خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 4

آپؓ نے مندرجہ بالا پانچ باتوں کا اقرار کرنے کے بعد دعائے رحمت کا آپؓ کو ہدیہ بھیجا پس انصاف اور دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کہ سیدنا علیؓ کے نام لیوا اور عقیدت مند ہیں سیدنا ابوبکرؓ کے حق میں مندرجہ بالا مکتوب کی پانچ حقیقتوں کا کھلے دل سے اقرار کریں اور سیدنا ابوبکرؓ پر شب و روز شکریہ کے طور پر ہدیہ رحمت بھیجا کریں مگر کیا کیا جائے اور کیا لکھا جائے اور شیعہ کی شکایت کس کے سامنے رکھی جائے کہ جس ہستی کے ذکر کے ساتھ سیدنا علیؓ ہدیۂ رحمت بھیجتے تھے آج کل سیدنا علیؓ کے نام نہاد عاشق اس ہستی پر رحمت کی بجائے لعنت کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ کی تکفیر کے اعلان کو وہ نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 

سیدنا علیؓ کے نظریات سے واضح تصادم رکھنے والا سیدنا علیؓ کی محبت کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔

سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت کی تائید میں سیدنا علیؓ کی صراحت

ثم ان المسلمين من بعده استخلفوا اميرين منهم صالحين فعملا بالكتب والسنه واحسنا السيرة ولم يعدوا السنه ثم توفيا رحمهما الله (حدیدی شرح نهج البلاغه جلد اول جزو ششم صفحه 295)۔

پھر آنحضورﷺ کے بعد تمام مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے دو بزرگوں کو خلیفہ مقرر کیا جو نہایت نیک کردار تھے پس ان دونوں نے قرآن اور سنتِ رسولﷺ پر عمل کیا اور طرزِ حکومت کو خوبصورت بنایا اور طریقہ رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا اس کے بعد فوت ہوئے خدا تعالیٰ ان دونوں پر اپنی رحمت نازل کرے۔ 

نوٹ: سیدنا علیؓ نے اپنے اس مکتوب شریف میں بھی پانچ باتوں کا اعتراف کیا ہے۔

1۔ تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا آپؓ پر اجماع مکمل ہوا تھا۔ 

2۔ سیدنا ابوبکرؓ صالح تھے صالحیت دو قسم کی ہو ایک خود نیکوکار ہونا دوسرے خلافت کے لائق ہونا یہ صفت دونوں قسموں کو شامل ہے۔

3۔ قرآن و حدیث پر آپؓ نے عمل کیا اور عمل جبھی ہو سکتا ہے کہ علم ہو پس اس فقرہ میں سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کے قرآن و حدیث کے عالم اور عامل ہونے کا اقرار فرمایا ہے۔ 

4۔ سیدنا ابوبکرؓ کا طرزِ حکومت نہایت اچھا تھا پس جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں وہ سیدنا علیؓ سے اختلاف کرتے ہیں سیدنا علیؓ اس حکومت کے حق میں تھے۔

5۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سنتِ رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا پس جو لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ نے سیرتِ حضرات شیخینؓ پر عمل پیرا ہونے سے انکار کر دیا تھا کھلا جھوٹ اور فریب ہے کیونکہ جب سیدنا علیؓ اقرار کر رہے ہیں کہ حضراتِ شیخینؓ نے سنتِ رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا تھا تو پھر سیرتِ شیخینؓ اور سنتِ رسولﷺ ایک ہی چیز ہو گئی اور ایک کے انکار کو دوسرے کا انکار لازم ہو گیا اس صورت میں اگر سیدنا علیؓ سیرتِ شیخینؓ کا انکار کرتے ہیں تو سنتِ رسولﷺ کا انکار بلا توقف لازم آتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا تصور بھی سیدنا علیؓ کے حقیقی عقیدت مند نہیں کر سکتے۔

سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کا دورِ خلافت انصاف اور عدالت پر مبنی تھا

سیدنا علیؓ کے خطبے کا ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے: ثم استخلف الناس ابابكرؓ ثم استخلف ابوبکرؓ عمرؓ واحسن السيره وعدلا فی الامه (ناسخ التواریخ جلد سوم از کتاب دوم صفحہ 641)

پھر تمام لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا اس کے بعد سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنایا ان دونوں نے طرزِ حکومت کو نہایت اچھا بنایا اور امت میں انصاف اور عدالت کو قائم کیا۔

نوٹ: سیدنا علیؓ نے اس خطبے میں دو باتوں کا اقرار کیا ہے ایک تو سیدنا ابوبکرؓ کے طرزِ حکومت کی اچھائی کا اور دوسرے ان کا امت میں عدالت کا قیام اگر کوئی شخص ان دونوں باتوں میں غور کرے تو مقامِ سیدنا ابوبکرؓ کی حقیقت سے واقف ہو سکتا ہے۔

سیدنا ابوبکرؓ ہی خلافت کے زیادہ حق دار تھے

وقال علىؓ والزبيرؓ ما غضبنا الافى المشوره وانا لنرى ابابكرؓ احق الناس بها انه الصاحب الغار وثانی اثنين وانا لنعرف له سنه ولقد امره رسول اللهﷺ بالصلوه وهو حى (حدیدی شرح نہج البلاغه جلد اول جزو ششم صفحہ 293)۔ 

سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ نے کہا ہماری شک رنجی محض مشورہ کی وجہ سے ہے اور ہم یقین جانتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ سب سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں اس لیے کہ وہ صاحبِ غار اور ثانی اثنین ہیں اور یقیناً وہ عمر میں بھی بڑے ہیں اور خدا کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔

نوٹ: اس ارشاد سے اس شک رنجی کی وجہ واضح ہو گئی جو بعض روایات میں آئی ہے اور جس کو بعض لوگ بڑے طمطراق سے عوام میں بیان کرتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ناراضگی کی وجہ اپنا استحقاقِ خلافت ہے الحمدللہ کہ خود سیدنا علیؓ نے واضح کر دیا کہ ہماری شک رنجی اس واسطے نہیں کہ ہم خلافت کے مستحق ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ خلافت کے اہل نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مشورے کے بغیر انتخابِ خلیفہ کیوں ہوا ہے؟ انتخابِ خلیفہ کے وقت ہم بھی موجود ہوتے اور سب سے پہلے بیعت کرنے والے ہم ہوتے اس چیز کے فوت ہو جانے کا غم تھا جو سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ کے مال خاطر اور شک رنجی کا باعث تھا اسی چیز کو واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ہم خلافت کا حق دار سیدنا ابوبکرؓ کو جانتے ہیں۔

سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ حق پر تھے

سیدنا علیؓ خلفاءِ ثلاثہؓ کی صداقت پر خدا کو گواہ بنا رہے ہیں:

اللهم انی اشهدك و کفی ک شهیدا فاشهدا لی انک ربی و أن محمداﷺ رسولك نبی والأوصياء من بعده ائمتی (صحیفہ علویہ" مطبوعه نجف اشرف صفحه 37)

خدایا میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہوتی ہے پس تو اس بات پر گواہ ہو جا کہ تو میرا رب ہے اور اس بات پر بھی گواہ ہو جا کہ محمدﷺ جو کہ تیرا رسول ہے وہ میرا پیمبر ہے اور اس بات پر گواہ ہو جا کہ آپﷺ کے بعد جو جانشین ہوئے ہیں وہ میرے امام ہیں۔

صفحہ 3 از 4