خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 4

شیعہ کے پرانے بزرگ تو شاید اپنی ہٹ دہرمی اور ضد کے باعث سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کی واضح تعلیمات کے بعد بھی خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور عظمت کے اقرار کرنے میں تامل کریں مجھے ان کی آنے والی نسلوں سے امید ہے کہ وہ من گھڑت روایات اور جھوٹ پر قائم ہونے والے مذھب کو اب "تقیہ" کی پیوند کار سے بھی قبول نہیں کرے گی ظاہر ہے اگر "اصول کافی" میں مذکور سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کھلی تکفیر کی روایات صحیح ہیں اگر بحار الانوار حق الیقین جلاء العیون تذکرہ الائمہ میں ملاباقر مجلسی کی طرف سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منافق اور کافر ہونے کی باتیں ان کے مذهب و دین کا حصہ ہیں خمینی کی کشف اسرار کی وہ عبارت جس میں اس نے سیدنا ابوبکرؓ کو دشمنِ قرآن سیدنا عمرؓ کو کافر اور سیدنا عثمانؓ کو بدقماش تحریر کیا ہے ان کی حیثیت سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کے اعتراف عظمت کے مقابلے میں کیا رہ جائے گی دونوں نقطہ ہائے نظر میں کسی کو تسلیم کیا جائے گا کس کو رد کیا جائے گا کس نظریے کو شیعہ کا نظریہ اور کسی نظریے کو ائمہ اہلِ بیتؓ کا مذہب قرار دیا جائے گا میں دنیا بھر کے شیعہ سے ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر وہ سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کا مذہب رکھتے ہیں تو انہیں تغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و خلفائے راشدینؓ کو خود ائمہ اہلِ بیتؓ کے افکار کی روشنی میں غیراسلامی نظریہ تسلیم کرنا پڑے گا اصولِ کافی حق الیقین کشف الاسرار کے مجموعوں کو دریا برد کر کے ان نظریات کو خاندانِ نبوت کے نظریات سے متصادم قرار دینا ہو گا یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ سیدنا علیؓ کو تو اپنا امام تسلیم کریں لیکن سیدنا علیؓ چینخ چینخ کر جن خلفائے راشدینؓ کی عظمت کا اعلان کریں آپ انہیں کافر قرار دیتے رہیں سیدنا علیؓ اور آپ کی اولاد کے تمام بزرگ جس کلمہ طیبہ کو اسلام کی اساس قرار دیتے رہے آپ اس کا حلیہ بگاڑ کر دو اجزاء سے کلمہ طیبہ پانچ اجزاء کر کے بھی سیدنا علیؓ کا راگ الاپتے رہیں دین کی اساس کو تبدیل کرنے کی ایسی جرات تو یہودیوں عیسائیوں کو بھی نہ ہوئی ان کے کسی فرقے نے بھی اپنے مذہب کے کلمہ والی اساس کو تبدیل نہیں کیا۔ 

سیدنا علیؓ اور آپ کی اولاد نے جس قرآنِ عظیم کو اپنے دین کی سب سے اہم اور مکمل دستاویز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا پھر سیدنا علیؓ نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی اس کی کسی تبدیلی اور کسی تحریف کا ذکر نہیں کیا خلافت و حکومت میں مکمل بااختیار ہونے کے باوجود انہوں نے کسی جگہ بھی موجودہ قرآن کو نامکمل نہیں کیا کسی مجموعہ کو اس کے علاوہ اصلی قرار دے کر چھپانے اور غار میں لے جانے کا ذکر نہیں کیا خلافت و اقتدار میں ہر قسم کی بےبسی ختم ہو جاتی ہے پھر اس کا کیا کیا جائے کہ انہی اکابرین اور ائمہ اہلِ بیتؓ کا نام لے کر موجودہ قرآن کو محرف شدہ قرار دیا جائے اسلام کی جڑوں کو اکھاڑنے کا کام اسلام کے اساطین اور سر بر آوردہ اولاد رسولﷺ کے نام سے کیا جائے۔

اب شیعہ کی جدید و قدیم نسل کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرتا ہو گا "تعلیماتِ آلِ رسولﷺ" یا سیدنا علیؓ اور آپ کی اولاد کی وفات کے تین سو سال بعد من گھڑت رادیوں کے ذریعے قائم ہونے والا بے بنیاد "شیعہ مذہب" یہاں دونوں چیزیں ایک دوسرے کی صاف ضد معلوم ہو رہی ہیں دونوں نظریات میں تعلیماتِ آلِ رسولﷺ کو اسلام اور شیعہ مذہب کو کفر قرار دیئے بغیر کوئی چارہ کار ہی نظر نہیں آتا اندھیرا اور سویرا کیونکر ایک جگہ جمع ہو سکتا ہے کفر اور اسلام کسی طرح ایک ہو سکتا ہے نیکی اور بدی کو کس طرح یکجا قرار دیا جا سکتا ہے۔

ع ببیں تفاوت راکجا از کجا

خلفائے ثلاثہؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ کے ارشادات

نہج البلاغہ اور دیگر شیعہ کتب کی روشنی میں سیدنا ابوبکرؓ کی افضلیت کا اعلان سیدنا علیؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:

وكان افضلهم في الاسلام كما زعمت و انصحهم لله ولرسولهﷺ‎ الخليفة الصديقؓ و خليفه الخليفة الفاروقؓ ولعمری ان مكانهما في الاسلام العظيم وان المصاب بهما لجرح في الاسلام شديد يرحمهما الله وجزاهما باحسن ما عملا (از نہج البلاغۃ از ابن میشم بحرانی صفحه 486 سطر 2 مطبوعه تہران) 

اے سیدنا امیرِ معاویہؓ! جیسا کہ تو نے کہا واقعی اسلام کے اندر آنحضورﷺ کے خلیفہ سیدنا ابوبکرؓ اور اس کے خلیفہ سیدنا عمرؓ سب سے افضل تھے اور سب سے زیادہ خدا اور رسولﷺ کے خیر خواہ تھے اور اپنی زندگی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان دونوں کا درجہ اسلام میں بہت بڑا درجہ ہے اور یہ تحقیق ان دونوں پر مصائب آئیں تو اسلام پر زخم کاری آتا ہے خدا ان دونوں پر رحمت کرے اور انہیں ان کے نیک کاموں کا بدلہ دے ۔

نوٹ: اس مکتوب شریف میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جن باتوں کا اقرار فرمایا ہے زمانۂ حال کے مدعیانِ حُبِ علیؓ ان کے ماننے سے قاصر ہیں پانچ باتیں اس مکتوب شریف کا طرۂ امتیاز ہیں۔

1۔ سیدنا ابوبکرؓ آنحضورﷺ کے خلیفہ برحق تھے اور سیدنا عمرؓ ان کے خیلفہ برحق تھے۔

2۔ سیدنا ابوبکرؓ تمام مسلمانوں سے افضل تھے اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ سب سے افضل تھے۔

3۔ سیدنا ابوبکرؓ خدا اور رسولﷺ کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے اور اسی طرح سیدنا عمرؓ بھی تھے۔

4۔ دینِ اسلام کے اندر سیدنا ابوبکرؓ کا درجہ بہت بلند تھا اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ اس مقام پر تھے۔

5۔ دینِ اسلام اور سیدنا ابوبکرؓ میں کامل اتحاد تھا یہاں تک کہ ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان تھا۔

صفحہ 2 از 4