ولایت فقیہ کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ولایت فقیہ کا عقیدہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 6

 جیسا کہ تھوڑی دیر پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں فقہی بحثوں جدل سے ہٹ کر بعض دیگر اہم ترین زادیوں سے متعہ کا گہری نظر سے جائزہ لوں گا فرزندانِ شیعہ امامیہ میں سے تعلیم یافتہ اور مہذب طبقہ کے ساتھ اس کی بھیانک صورت رکھوں گا میری تمام اصلاحی کوشش اور اس کی عملی صورت اگر اس طبقہ کے ساتھ وابستہ ہے انہی سے مجھے امید اور توقع ہے کہ وہ اصلاحی تصحیح کی مساعی کو آگے چلانے کے لیے قیادت کریں گے بلاشبہ جو اسلام انسان کی تکریم کے لیے آیا ہے جیسا کہ درج ذیل آیت میں ارشاد ہوا ہے:

 وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ الخ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 70)۔

"ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم بخشی"۔

رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (الحدیث)

"مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے"۔

 کیا ممکن ہے کہ یہ اسلام کوئی ایسا قانون دے جس میں ایسی جنسی اباحت ہو اور عورت کے وقار کی اس حد تک توہین کی گئی ہو جس کی نظیر ہمیں اباحیت پر قائم معاشروں کی قدیم و جدید تاریخ میں کہیں نہ مل سکے حتیٰ کہ "لوئی چہار دہم" "وارسا" میں واقع اپنے محل میں ترکی اور فارسی بادشاہ اپنے محلات میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔

 مذکورہ بالا آیت میں بنی آدم کے لفظ میں مرد و عورت برابر شامل ہیں اور جن مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے رسول اللہﷺ تشریف لائے تھے وہ بھی مرد و عورت دونوں جنسوں کے لیے ہیں قانون متعہ میں عورت کی تکریم اور اس کے اخلاق کی حفاظت کا کیا مقام ہے؟ اس قانون میں عورت کا مقام صرف ذلت اور رسوائی ہے اور اس کی حیثیت بالکل اس سودے کی ہے جسے جب چاہے ایک کے بعد دوسرا بغیر کسی حد و شمار کے بدلتا رہے عورت جسے اللہ تعالیٰ نے اس شرف سے نوازا ہے کہ جہاں وہ ماں کی حیثیت سے عظیم مردوں اور عورتوں کو برابر طور پر جنم دیتی ہے وہاں اسے ایک ایسا مرتبہ بھی دیا ہے جو ماں کے علاوہ کسی کو نہیں دیا فرمایا:

 الجنۃ تحت اقدام الامھات۔ 

 جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

 کیا اس بلند مرتبہ ماں کی شایان شان ہے کہ وہ اپنے اوقات یکے بعد دیگرے مختلف مردوں کی آغوش عشرت میں دادِ عش دیتے ہوئے گزارے اور ایسا ہو بھی شریعت کے نام سے؟۔

 شیعہ مذہب میں متعہ کی کوئی گنجائش نہیں

ہمارے بعض فقہاء نے اللہ انہیں معاف کرے متعہ کی ایک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہتے ہیں گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس نے ایسا شرعی قانون بنایا جس کی بدولت مرد بدکاری میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے لیکن اس کے ذہن میں یہ پہلو نہ آیا کہ اسلام صرف مردوں ہی کا دین نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے نازل ہوا ہے جس میں عورتیں بھی شامل ہیں اور قوانین المیہ اور شرائع سماویہ اس لیے نہیں اترے کہ انسان کی شہوتیں اور جنسی تقاضے شریعت و قانون کے پردے میں پورے ہوتے رہیں اسلام تو اس لیے آیا ہے کہ لوگوں کو زمانہ جاہلیت کی اباحیت سے نکال کر فضائل و اخلاق سے آراستہ کرے نہ اس لیے کہ جاہلیت اور اس کے مظاہر کو تشریع اور قانون الہٰی کا تقدس دے۔

 اسلام بیک وقت چار سے زائد بیویاں جمع کرنے کو حرام قرار دیتا ہے اور ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لیے سخت ترین شرط رکھتا ہے جیسے کہ آیت ذیل میں تصریح آئی ہے:

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً الخ۔ (سورة النساء آیت 3)

 "پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو"۔

اور بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنا مشکل ترین کام ہے بعض اوقات تو ناممکن کی حد تک پہنچ جاتا ہے اس قسم کی شرط (عدالت) رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرد کو مقید رکھا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ تعدد ازواج کے راستہ پر چلتا ہوا انسان طبعی تقاضے بشری ضرورت نسل اور خاندان کی تنظیم اور امت کے مفاد سے بڑھ کر شہوات نفسانی کی وادی میں چل نکلے اس لیے طلاق کی کراہت کے متعلق سختی سے بیان ہوا ہے جیسے کہ ارشاد نبوی:

ان ابغض الحلال الی اللہ الطلاق۔

"حلال امور میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسند طلاق ہے"

اور طلاق کو بھی سخت ترین شروط و قیود کے ساتھ مقید کر دیا ہے ان شروط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وقوعِ طلاق کے لیے دو گواہوں کی حاضری ضروری ہے

 ایک ایسا آسمانی دین جس کا مؤقف نکاح اور اس کی شروط کے بارے میں اتنا واضح اور ٹھوس ہو کیا یہ بات قرین عقل ہے کہ وہ خود ہی اپنے اس قانون کے منافی کوئی ایسا قانون جاری کرے جس میں اتنی بے لگام اباحیت ہو کہ آسمان اور زمین اس سے لرزنے لگیں اور اسلام جیسا دین ایسی اباحیت کا اختیار دے۔

مجھے یقین ہے کہ میری یہ ندائے اصلاح اپنے گرد ان تمام فرزندانِ شیعہ کو جمع کر لے گی جو ایسے قلب و نظر سے بہرہ اور ایسی سوچ رکھتے ہیں جس سے وہ معاملے کی سنگینی گر انباری اور ذلت و رسوائی کا ادراک کرتے ہیں اور معاملہ آفتاب نصف النہار سے بھی زیادہ واضح اور ظاہر ہے۔

 اصلاح:

یہاں مسئلہ تصحیح سے بہت زیادہ اہم ہے یہ بڑی ہو شربا حالتِ بد شیعہ افکار میں داخل ہو گئی ہے حتیٰ کہ وہ روایات جو اس کے حلال ہونے کے بارے میں آئی ہیں خواہ وہ کتب شیعہ میں ہوں یا دیگر لوگوں کی کتابوں میں حتیٰ کہ وہ روایات جو یہ بیان کرتی ہیں کہ یہ صدر اسلام میں جائز تھا حالانکہ خلیفہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے اسے حرام قرار دے دیا میں یہی باور کرتا ہوں کہ یہ تمام روایات اسلام کے رخِ زیبا کو داغدار کرنے کے لیے وضع کی گئی ہیں اور دوسری جانب دیگر تمام اسلامی فرقوں نے اس نظریہ کی اہمیت اور اس کے بڑے بڑے معاشرتی اور اخلاقی مفاسد کی حقیقت کو پا کر اس کے مقابلے میں ایسا موقف اختیار کیا جو حق عدل اور فضیلت کے امتیازی نشانات کا حامل ہے لیکن ہمارے فقہاء شیعہ یا تو مسئلہ کی سنگینی کا ادراک نہیں کر سکے یا سب کچھ سمجھنے کے باوجود صرف جمہور اہلِ اسلام کی مخالفت کے شوق میں ہی غضب الہٰی کو دعوت دینے والی لعنت کو حلال قرار دیا اور اس کی اجازت دی کیونکہ جمہور مسلمانوں کی مخالفت کی فضیلت میں کئی روایات وضع کر کے انہیں جھوٹ اور بہتان باندھتے ہوئے سیدنا صادقؒ کی طرف منسوب کیا گیا جن میں آیا ہے:

الرشد فی خلافھم۔

 "ہدایت ان کی مخالفت میں ہے"۔ 

صفحہ 2 از 6