ولایت فقیہ کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ولایت فقیہ کا عقیدہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 6

ولایتِ فقیہ کا عقیدہ

ولایتِ فقیہ دوسرا یا دوسری بدعت ہے جس کا اضافہ ان لوگوں کے تسلط کے زیر اثر کیا گیا جو زمانہ غیبتِ کبریٰ میں امام مہدی کی نیابت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ نظریہ دقیق تر معنیٰ میں حلوی نظریہ ہے جو اسلامی فکر میں مسیحی انداز فکر کی طرف سے آیا جو کہ اللہ تعالیٰ کے مسیح کی شکل میں اور مسیح کے فقیہ اعظم کی شکل میں ظاہر ہونے کا قائل ہے تفتیشی عدالتوں کے زمانہ میں سپین اٹلی اور فرانس کے ایک حصہ میں پاپائے روم بے پایاں خدائی اختیارات کے نام سے فیصلے کرتا اور پھانسی پر لٹکانے زندہ جلانے اور قید کرنے کی سزائیں سناتا تھا اس کے "گارڈ" پرامن گھروں میں شب و روز داخل ہوتے اور ان کے مکینوں کے ساتھ برا اور مفسدانہ سلوک کرتے غیبتِ کبریٰ کے بعد یہی بدعت شیعی طرز فکر میں شامل ہو گئی اس نظریہ نے اس وقت مذہب کا رنگ اختیار کر لیا جب شیعہ علماء نے امامت کے متعلق زیادہ زور دینا شروع کیا اور یہ کہنے لگے کہ یہ الہٰی منصب ہے جو رسول کے نائب کے طور پر امام کے سپرد کیا گیا ہے اور یہ کہ امام زندہ لیکن نظروں سے غائب ہے تاہم غائب ہونے کے سبب اس کے وہ اختیارات مفقود نہیں ہوئے جو اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل تھے اور یہ اختیارات اس کے نائبین کی طرف منتقل ہو گئے ہیں کیونکہ غائب ہر معاملہ میں اس کی نمائندگی کرتا ہے جس کا وہ نائب ہو۔ 

اس طرح شیعی انکار کے بڑے حصہ کا احاطہ ولایتِ فقیہ نے کر لیا لیکن ان میں سے بہت سوں نے سابق الذکر معنیٰ میں "ولایت" کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ولایت رسول اللہﷺ اور ان کے بعد بارہ اماموں کے ساتھ خاص ہے اور امام کے نائبین کی طرف منتقل نہیں ہوتی فقیہ کی ولایت قاضی سے بڑھ کر نہیں ہوتی جو ایسے اوقاف کے لیے امین مقرر کر سکتا ہے جس کا کوئی متولی نہ ہو یا پاگل اور عاجز کا نگران مقرر کرنے کا اختیار رکھتا ہے

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ "ولایت فقیہ" کا نظریہ عالم خیال سے علمی دائرہ کار میں آنے کا موقع نہیں پا سکا یہ موقع صرف اس وقت ملا جب ایران میں شاہ اسماعیل صفوی نے اقتدار پر قبضہ کیا یہ وہی زمانہ ہے جسے ہم نے شیعہ اور تشیع کے درمیان معرکہ آرائی کا عہد قرار دیا ہے۔

ایران پر شیعہ کا تسلط 907 ھ میں ہوا

شاہ اسماعیل ایک صوفی خاندان میں پیدا ہوا جس کا مستقر اردبیل شہر میں تھا جو ایران کے شمال مغرب میں واقع ہے اس کے آباء و اجداد صوفی تحریک کے مرکز و محور تھے جس کا شعار علی اور ان کے اہلِ بیتؓ کی محبت تھا اور ترکی آذربائیجان میں اس کا بڑا اثر رسوخ تھا 907 ھ میں شاہ اسماعیل نے قوت حاصل کر لی اور ایرانیوں اور عثمانیوں کے درمیان جنگوں کے بعد جنہوں نے ایران کو تباہ کر ڈالا ایران کا بادشاہ بن بیٹھا اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ اسماعیل جس کی باوقار تاج پوشی ہوئی تو وہ صرف 13 برس کا تھا کہ پشت پر صوفی قیادت کار فرما تھی جو نوجوان بادشاہ کو اپنے مقاصد کے مطابق استعمال کر رہے تھے اور جب شاہ اسماعیل نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ایران قم قاشان اور نیشاپور جیسے چند شہروں کے سوا شیعہ کا وجود نہ تھا شاہ نے شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دینے کا اعلان کیا صوفیوں کے جلوس ایرانی شہروں کے درمیان سیدنا علیؓ اور اہلِ بیتؓ کی مدح پر مشتمل اشعار و قصائد پڑھتے ہوئے آنے جانے لگے یہ لوگ عامۃ الناس کو شیعہ مذہب میں داخل ہونے کی ترغیب دیتے شاہ اسماعیل صفوی نے شیعہ مذہب اختیار کر لینے کا اعلان نہ کرنے والوں کی گردنیں تلوار سے اڑا دیں۔

اس مقام پر ایک لطیفہ بھی ہم ذکر کر دیں اصفہان کے شہری خارجی تھے جب ان تک شاہ کا شیعت قبول کر لینے یا ان کی گردنیں اڑا دینے کا حکم پہنچا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں چالیس روز کی مہلت دی جائے تاکہ اس دوران وہ سیدنا علیؓ کو زیادہ سے زیادہ سبِّ و شتم کر سکیں بعد ازاں وہ نئے مذہب میں داخل ہو جائیں گے چنانچہ انہیں نے ان کی خواہش کے مطابق مہلت دی گئی اس طرح اصفہان بھی دوسرے شیعہ شہروں کی صف میں شامل ہو گیا۔

باوجود امریکہ شاہ اسماعیل بذاتِ خود اپنی پرورش اور صوفیانہ مقام کے اعتبار سے شیعہ ہی تھا لیکن ایران کو خالص شیعی رنگ میں رنگنا نئی حکومت کا درد سر تھا عثمانیوں کے ساتھ جنگیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے علاقائی جنگیں تھیں جن کی جڑیں قدیم تھی لیکن مگر اس سلسلہ کا جاری رہنا مسلمان کی مسلمان کے ساتھ جنگ حرام ہونے کے نظریہ سے متصادم تھا اور مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا ایسا معاملہ تھا کہ ایران کے اندر اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا عثمانی خلافت کے ساتھ منسلک رہنا اور خلیفہ کا مطیع رہنا جسے امیر المومنین کا لقب دیا جاتا تھا ایسا معاملہ تھا جس کے حامی موجود تھے لیکن شاہ اسماعیل کے ایرانی قوم کو سکھائے ہوئے نئے دین نے ایرانیوں میں شدید تعصب پیدا کر دیا اور عثمانی خلیفہ کی ایران کو خلافت عثمانیہ میں شامل رکھنے کی تمام امیدوں کا خاتمہ کر دیا اور اس وقت جب کہ شاہ خود کو صوفیوں کا مدار و محور سمجھے ہوئے تھا شیعوں نے ایسی شان و شوکت حاصل کر لی جس کی مثال نہیں ملتی مگر اس نے بھی ولایت فقیہ کا سہارا لیا۔

ہمارے زمانہ کی تاریخ میں جو کہ شیعہ اور تشیع کے درمیان معرکہ آرائی کا دور ہے ولایت فقیہ شیعہ ممالک میں جو حوادث کے اسٹیج پر خونخوار اور تند و تیز صورت میں ظاہر ہو رہی ہے جس نے تمام انسانی اور اسلامی اقتدار کو بیک قلم مٹانا شروع کر دیا ہے اس نظریہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان پھوٹ پڑنے والا اختلاف جس نے خوفناک معرکہ آرائی کی صورت اختیار کر لی ہے نیز حکمران فقہاء کا جبر تشدد جس کا نشانہ حکومت سے باہر رہنے والے فقہاء کو بنایا گیا شاید اندوہناک ترین اختلافات میں سے ہے جن کی ذمہ داری ولایت فقیہ کے سر پر ہے۔

صفحہ 1 از 6