ولایت فقیہ کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ولایت فقیہ کا عقیدہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 6

زنجیر زنی کا شیعہ مذہب سے کوئی تعلق نہیں:

ہمیں یہ تو بالضبط معلوم نہیں ہو سکا کہ عاشورہ کے دن آہنی زنجیروں سے کندھے پیٹنے کا آغاز کب ہوا اور ایران عراق وغیرہ جیسے شیعہ علاقوں میں اس رسم نے کب رواج پایا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تلوار سے سرکوبی اور اسے زخمی کر کے عاشورہ محترم کو سیدنا حسینؓ پر اظہارِ غم کا طریقہ ایران اور عراق میں ہندوستان سے انگریزی استعمار کے زمانے میں شروع ہوا ہے اور انگریز شاطر نے شیعہ کی جہالت سادگی اور سیدنا حسینؓ کے ساتھ اندھی عقل اور محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سیدنا حسینؓ کے غم میں سرکوبی کو تعلیم دی۔

 حتیٰ کہ ماضی قریب میں بھی بغداد اور تہران میں برطانوی سفارت خانے حسینی تعزیہ کے جلوسوں کی مدد کرتے رہے ہیں جو اسی مذکورہ بالا بدترین مظاہرے کی شکل میں گلیوں اور بازاروں میں چکر لگاتے تھے انگریزی استعمار کے ان بدترین جلوسوں کی کاروائی کی ترویج و اشاعت کے پسِ پردہ انتہائی مکروہ سیاسی مقاصد تھے وہ ان کی نمائش کو برطانوی عوام اور آزاد اخبارات کے سامنے جو حکومت برطانیہ کے ہندوستان اور دیگر اسلامی ممالک میں نو آبادیاتی نظام کی مخالفت کر رہے تھے بطور ایک معقول وجہ جواز کے پیش کرنا چاہتا تھا تا کہ وہ ان ممالک کے عوام کے وحشیانہ مظاہرے سے یہ ثابت کر سکے کہ یہ قومیں کسی ایک تعلیم کی محتاج ہیں جو انہیں جہالت و بربریت سے نکال سکے یہ تعزیتی جلوس جو دس محرم کو عام بازاروں کے چکر لگاتے ان میں کبھی ہزاروں لوگ شریک ہوتے جو آہنی زنجیروں سے اپنی پیٹھوں کو لہولہان کر لیتے تلواروں اور خنجروں سے اپنے سروں کو زخمی اور خون آلود کر لیتے ان کی تصویریں یورپ کے انگریزی اخبارات میں چھاپی جاتیں اس سے شاطر سمراجی یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ جن اقوام کی ثقافت کا مظہر یہ تصویری جھلکیاں ہیں نو آبادیاتی نظام کے ذریعے ان ممالک کے عوام کو شہریت و ترق کے راستے پر گامزن کرنا ہماری انسانی ذمہ داری ہے۔

کہتے ہیں کہ عراق میں انگریزی عہد اقتدار میں اس وقت کے عراقی وزیراعظم یاسین ہاشمی جب انگریزی راج ختم کرانے کے لیے مذاکرات کرتے لندن گئے تو ایک انگریز نے ان سے کہا ہم تو صرف اس لیے عراق میں رکے ہوئے ہیں کہ عراقی قوم کو احمقانہ انارکی سے نکالیں تاکہ وہ ہم دوش سعادت ہو سکے یاسین ہاشمی اس بات پر برا فروختہ ہو کر غصے کی حالت میں کمرہ مذاکرات سے باہر نکل آئے تو انگریز نے ان سے بڑی لجاجت اور نرم خوئی سے معذرت کر لی پھر پورے احترام سے ہاشمی کو عراق کے بارے میں ایک دستاویز فلم دیکھنے کو کہا جس میں نجف کربلا اور کاظمیہ کی شاہراہوں پر چکر لگاتے ہوئے تعزیہ سیدنا حسینؓ کے جلوس دکھائے گئے تھے جو بڑے خوفناک اور قابلِ نفرت منظر پیش کر رہے تھے گویا انگریز یہ کہنا چاہتا تھا کہ جس قوم میں ذرا بھر بھی تہذیب کا حصہ ہو وہ خود اپنے ساتھ یہ مار دھاڑ کر سکتی ہے؟۔

 یہاں ایک پر لطف روشن خیالی اور حکمت پر مشتمل مکالمہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا یہ گفتگو میں نے تیس برس قبل شیعہ فرقہ کے ایک بڑے عالم اور شیخ سے سنی تھی وہ باوقار کبیر الحسن شیخ دس محرم کے دن دوپہر بارہ بجے مقامِ کربلا میں روضہ سیدنا حسینؓ کے قریب میرے پاس کھڑا تھا اسی اثناء میں ایک جلوس بھنگڑا ڈالتا ہوا آیا سروں کو تلواروں سے زخمی کیے ہوئے غمِ سیدنا حسینؓ میں خون بہاتا ہوا ایک اور جم غفیر روضہ سیدنا حسینؓ پر وارد ہوا پیشانیوں اور پہلوؤں سے بھی خون بہہ رہا تھا انتہائی قابلِ نفرت شکل میں جسے دیکھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے پھر اس کے پیچھے ایک اور جلوس آگیا وہ بھی بہت بڑی تعداد میں تھا اور زنجیروں سے اپنی کمریں لپیٹ کر اپنے آپ کو خون آلود کیے ہوئے تھے ان جلوسوں کو دیکھ کر وہیں اس بوڑھے شیخ اور وسیع الظرف عالم نے کچھ سوالات کیے اور ہمارے مابین درج ذیل گفتگو ہوئی:

 شیخ نے پوچھا: "ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے یہ خود ہی اپنی جانوں کو ان مصائب و آلام میں مبتلا کیے ہوئے ہیں؟" 

میں نے کہا: "آپ سن نہیں رہے یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ ہائے حسینؓ ہائے حسینؓ تو پکار رہے ہیں جس کا مطلب واضح ہے کہ یہ ماتمِ سیدنا حسینؓ میں اپنی یہ حالت بنائے ہوئے ہیں۔"

پھر شیخ نے نیا سوال کیا: "کیا سیدنا حسیؓن اس وقت قادر مطلق بادشاہ کے پاس پاک مقام میں نہیں ہیں؟"

میں نے کہا: "یقیناً وہیں ہیں"۔

شیخ نے پھر پوچھا: "کیا اس وقت سیدنا حسینؓ اس جنت میں نہیں ہے جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی طرح ہے وہ متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔" 

 میں نے کہا: "ہاں (بالکل اس جنت میں ہیں)"

 شیخ نے سوال کیا: "کیا جنت میں بڑی بڑی آنکھوں والی تہ کیے ہوئے آبدار مورتوں کی طرح حوریں نہیں ہیں؟" 

میں نے کہا: "ہیں" 

شیخ نے ٹھنڈی آہ بھری اور رنج و غم سے بھرپور لہجے میں کہا صدِ افسوس ان بد دماغ جاہل لوگوں پر کہ یہ اس وقت سیدنا حسینؓ مرحوم کی خاطر اپنی یہ حالت بنائے ہوئے ہیں جبکہ سیدنا حسینؓ اسی لمحے جنت اور اس کی نعمتوں میں ہیں اور دائم نوجوان خدمت گزار ان کے اس پاس آفتابے آب خورے اور شراب ناب کے گلاس لے کر پھر رہے ہیں۔

ماتم سینہ کوبی اور زنجیر زنی کی حرمت

1352 ہجری میں جب شام کے سب سے بڑے شیعی عالم سید محسن امین عالمی نے ان جیسے اعمال کے حرام ہونے کا اعلان کیا اور اپنی رائے کے اظہار میں عدیم النظیر جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیعہ سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ طوفان برپا کرنے سے باز آ جائیں تو انہیں علماء کی صفوں میں سے ہی بعض مذہب کے ٹھیکے داروں کی طرف سے بڑی زوردار مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور مذہب کے ان اجارہ داروں کے پیچھے سیدنا علیؓ کے الفاظ میں "کمینے بے لگام اور بے وقوف" لوگوں کی طاقت تھی اور قریب تھا کہ سید امین کے یہ اصلاحی اقدامات ناکامی سے دوچار ہوتے اگر ہمارے دادا مرحوم سید ابو الحسن شیعہ کے زعیم اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے موقف کی تائید کر کے ان کی پشت پناہی نہ کرتے جدِ امجد نے ان اعمال کے خلاف سید امین کی رائے کے حق میں غیر مشروط تائیدی اعلان کیا اور ان کی حمایت میں فتویٰ جاری فرمایا۔

صفحہ 4 از 6