی مرکزی شخصیت بھی نہ رہے گی جس کی طرف وہ رجوع کرے لہٰذا ان کی طرح کوئی تجربے کار آدمی بھیج دیں ازمودہ کار اور خیر خواہِ مصاحب اس کے ساتھ کر دیں اگر اللہ تعالیٰ نے اسے فتح نصیب کی تو یہی آپؓ چاہتے ہیں بصورۃِ دیگر لوگوں کے سر پر آپؓ کا سایہ قائم رہے گا اور آپؓ کی ذات مسلمانوں کے لیے مرجع رہے گی اور ان کو ڈھارس بندھائے گی (بحوالہ اصلاح شیعہ)۔

ایک دوسری مرتبہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا علیؓ بن ابی طالب سے جنگ کے لیے جانے کے متعلق مشورہ طلب کیا تو سیدنا علیؓ نے بذاتِ خود نہ جانے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا:

صفحہ 1 از 3