ولایت فقیہ کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ولایت فقیہ کا عقیدہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 6

یعنی اہلِ سنت والجماعت کی رائے سے اختلاف کرنے میں ہی رشد و ہدایت ہے ہمارے فقہاء کے فقہی استدلالات میں اس ناقابلِ فہم پچیدگی کے علاوہ میرا خیال ہے کہ وقتی نکاح کے نظریہ کو شیعہ خصوصاً نوجوانوں کے لیے مذہب کو جاذب نظر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس مذہب میں کچھ خاص امتیازات جنہیں دیگر اسلامی مذاہب تسلیم نہیں کرتے بلاشبہ دین کے نام سے جائز قرار دے کر جنسی لالچ دینا ایک ایسا عمل ہے جو اپنے اندر ہر جگہ اور ہر وقت نوجوانوں اور کمزور طبع لوگوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے جب میں اپنی کتب روایات میں ایسی روایات پڑھتا ہوں جو متعہ کی فضیلت اس کے ثواب اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کے لیے ائمہ کے نام منسوب ہیں تو مجھے ہرگز کوئی تعجب نہیں ہوتا میں ان روایتوں کے بارے میں اپنی صریح اور واشگاف موقف کی طرف اس کتاب میں کئی مقامات میں اشارہ کر چکا ہوں اور ہمارے تمام تر توجہ اسی پر مرکوز ہے کہ شیعہ گروہ کو اللہ ان روایات سے نجات دلائے۔

میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو شیعہ کے مستقبل اصلاح کے بارے میں ان کے موقف اس کے اصول و مبادی کی طرف غیر مشروط رجحان و میلان سے لمحہ بھر کے لیے بھی نا امیدی سے دوچار نہیں ہوں ہو سکتا ہے کہ اس اسلامی کوشش کو ابتدائی مرحلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے لیکن کلمہ حق بالآخر اپنا راستہ خود بخود بنا لیا کرتا ہے بیدار مغز تعلیم یافتہ مہذب طبقہ جو اپنے آپ کو ناکارہ و افکار سے آزاد کرا سکتا ہے جو انہیں ماں باپ اور فقہاءِ مشائخ نے تلقین کیے ہوں کی خصوصی توجہ دنیا بھر میں شیعہ کے مستقبل کی بہترین ضمانت ہے۔

 میں ایک بار پھر عارضی نکاح کی طرف آتا ہوں اور ان فقہاء سے سوال کرتا ہوں جو متعہ کے جواز اور اس پر عمل کے مستحب ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں کیا وہ اپنی بیٹیوں بہنوں اور رشتہ دار لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کی کسی حرکت کی اجازت دینا پسند کریں گے یا ان کے بارے میں ایسی بات سن کر ان کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے رگیں پھول جائیں گی اور غصے پر قابو نہیں رکھ سکیں گے۔

 عاشورہ محرم کے نام سے غلط رواج نواسہ رسولﷺ کے نام پر ہنگامہ آرائی

ضرورت کا تقاضہ ہے کہ ہم دس محرم کو سیدنا حسینؓ کے غم میں آہنی زنجیروں سے کندھے پیٹنے تلواروں اور سنگینوں سے سر پھوڑنے کا ذکر مستقل فصل میں کریں۔

چونکہ یہ بدصورت مظاہرہ تاحال شہادتِ سیدنا حسینؓ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات و مجالس کی رسموں کا حصہ ہے اور ہر سال ایران پاکستان ہندوستان اور لبنان کے علاقوں میں برپا ہوتا ہے اور پاکستان کے بعض علاقوں میں تو اہلِ سنت اور شیعہ کے درمیان خونی معرکے کا سبب بنتا ہے فریقین کی سینکڑوں بے گناہ جانیں اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

 جیسا کہ ہم گزشتہ فصل میں کہہ چکے ہیں کہ شیعہ کئی صدیوں سے عاشورہ محرم کا دن بطورِ یادگار مناتے ہیں ان زیارتوں کی قرات کے علاوہ جن کا ہم تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں اس دن شیعہ شعراء قبر سیدنا حسینؓ کے پاس اپنے قصائد بھی پیش کرتے ہیں حتیٰ کہ ایک عربی شاعر "شریف رضی" نے جب قبر سیدنا حسینؓ کے پاس اپنا "عصماء" نامی قصیدہ پڑھا جس کا مطلع ہے ع "کربلاء لازلت کرباو بلا" اور جب درج ذیل شعر پر پہنچا:

 کم علی نریتک کما صرعوا

 من دم سال مون قتل جری

"تیری قبر پر جب معرکہ بپا ہوا تو کس قدر خون بہا اور کتنے ہی قتل ہوئے"۔

تو رونے لگا اور اس قدر رویا کہ بے ہوش ہو گیا اور یہ بھی ثابت ہے کہ ائمہ شیعہ محرم کی 10 تاریخ کا اہتمام سے مناتے اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے زائرین سے تعزیتیں قبول کرتے اس دن لوگوں کو کھانا بھی کھلاتے ان کے سامنے سیدنا حسینؓ اور رسول اللہﷺ کے اہلِ بیت کے فضائل اور ان کی شہادت کی یاد میں قصیدے پیش کرتے اور خطبے دیتے ہیں۔

 زائرینِ کربلا میں اور قبرِ سیدنا حسینؓ کے پاس جلوس کی صورت میں اور انفرادی طور پر گزرتے اور گریہ زاری کرتے ہوئے مذکورہ زیارتوں کی تلاوت کرتے ہوئے اور یہ بھی اس احتفال و زیارت کا حصہ ہوتا ہے اور یہ رسم جو شیعی دنیا میں سیدنا حسینؓ کے لیے منعقدہ مجالس میں اب تک جاری ہے اس کا خاتمہ لازماً آہ و بقا پر ہوتا ہے۔ کیونکہ:

من بکیٰ تباکر علی الحسینؓ وجبت علیہ الجنۃ۔

ترجمہ: "جو شخص حسینؓ کے غم میں رویا اور مکر سے ٹسوے بہائے اس کے لیے جنت واجب ہے"۔

جیسا کہ ائمہ کی طرف منسوب بعض روایتوں میں ذکر ہے (نعوذ باللہ کیا ائمہ اسی بات کہہ سکتے ہیں)۔

ایسے ہی شیعہ سیدنا حسینؓ کے غم میں محرم و صفر میں سیاہ لباس پہنتے ہیں اور اس سیاہ پوشی کی عادت نے اس وقت خاصی وسعت اختیار کر لی جب شیعہ اور تشیع میں پہلا معرکہ بپا ہوا اور جب شیعہ سیاسی اور اس اسلامی سٹیج پر ایک ایسی قوت بن کر ابھرے جو برسرِ اقتدار خلافت کو ملیامیٹ کر دینا چاہتی تھی عاشورہ محرم کی تقریبات کی ترویج و ترقی میں بابو یہی خاندان کا بھی بڑا واضح کردار ہے جنہوں نے ایران و عراق پر خلافت عباسیہ کی حمایت کے نام سے حکومت کی لیکن ان محفلوں نے اس وقت عام رواج پکڑا اور شیعی طبیعت و مزاج کا گویا حصہ بن گئی جب شاہ اسماعیل صفوی نے زمام اقتدار سنبھال لی اور ایران کو شیعت میں داخل کر دیا اور اہلِ ایران میں مذہب کے ساتھ خصوصی تعلق پیدا کر دیا تاکہ ایران کے پڑوس میں واقع ممالک خلافتِ عثمانیہ کے مقابلے میں ڈٹ جائیں جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں اور صفوی شاہی دربار ہر سال عشرہ محرم میں سوگ منانے کا اعلان کرتا اور عاشورہ کے دن تقریب میں آنے والوں کا استقبال شاہ خود کرتا شاہی محل سرا میں اس غرض سے خاص محفل منعقد ہوتی جس میں عام لوگ جمع ہوتے اور شاہ بذاتِ خود ان میں حاضری دیتا ایسے ہی شاہ عباس اول صفوی اس نے پچاس برس حکومت کی اور وہ شاہان صفوہ میں قوت "گرفت" اور مکاری و عیاری میں سب سے بڑا ہوا تھا وہ بھی عاشورہ محرم کو سیاہ لباس پہنتا اور اپنی پیشانی پر کیچڑ مل لیتا اور جلوس جب سیدنا حسینؓ کی مدح اور ان کے قاتلوں کے خلاف اظہارِ نفرت کرنے کے لیے مرثے گاتے ہوئے سڑکوں پر چلتے تو شاہ مذکور ان کی قیادت کرتا تھا) یہ سب چیزیں بعد کی پیداوار ہیں جیسا کہ آگے آ رہا ہے)۔

صفحہ 3 از 6