غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوف یا تقیہ کا الزام لگایا گیا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 3

اسی طرح شیعہ فقہاء نے فتویٰ دیا کہ منافع میں سے خُمس امام غائب کا حق ہے (جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے) اس کا ان فقیہوں اور مجتہدوں کہ سپرد کرنا ضروری ہے جو امام کی نمائندگی کرتے ہیں اس طریقے سے اس بدعت نے شیعہ معاشرے میں فروغ پایا جو ہر علاقے اور ہر زمانے میں شیعوں کے اموال کی فصل کاٹتی رہتی ہے بہت سے شیعہ آج بھی یہ ٹیکس اپنے روحانی پیشوا کو ادا کرتے ہیں اور اس طرح کے وہ غریب اپنے پیشوا کے حضور عاجزی کے ساتھ بیٹھتا ہے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ اس کا ہاتھ چومتا ہے اور پھر بہت شاداں و فرحاں ہوتا ہے کہ اس کے پیشوا نے اس پر بڑی عنایت فرمائی ہے اور امام غائب کا حق اس کی جانب سے قبول کر لیا ہے بعض شیعہ فقہاء نے جن میں فقیہ احمد اردبیلی شامل ہیں جو اپنے زمانے کے سربر آوردہ فقہاء میں سے تھے حتیٰ کہ انہیں مقدس اردبیلی کا لقب دیا گیا غیبتِ کبریٰ کے زمانے میں خُمس میں تصرف کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا اسی طرح بعض شیعہ فقہاء (جو تعداد میں بہت ہی کم تھے) نے امام کی حدیثِ مروی اس قول کی بنا پر کہ "ہم نے اپنے شیطان کو خُمس معاف کر دیا ہے" شیعہ سے خُمس ساقط قرار دیا ہے البتہ شیعہ فقہاء کی اکثریت نے اقلیت کی آراء کو دیوار میں دے مارا اور آپس میں خُمس نکالنے کے واجب ہونے پر اتفاق کر لیا۔

کاش شیعہ فقہاء اور مجتہدین شیعہ کے بلا تر رہتے اور ایسا ذریعہ اختیار کر کے جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے شیعہ عوام کے دستِ نگر بننا پسند نہ کرتے بعض شیعہ علماء شیعہ عوام کے اموال میں سے خُمس وصول کرنے کا یہ کہہ کر دفاع کرتے ہیں کہ یہ اموال دینی مدارس اداروں اور دیگر مذہبی امور پر خرچ کیے جاتے ہیں لیکن سوال یہ نہیں ہے کہ یہ اموال کہاں اور کیوں خرچ کیے جاتے ہیں؟ بلکہ بحثِ اصولی واقعی اور مذہبی ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ اموال جھوٹے اور غلط طریقے سے لوگوں سے ہتھیائے جاتے ہیں وہ انہیں فی سبیل اللہ صرف کیا جائے لیکن یہ غیر شرعی ہیں ان میں تصرف ناجائز ہے۔

شیعہ فقہاء خود کفالت پر بھی اپنی شخصیت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں یہ بھی ہو سکتا تھا کہ فقہاء دوسرے پیشہ وروں کی طرح اپنے آپ پر اعتماد کرتے اسی طرح وہ علم اور علماء کی ترقی کے لیے لوگوں سے مال بھی لے سکتے تھے لیکن انہیں چاہیے تھا کہ مالی تعاون ہبہ اور عطیہ کے نام سے لیتے نہ کے فریضہ یا آسمانی حکم کے نام سے اس وقت جب یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں میں شیعہ کے مجتہدوں میں سے ایک ایسے مجتہد کو جانتا ہوں جو ابھی بقیدِ حیات ہے اس نے خُمس کے ذریعے اس قدر مال ذخیرہ کر رکھا ہے کہ ماضی کے قارون یا دور حاضر کے قارونوں کو ساتھی بنانے کے لیے کافی ہے ایران میں ایک ایسا مجتہد جو چند سال ہوئے قتل ہو گیا ہے اس نے لوگوں سے خواہی نخواہی خُمس و شرعی حقوق پر اتنی دولت جمع کر لی تھی جو دو کروڑ ڈالر کے برابر بنتی تھی اور بڑی مشکلات اور کئی مقاصد کے بعد ایرانی حکومت اسے اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہو سکی کہ مبادا اسے مجتہد کے وارث آپس میں تقسیم کرلیں یہ دل فگار تصویر ہے بدعتِ خُمس کے اثرات کی جسے شیعہ فقہاء نے شروع کیا اس میں شک نہیں کہ شیعہ کی مذہبی قیادت کبھی ختم نہ ہونے والے اس خزانے کی بدولت متعدد قوتوں سے الگ اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی جب تک شیعہ کی مذہبی قیادت کسی بھی جگہ اور کسی بھی دور میں خود کو عام لوگوں کے کاروبار کے منافع میں شریک سمجھتی رہے گی شیعہ معاشرے میں فکری استحکام کے لیے کوئی رہا نہیں ہوگی اور اس کا سبب واضح اور معروف ہے کہ یہ قیادت ان ضخیم خزانوں کی بدولت کہ جن کے حصول کے لیے انہیں ملازمین اور تحصیل داروں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اخلاص کے ساتھ راضی خوشی اس کے پاس چلے آتے ہیں وہ اس قابل ہو سکے کہ شیعہ قیادت کو سیاست کا ایسا مرکز بنا ڈالے تو شیعہ کو جس طرف چاہے لے جا سکے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قیادت نے شیعہ کو تاریخ کے ہر دور میں اپنے سیاسی اور اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

ایران کے شیعہ علاقے میں شیعہ اور ان کے قائدین کے تعلق کے نتیجے میں وہ برے اثرات رونما ہوئے ہیں جو حد و حساب سے فزوں تر ہیں جب خُمس کی بدعت کے ساتھ ولایت فقہی کی بدعت بھی مل گئی تو حالات اس آخری حد تک بگڑ گئے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا

ولایت فقہی پر تفصیل سے بحث کرنے سے پہلے تاریخ کے بیان میں امانت اور اپنے پیغام میں اخلاص کا ثبوت دینے کے لیے ہم اس مقام پر یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ بلاشبہ بعض قائدین نے فکرِ اسلامی کی خدمت انجام دی ہے اور کئی مرتبہ حکام کے استبداد یا استعمار کے خلاف جنگ میں ملکی مفادات کی خدمت کی ہے لیکن جب ہم ان لوگوں کو اپنے اثر و رسوخ کے عام مفاد کے لیے استعمال اور اکثریت کو اپنے اثر و رسوخ کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کا موازنہ کرتے ہیں اور ان کو ترازو میں رکھتے ہیں تو واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ذاتی مفادات کا پلڑا عام مفادات پر کچھ اس طرح بھاری ہے کہ آدمی ورطہ حیرت میں گم اور غم و اندوہ میں غرق ہو کر رہ جاتا ہے۔


صفحہ 3 از 3