ارکان اسلام کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے عقائد…

ارکان اسلام کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے عقائد و نظریات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

"جب میں (سیدنا ابوذرؓ) مکہ میں پہنچا تو میں نے ابوطالب سے ملاقات کی تو ان سے جب میں نے اپنا مقصد بیان کیا تو انہوں نے مجھے سیدنا امیرِحمزہؓ کے گھر بھیجا تو جب سیدنا امیرِ حمزہؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کس لیے آئے ہو تو میں نے عرض کی کہ میں رسول اللہﷺ سے ملنا چاہتا ہوں تو آپؓ نے فرمایا ان سے تمہیں کیا کام ہے میں نے عرض کی کہ میں ان پر ایمان لانا چاہتا ہوں اور ان کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں اور جو مجھے حکم دیں گے میں اس کی اتباع کروں گا تو آپؓ نے فرمایا کہ تو شہادت دیتا ہے اس بات کی ان لا اله الا الله وان محمد ارسول الله تو سیدنا ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں نے شہادت دی تو انہوں نے پھر مجھے سیدنا جعفر طیارؓ کے پاس بھیجا اور انہوں نے بھی مجھ سے سیدنا امیرِ حمزہؓ کی طرح سوال و جواب کیے اور اس کے بعد فرمایا اتشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده و رسولہ تو میں نے کہا شهدت یعنی میں نے گواہی دی اس کے بعد انہوں نے مجھے سیدنا علیؓ کے پاس بھیج دیا تو ان سے بھی میری سیدنا امیرِ حمزہؓ اور سیدنا جعفر طیارؓ کی سی بات ہوئی اس کے بعد آپ نے فرمایا اتشهدان لا اله الا الله وان محمد الرسول اللہ تو میں نے کہا شهدت اس کے بعد سیدنا علیؓ نے مجھے نبی پاکﷺ کے پاس بھیجا تو جب میں حضورﷺ کے پاس پہنچا اور میں نے سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا تو آپﷺ نے مجھے فرمایا کس لیے آئے ہو تو میں نے عرض کی کہ تم میں نبی مبعوث ہوئے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا تمہیں ان سے کیا کام ہے تو میں نے عرض کی کہ میں ان پر ایمان لانا چاہتا ہوں اور ان کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں اور مجھے کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے مگر میں ان کی اطاعت کروں گا اس پر آپﷺ نے فرمایا اشهد ان لا اله الا الله وان محمد ارسول الله فقلت اشهد ان لا اله الا الله وان محمد ارسول الله

  1. ( "فروع کافی" جلد 8 کتاب الروضه "صفحہ 298 حدیث اسلام سیدنا ابوذرؓ" مطبوعه تہران طبع جدید)۔
  2. ( "حیاتُ القلوب" جلد دوم صفحہ 1132 باب ششم در حال سیدنا ابوذر غفاریؓ مطبوعه نو لکشور، طبع قدیم)۔

حضرت مولانا محمد علی کی یادداشت

سیدنا ابوذر غفاریؓ کے اس واقعہ سے جو کتب شیعہ میں سے مذکور ہوا صاف صاف معلوم ہو گیا کہ اگر کسی غیر مسلم کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی نوبت آتی تو حضورﷺ سیدنا علیؓ سیدنا امیر حمزہؓ اور سیدنا جعفر طیارؓ" نے انہیں وہی کلمہ پڑھنے اور گواہی دینے کو کہا جو اہلِ سنت و الجماعت کا کلمہ ہے جب خود حضورﷺ نے کلمہ توحید دوسروں کو سکھایا اور ان سے پڑھوایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو اپنایا تو پھر اس کی صداقت میں کون شک کر سکتا ہے جب کہ یہی کلمہ "کلمہ حق" ٹھرا تو وہ کلمہ جو اہلِ تشیع نے گھڑ رکھا ہے وہ بالکل ناحق اور باطل ہے لہٰذا شیعہ لوگوں سے میری درخواست ہے کہ وہ اپنے ذاکرین و واعظین کو اپنی کتابوں کی یہ عبارت دکھلائیں اور انہیں تلقین کریں کہ وہ خود بھی کلمہ توحید کے بارے میں انہی کلمات کی اتباع کریں جو رسول اللہﷺ کی زبان اقدس سے نکلے اور سیدنا علیؓ نے بھی انہی الفاظ کو اپنایا اور دوسروں کو بھی اس کی اتباع کرنے کو کہیں۔ کیونکہ رسول اللہﷺ کی اتباع ہی مفید ہو گی نہ کہ ان ذاکرین کی قبر میں اگر کسی نے کام آنا ہے تو وہ حضورﷺ کی ذات مقدسہ ہے یہ ذاکرین وغیرہ ساتھ چھوڑ جائیں گے حضورﷺ ان کی ہی شفاعت فرمائیں گے جو آپﷺ کی اتباع کرتے رہے ہوں گے (فاعتبروا یا اولی الابصار)۔

سیدنا باقرؒ کی طرف سے دو جز والے کلمہ طیبہ کی صراحت

عن أبی جعفر عليه السلام قال من قال اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله كتب الله له الف الف حسنه ("اصول کافی" جلد دوم صفحہ 518 طبع تہران جدید)۔

 ترجمه: " سیدنا محمد باقرؒ: سے مروی ہے کہ جس نے اشهد ان لا اله الا الله (الخ) پڑھا اللہ نے اس کو دس لاکھ نیکیاں عطا کیں۔

تلقینِ میت کے لیے آنحضرتﷺ کی طرف سے دو جز والے کلمہ کی صراحت

من لا يحضره الفقيه:

وقال الصادق عليه السلام ما من احد يحضره الموت الا و کل به ابلیس من شياطينه من يامره بالكفر و يشككه في دينه حتىٰ يخرج نفسه فاذا حضرتم موتاكم فلقنوهم شهاده ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله حتىٰ يموتوا 

  1. ("من لا یحضره الفقیه" جلد اول صفحہ 40 فی تلقین المیت (الخ) مطبوعه لکھنؤ)۔
  2. ("فروع کافی" جلد 3 صفحہ 123 باب تلقین المیت مطبوعه تہران طبیع جدید)۔

ترجمہ: "سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے تو ابلیس اس مرنے والے پر اپنا ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو اسے کفر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور دین کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ کوشش اس کی روح نکلنے تک جاری رہتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی پر موت آئے تو دوسرے لوگوں کو مرنے والے کے قریب حاضر ہونا چاہیے اور اسے اس کلمہ شہادت کی تلقین کرنی چاہیے اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده و رسوله تلقین کرتے رہو یہاں تک کہ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے"۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بھی کلمہ اہلِ سنت کی تبلیغ کی:

ارشاد شیخ مفید:

فقالوا له من الرجل قال انا رسول الله اما ان تقولوا لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده و رسوله اولا ضربكم بالسيف (ارشاد شیخ مفید صفحہ 60 فی غزوہ ذات السلاسل)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ اسلام کی تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو لوگوں نے پوچھا تم کون ہو؟ آپؓ نے فرمایا میں اللہ کے رسولﷺ کا ایلچی ہوں تمہارے لیے دو باتیں ہیں یا تو یہ کلمہ پڑھ لو اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشھد ان محمدا عبده ورسوله یا پھر میں تمہیں تلوار سے سیدھا کروں"۔

کلمہ طیبہ کے بارے میں شیعہ کی اپنے ائمہ سے بغاوت

اایک شیعی مجتہد محمد احسن زیدی نے اپنی تصنیف "کلمہ اور نماز" میں سید علی ہمدانی کی کتاب مودہ فی القربیٰ سے یہ روایت نقل کی ہے: قال النبیﷺ مكتوب على باب الجنه لا اله الا الله محمد رسول الله على اخ رسول الله۔

صفحہ 2 از 3