قرآن عظیم کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات…

قرآن عظیم کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

سیدنا علیؓ کے نسخہ قرآن سے یہ بات واضح ہو گئی کہ چودہ سو سال سے دنیا بھر کے مسلمان جس قرآن عظیم کے جس صحیفہ عثمانیؓ پر ایمان رکھتے ہیں جسے تمام مسلمانوں نے اصلی نسخہ قرار دیا ہے سیدنا علیؓ کا نسخہ بھی اسی کا مماثل ہے اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سیدنا علیؓ اور مسلمانوں کا نسخہ قرآن ایک ہی چیز ہے۔

اس نسخۂ قرآن کی دریافت کے بعد شیعہ کی درج ذیل روایات پر غور کیجئے اور سر دہنئے کہ کس طرح قرآنِ عظیم کی ثقاہت و استناد اور حفاظت و صیانت کے اسلامی نظریے پر کلہاڑا چلایا گیا ہے۔

شیعہ نے قرآنِ عظیم کے بارے میں بھی دنیا بھر کے مسلمانوں سے جدا اور علیحدہ نظریہ اپنایا ہے اس نظریے کا نہ تو سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کے کسی فرد سے کوئی تعلق ہے نہ ہی شیعہ کی ان من گھڑت روایات کو دنیا کے کسی بھی مسلمان کی تائید حاصل ہے۔

تحریفِ کلمہ طیبہ اور تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح حفاظتِ قرآن کے عقیدے میں بھی شیعہ امت مسلمہ سے الگ سوچ کے حامل ہیں یہ عقیدہ بھی شیعہ نے اپنے ائمہ کی غلط باتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے گھڑا ہے جس طرح شیعہ نے عقیدہ امامت کے اثبات کے لیے دین اسلام کی جڑوں کو اکھاڑنے میں کسی مدافعت سے کام نہیں لیا اسی طرح تحریفِ قرآن کے بارے میں ان کی تمام اصولی اور بنیادی کتابوں میں کسی قسم کے شک و ریب کا اظہار نہیں سیدنا علیؓ اور اولاد کے نظریات کے برعکس شیعہ کی بنیادی کتابوں نے قرآن کے بارے میں درج ذیل نقطہ پیش کیا ہے: 

 قرآنِ مجید کے بارے میں شیعہ کے عقائد

تحریف اور تغیر و تبدل کے واقع ہونے میں قرآن تورات و انجیل ہی کی طرح ہے اور منافقینِ امت پر مسلط ہو کر حاکم بن گئے وہ قرآن میں تحریف کرنے کے بارے میں اسی طریقہ پر چلے جو طریقہ بنی اسرائیل نے اختیار کیا (فصل الخطاب صفحہ 70 بحوالہ بینات صفحہ 62)۔

وہ قرآن جو جبرئیلؑ محمدﷺ پر لے کر نازل ہوئے تھے اس میں سترہ ہزار آیتیں تھیں (اصولِ کافی صفحہ 671 بحوالہ بینات صفحہ 56)۔

اصل قرآن میں بہت سا حصہ ساقط کر دیا گیا ہے (صافی شرح اصول کافی جز ششم صفحہ 75 بحوالہ ایضاً صفحہ 56)۔

جو روایات صاف طور پر بتاتی ہیں کہ قرآن میں عبارت الفاظ اور اعراب کے لحاظ سے تحریف ہوئی ہے ان روایات کے صحیح ہونے اور ان کی تصدیق کرنے پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہے (بحوالہ ایضاً صفحہ 56)۔

یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ پورے کا پورا اس طرح نہیں ہے جس طرح محمدﷺ پر نازل ہوا تھا بلکہ اس میں کچھ حصہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے قرآن کے خلاف ہے اور کچھ حصے میں تغیّر و تحریف واقع ہوئی ہے اور اس میں سے بہت سی چیزیں نکال دی گئی ہیں (دیباچہ تفسیر صافی بحوالہ احسن الفتاویٰ جلد 1 صفحه 75)۔

قرآن میں سے جو کچھ نکالا گیا ہے یا اس میں تحریف اور رد و بدل کیا گیا ہے اگر میں ان سب کو بیان کروں تو بات بہت لمبی ہو جائے اور وہ چیز ظاہر ہو جائے جس کے اظہار کی تقیہ اجازت نہیں دیتا (احتجاج طبری مطبوعه ایران صفحہ 128 بحواله ایضاً صفحہ 75)۔

قرآنِ مجید میں ایسی باتیں بھی ہیں جو خدا نے نہیں کیں (احتجاج طبرسی صفحہ 25 بحوالہ ایضاً صفحہ 81)۔

موجودہ قرآن میں خلافِ فصاحت اور قابلِ نفرت الفاظ موجود ہیں (طبرسی صفحه 30 بحواله ایضاً)۔

موجودہ قرآن کو اولیاء الدین کے دشمنوں نے جمع کیا (ایضاً)

موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے (فصل الخطاب صفحہ 30 بحوالہ ایضاً)۔

سیدنا علیؓ کا نام قرآن میں کئی مقامات سے نکال دیا گیا (دیباچہ تغییر صافی بحوالہ ایضاً صفحہ 75)۔

آیت وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيمًا۝ (پارہ نمبر 22 سورۃ الاحزاب آیت 71) اس طرح نازل ہوئی تھی و من يطع الله ورسوله في ولايه على والائمه من بعده فقد فاز فوزا عظيما یعنی جس نے سیدنا علیؓ اور ان کے بعد کے اماموں کے بارے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کی پس اس نے بہت بڑی کامیابی پا لی (اصولِ کافی صفحہ 262 بحوالہ ایضاً صفحہ 79)۔

 آیت فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ قَوۡلاً غَيۡرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمۡ فَأَنزَلۡنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ رِجۡزً۬ا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ۝ (پارہ نمبر 1 سورۃ البقرہآیت نمبر 51) اس طرح نازل ہوئی تھی فبدل الذين ظالموا ال محمد حقهم قولا غير الذي قيل لهم فانزلنا على الذن ظلموا ال محمد حقهم رجزا من السماء بما كانو يفسقون یعنی ظالموں نے کہنے کے باوجود آلِ محمدﷺ کے حق کو بدل دیا اور آلِ محمدﷺ کے حق میں ظلم کرنے کی وجہ سے نافرمانوں پر ہم نے آسمانی عذاب نازل کیا (اصول کافی' صفحہ نمبر 267، بحوالہ ایضاً صفحہ نمبر 71)۔

آیت وَلَوۡ أَنَّہُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيۡرً۬ا لَّهُمۡ الخ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 66) یہ اس طرح نازل کی گئی تھی ولوانهم فعلوا ما يوعظون به فی على لكان خیر الهم یعنی اگر یہ لوگ سیدنا علیؓ کے بارے میں کی گئی نصیحت پر عمل کریں تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔ (اصول کافی صفحہ 268 بحوالہ ايضاً)۔

جو دعویٰ کرے کہ اس نے پورا قرآن جس طرح کہ وہ نازل ہوا ہے جمع کر لیا ہے وہ انتہائی درجہ کا جھوٹا ہے پورا قرآن تو صرف سیدنا علیؓ اور ان کے بعد اماموں نے جمع کیا ہے (صافی کتاب الحجہ بحوالہ بینات صفحہ 102)۔

صفحہ 2 از 3