غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوف یا تقیہ کا الزام لگایا گیا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

آج عرب اگرچہ تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن اسلام کی بدولت کثیر اور اتفاق کی بدولت غالب ہے آپؓ محور بن کر عربوں کے ذریعے چکی چلائیں اور خود ایک طرف رہ کر ان کو جنگ کی آگ میں جھونکیں اگر ایرانیوں نے آپ کو ان کے ساتھ دیکھا تو سوچیں گے کہ عربوں کی جڑ یہی ہے اسے کاٹ ڈالو تو راحت پالو گے اس طرح یہ امر ان کے آپؓ پر امڈ آنے کا باعث ہوگا اور وہ آپؓ کے متعلق اپنے مضموم عزائم کی تکمیل کا حوصلہ پائیں گے جہاں تک ان کی استعداد کا تعلق ہے جس کا آپؓ نے ذکر کیا تو ہم پہلے بھی ان کے ساتھ کثرت کی وجہ سے مقابلہ نہ کر سکتے تھے ہماری جنگ تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہوتی ہے (بحوالہ اصلاح شیعہ)۔

اور یہ دیکھیے سیدنا علیؓ سیدنا عثمان بن عفانؓ سے متعلقِ گفتگو ہیں اور انہیں اللہ کے رسولﷺ کے مقرب صحابی کی صفات سے متصف بتا رہے ہیں:

لوگ میرے پیچھے ہیں انہوں نے مجھے اپنے اور آپؓ کے درمیان واسطہ بنا کر بھیجا ہے اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ آپؓ کو کیا کہوں میں کوئی ایسی چیز نہیں جانتا جس سے آپؓ ناواقف ہوں میں آپؓ کی رہنمائی کسی ایسے امر کی طرف نہیں کر سکتا جسے آپؓ جانتے نہ ہوں آپؓ بھی وہ کچھ جانتے ہیں جس کا علم ہمیں ہے ہم کسی چیز میں آپؓ سے آگے نہ تھے کہ آپؓ کو اس کی خبر دیں اور ہم کسی امر میں منفرد نہ تھے کہ آپؓ تک وہ بات پہنچ جائے آپؓ نے بھی ہماری طرح دیکھا اور ہماری طرح سنا ہے آپؓ نے پھر رسول اللہﷺ کی مصاحبت کی جیسا کہ ہم نے کی سیدنا ابنِ ابی قحافہؓ اور سیدنا عمرؓ بن خطاب حق پر عمل کرنے میں آپؓ سے آگے نہ تھے رشتے کے لحاظ سے آپ نبیﷺ کی طرف دونوں سے زیادہ قرب رکھتے ہیں آپ کو رسول اللہﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہے جو ان کو نہ تھا پس اپنے بارے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اللہ کی قسم آپؓ بے بصارت نہیں کہ آپ کو راہ دکھائی جائے آپؓ جاہل نہیں کہ آپؓ کو تعلیم دی جائے۔

سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ کے نام ایک خط میں سیدنا عثمان بن عفانؓ کے متعلق اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

پھر تم نے جو میرے اور سیدنا عثمانؓ کے معاملے کا تذکرہ کیا ہے تمہارا حق ہے کہ تمہیں اس کا جواب دیا جائے کیونکہ تم اس کے قریبی رشتہ دار ہو تو بتاؤ ہم میں سے کون اس کا دشمن اور اس کا قتل گاہ کی راہ جاننے والا تھا کیا وہ جس نے انہیں نصرت کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے بیٹھے رہنے اور ہاتھ روکنے کو کہا یا وہ جس سے انہوں نے مدد مانگی تو اس نے دیر کی اور موت کے اسباب روانہ کر دیے میں اس بات سے معذرت نہیں کر سکتا کہ بعض امور میں ان پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہوں اور میرا گناہ یہ ہے کہ میں ان کی رہنمائی کرتا اور سیدھی راہ دکھاتا رہا ہوں میری طرح کے کتنے ہی لوگ ہوں گے جنہیں ملامت کی جاتی ہے لیکن ان کی خطا نہیں ہوتی (بحوالہ اصلاح شیعہ)۔

اگر خلفاء کے متعلق سیدنا علیؓ کا موقف یہ ہو اور وہ صراحت کے ساتھ اس کا اعلان کرتے ہوں تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علیؓ زبان سے تو یہی کہتے تھے لیکن دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے تھے معاذ اللہ من ذالک اگر سیدنا علیؓ ایسے ہوتے ہیں کہ ظاہر کچھ کریں اور پوشیدہ کچھ اور رکھیں تو آپؓ وہ موقف اختیار نہ کر سکتے جو انسانی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ناقابلِ فراموش ہے وہ تو صدق اخلاص اور ایمان کا موقف ہے ایک ایسے انسان کی طرف سے جو ہر قسم کی قیاس آرائیوں سے قطع نظر کر کے اول و آخر حق و صداقت کا ساتھ دیتا ہے اور اس راستے میں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے چنانچہ یوم شوریٰ میں جب سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے سیدنا علیؓ کو خلافت یہ کہہ کر پیش کی:

میں تمہاری اس سیٹ پر بیعت کرنے کو تیار ہوں کہ تم کتابُ اللہ اور سنتِ رسولُ اللہﷺ اور سیرتِ شیخینؓ پر کاربند رہو گے تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:

"کتابُ اللہ سنتِ رسولُ اللہﷺ اور اپنی مجتہدانہ رائے"

سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے اپنی بات تین بار دہرائی اور سیدنا علیؓ نے بھی وہی جواب تین بار دہرایا پھر سیدنا عبد الرحمٰنؓ سیدنا عثمانؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی صورت میں خلافت پیش کی جس صورت میں سیدنا علیؓ کو پیش کی تھی۔ 

شیعہ کا خُمس کا عقیدہ بدعت ہے:

خُمس کی بدعت کی بنیاد رکھے جانے کے بعد اس میں کئی سخت احکامات کا اضافہ کیا گیا تھا کہ شیعہ اسے مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اس پر عمل پیرا رہیں اور شیعہ کو خُمس کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے بھی ضروری تھا جبکہ یہ ایسا کام تھا کہ دھمکی کے بغیر کوئی شخص اس پر آمادہ نہیں ہوتا چنانچہ کسی زمانے اور کسی علاقے میں خواہ کتنی ہی آزادی ترقی یا جمہوریت ہو ٹیکس کا نفاذ عوام کی جانب سے بیزاری کا نشانہ بنتا ہے شیعہ کے پاس حکمران طاقت ہی نہیں تھی جو لوگوں کو اپنی آمدن میں سے راضی خوشی خُمس ادا کرنے پر راغب کر سکیں اس لیے انہوں نے اس کے ساتھ ایسے سخت احکام کا اضافہ کیا جن میں امام کا حق خُمس ادا نہ کرنے والے کا ابدی جہنمی ہونا اور ایسے شخص کے گھر نماز نہ پڑھنا جس نے اپنے مال میں سے خُمس ادا نہ کیا ہو یا اس کے دسترخوان پر نہ بیٹھنا وغیرہ شامل ہے (بقول ڈاکٹر موسیٰ)۔

صفحہ 2 از 3