ولایت فقیہ کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ولایت فقیہ کا عقیدہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 5 از 6

سید امین کی اصلاحی تحریک کے حق میں ہمارا دادا مرحوم کی تائیدی موقف کے بڑے دور رس اثرات ظاہر ہوئے اگرچہ سید ابو الحسن کے خلاف بھی کئی مجتہدین اور فقہاء نے آواز اٹھائی جیسا کہ اس سے قبل سید امین کا ان سے پالا پڑا تھا مگر سید ابوالحسن نے بالاخر اپنے ارفع و اعلیٰ مقام و مرتبہ کی وجہ سے سب کو زیر کر لیا اور جمہور شیعہ نے اس بزرگ ترین رہنما کا فتویٰ تسلیم کرتے ہوئے اس کی اطاعت شروع کر دی اور آہستہ آہستہ ان اعمال شفیعہ میں کمی واقع ہونے لگی اور یہ شریعت کی سکرین سے غائب ہونے لگے لیکن ان کے آثار بالکل مٹنے نہ پائے تھے بلکہ کچھ کمزور سے مظاہر اب بھی باقی تھے کہ جدِ امجدؒ 1365ھ میں وفات پا گئے تو شیعت کی نوخیز لیڈرشپ نے نئے سرے سے لوگوں کو ان اعمال کے لیے اکسانا شروع کر دیا اور ان کے اثرات پھر سے شیعی دنیا میں رونما ہونے لگے لیکن وہ صورت حال دوبارہ نہیں آئی جو 1353ھ سے پہلے تھی۔

اور جب ایران میں اسلامی جمہوریت کا اعلان ہوا اور اقتدار پر "ولایت فقیہ" نے قبضہ کیا تو مذہبی سیاست کے حصے کی حیثیت سے ان اعمال کے احیاء کے لیے احکام صادر ہو اور تازہ دم اسلامی جمہوریہ نے پوری دنیا میں موجود شیعہ کو مالی اور اخلاقی مدد کر کے اس بدعت کے احیاء کے لیے برانگیختہ کیا جسے انگریزی استعمار نے دو سو برس قبل عالم اسلام کے شیعی علاقوں میں رواج دیا تھا انگریز کا مقصد یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا یہ قبیح اور بدنما مظہر دنیا کے سامنے پیش کر کے عالمِ اسلام پر اپنے استعمار کا جواز حاصل کر سکے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ 

اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں صدِ افسوس کہ پاکستان ایران ہندوستان اور لبنان کے شہروں میں دس محرم کو ہر سال بڑے بڑے جلوسوں کے مظاہرے ہوتے ہیں بالکل اسی وحشیانہ صورت میں سڑکوں پر گشت کرتے ہیں جس کی ہم تصویر کشی کر چکے ہیں اور پھر اسی روز خوفناک جنون اور انسانی حماقت کے منہ بولتی تصویریں مشرق و مغرب کی ٹی وی سکرین پر دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ اسلام اور مسلمانوں پر برے وقت کا انتظار کرنے والے دشمنانِ اسلام کی تقویت کا باعث بنیں (ممتاز شیعہ عالم کی زبان سے حقیقت پسندی کا یہ اعلان عجائبات سے کم نہیں)

 اصلاح:

امامیہ شیعہ کے تعلیم یافتہ اور مہذب طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جاہل عوام کو ہر ممکن کوشش کر کے اس قسم کے کاموں سے روکیں جنہوں نے سیدنا حسینؓ کی انقلابی تحریک کا چہرہ مسخ کر کے اس کی اصل شکل بگاڑ دی ہے اور مبلغ اور واعظ حضرات پر تو اس سے بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس بارے میں واضح ترین کردار ادا کریں یہاں میں پوری صراحت و وضاحت سے اس حقیقت کا اظہار کر دینا چاہتا ہوں کہ عاشورہ محرم کو شہادتِ سیدنا حسینؓ کا مقصد و سبب اس سے بہت بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ تھا جس کی تصویر آج شیعہ پیش کرتے ہیں آپ نے ہرگز جامِ شہادت اس لیے نہیں نوش کیا تھا کہ لوگ ان کے غم میں روئیں چہرے پیٹیں اور درماندہ و مسکین کی سی صورت اختیار کریں بلکہ امام ممدح تو ظلم و استبداد کے مقابلے میں شجاعت و بہادری اعظم بالجزم اور جان تک قربان کر دینے کا موثر ترین درس دینا چاہتے تھے چنانچہ اگر ضروری بھی ہو تو شہادتِ سیدنا حسینؓ کی یاد میں منعقد محفل سیدنا حسینؓ کے مقام و مرتبہ کے شایان شان اور طوفان بدتمیزی جہالت بیک وقت مضحکہ خیز اور رلا دینے والے اعمال سے ہٹ کر ہونی چاہی وہ ثقافتی اجتماعات کس قدر خوبصورت ہوں جن میں بلیغ خطبے اور قصائد پیش کیے جائیں اور راہِ حق میں جان دینے اور جہاد کرنے سے متعلق ہیں اس طریقے سے تعمیری انداز میں سیدنا حسینؓ کی یاد میں اپنے تربیت کرنی چاہیے تخریبی انداز اختیار کر کے اپنے کو ہلاک نہیں کرنا چاہیے اور ہم پر یہ فرض ہے کہ حمایت و مدافعت کے میدان میں سیدنا حسیؓن کا حق ادا کریں نہ کہ مسئلے کا حلیہ بگاڑ کر موصوف کے ساتھ اہانت و بدسلوکی کے مرتکب ہوں اگر ہم سیدنا حسینؓ کے ساتھ محبت و نصرت کا جذبہ صادق رکھتے ہیں تو ہمیں مذکورہ طریقہ کا اختیار کرنا ہوگا۔ 

شیعہ عالم کی تصریحات کے بعد

یہ تھا شیعہ مذہب کا وہ نقشہ جو عصرِ حاضر کے ایک شیعہ عالم اور نجف اشرف عراق کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور امام کے صاحبزادے ڈاکٹر موسیٰ موسوی کی زبانی آپ نے ملاحظہ فرمایا۔

ڈاکٹر موسوی کی کتاب اصلاح الشیعہ سے چند اِقتباس نقل کر کے ہم نے ایک طرف شیعہ مذہب کے اصلی عقائد سے ان کے انحراف کا نقشہ دکھایا ہےودوسری طرف ہم ناظرین کے سامنے یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے موجودہ عقائد خود ان کے اپنے ائمہ اور قرونِ اولیٰ کے مقتداؤں اور پیشواؤں کی تعلیمات کے خلاف ہیں ڈاکٹر موسیٰ کے بقول سیدنا علیؓ کی خلفاءِ ثلاثہؓ کی بیعت اور باہمی تعلقات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفاءِ راشدینؓ کی تکفیر اور تنقید سے سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔

 آگے چل کر ہم دیگر ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف سے شیعہ مذہب کے موجدوں اور راویوں کے بارے میں خود شیعہ کُتب ہی سے ایسی ہدایات پیش کریں گے جس سے اس مذہب کی ثقافت و استناد اور شرعی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

جس مذہب کے راویوں کے کذاب اور مبالغہ آرائی کا حامل ہونے کی صراحت اس کے اساطین واضح طور پر کر چکے ہوں اسے محمدی شریعت کے ساتھ نتھی کرنا پرلے درجے کی حماقت اور جہالت ہے۔

 کفریہ عقائد اور اسلام کو یکجا کرنے والا محمدی شریعت کا بہت بڑا باغی ہے۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیعہ کے نامور عالم دین نے اعتراف حقیقت اور معرفت اصلیت کی روشنی میں کس قدر کھلے دل سے دنیا بھر کے شیعہ کو کس درد بھرے انداز میں دعوت فکر دی ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمین کے خلاف شیعہ کی تکفیر فتاویٰ جات اور تحریفِ قرآن متعہ تقیہ اور ماتم کو ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات سے انحراف قرار دے کر جمہور مسلمانوں کے مسلک و مذہب کی حقانیت پر بھی یک گونہ مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ 

صفحہ 5 از 6