خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 4

نوٹ: اس ارشاد میں جہاں سیدنا علیؓ نے خدا کے رب ہونے اور حضورﷺ کے پیغمبر ہونے کا اقرار کیا ہے وہاں آپﷺ کے جانشینوں کو اپنا امام تسلیم کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان جانشینوں میں پہلا نمبر سیدنا ابوبکرؓ بن ابی قحافہ کا ہے پس ان کو بھی امام تسلیم کر لیا گیا میرے خیال میں سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی تعریف کی انتہا کر دی ہے اور انہیں وصی نبیﷺ اور امام خلق تسلیم کر لیا۔

سیدنا ابوبکرؓ ہی خلافت کے لائق تھے

سیدنا علیؓ نے سیدنا ابو سفیان سے خطاب کیا: 

امسک علیک فارنرئینا ابابكرؓ لها اهلا (حدیدی شرح نہج البلاغه جلد اول جزو ششم صفحه 291)

اے سیدنا ابو سفیانؓ اس بات سے باز رہ اس لیے کہ ہم نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کے لائق جانا ہے۔

نوٹ: سیدنا ابو سفیانؓ سیدنا علیؓ کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپؓ خلافت کے لیے کھڑے ہو جائیں میں آپؓ کی ہر ممکن طریق سے امداد کروں گا اس کے جواب میں فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ میں اس مشورہ کو قبول نہیں کرتا ہم نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کے لائق جان کر اس کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔

سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کا اہل سمجھ کر خلیفہ تسلیم کیا ہے

سیدنا علیؓ نے فرمایا:

لولا ان رئينا ابابكرؓ اهلا لما تركناه (حدیدی شرح نہج البلاغه جلد اول جزو دوم صفحہ 74)

اگر ہم سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کے لائق نہ جانتے تو اسے اس مقام پر ہرگز نہ چھوڑتے۔ 

نوٹ: سیدنا علیؓ کی بہادری اور شجاعت کا تقاضا یہی ہے جو آپ کے اس ارشاد سے ظاہر ہو رہا ہے اکراہ اور اضطرار اور مجبوری سب کے سب آپؓ کی شان کے مناسب نہیں ہیں دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مدعیانِ محبت کو معرفت عطا کرے آمین یا رب العالمین۔

سیدنا ابوبکرؓ سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمانؓ سے زیادہ تارک الدنیا کوئی نہیں سیدنا جعفر صادقؒ کا اعلان سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے آپ نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیفنا سلمان فارسیؓ اور سیدنا ابوذر غفاریؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

من ازهد من هولاء (فروغ کافی جلد دوم کتاب المعيشۃ صفحہ 4 پر ایک طویل حدیث ہے)

یعنی مذکورہ بالا تینوں بزرگوں سے زیادہ تارکِ دنیا کون ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا ابوبکرؓ کے زاہد اور تارکِ دنیا ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

حضورﷺ کے عمل کی وجہ سے سیدنا ابوبکرؓ کو ہم نے خلیفہ تسلیم کیا سیدنا علیؓ

قال علىؓ لما قبض النبیﷺ نظر باقی امرنا فوجدنا النبی قد قدم ابابكرؓ فی الصلوه فرضينا لدنيانا من رضى رسول اللهﷺ لديننا فقدمنا ابابكرؓ (طبقات ابنِ سعد مطبوعہ بیروت جلد سوم صفحہ 183)

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرتﷺ کی روح مبارک قبض کر لی گئی تو ہم نے حکومت کے بارے میں سوچا پس آپﷺ نے جو سیدنا ابوبکرؓ کو نماز کے لیے آگے کیا تھا وہ ہمیں اس باب میں راہنما دستیاب ہو گیا اور خدا کے رسولﷺ نے جس شخص کو ہمارے دین کا پیشوا بنایا تھا ہم نے اس کو اپنی دنیا کا پیشوا بنا لیا اور سیدنا ابوبکرؓ کو امام اور سربراہ بنا لیا۔

سیدنا علیؓ کے اس ارشاد مبارک پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک مرضِ وفاتِ نبیﷺ میں امامت سیدنا ابوبکرؓ بار شاد پیغمبر تھی اور یہ خلافتِ سیدنا ابوبکرؓ کی زبردست دلیل تھی اور یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا علیؓ اس دلیل کی دریافت کرنے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ تمام بنو ہاشم اس چیز میں آپؓ کے ساتھ متفق ہیں۔

حضورﷺ نے کسی کو اپنا خلیفہ از خود نامزد نہیں کیا تھا

عن علیؓ بن ابی طالب انه قيل له الاتوصى؟ قال ما اوصى رسول اللهﷺ فاوصى ولكن ان اراد الله خيرا فسيجمعهم على خيرهم كما جمعهم بعد نبيهم على خيرهم (شافی شریف مرتضیٰ الھدیٰ مطبوعه تہران صفحہ 171)

سیدنا علیؓ سے عرض کیا گیا کیا آپ اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرماتے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ خدا کے رسولﷺ نے نامزد نہیں کیا تو میں کیسے نامزد کروں لیکن اگر خدا تعالیٰ مسلمانوں کے حق میں بھلائی کا ارادہ کرے گا تو ان کو اپنے میں سے بہترین آدمی پر متفق بنادے گا جیسا کہ نبی کریمﷺ کے بعد تمام مسلمانوں میں سے بہترین آدمی پر انہیں اجتماع عطا کر دیا تھا۔ 

نوٹ: یہ ارشاد بھی سیدنا ابوبکرؓ کے افضل ہونے پر دلالت کر رہا ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ نے بھی اپنے فرزندی ارجمند سیدنا حسنؓ کو نامزد نہیں کیا تھا اگرچہ بعض لوگوں نے اس روایت سے اختلاف بھی کیا ہے۔

پوری امت میں حضورکریم ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کا درجہ ہے

وروی ابوجحیفه و محمد بن علی عبد خير و سويد بن غفله و ابوحكيمه و غيرهم وقد قيل انهم اربعه عشر رجلا ان عليا عليه السلام قال في خطبته خير هذه الأمه بعد نبيها ابوبکرؓ و عمرؓ (شافی سید مرتضیٰ علم الھدیٰ مطبوعه تہران صفحہ 171)

ابوجحیفہ اور محمد بن علی اور عبدخیر اور سوید بن غفلہ اور ابوحکیمہ اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے راوی روایت کرتے ہیں کہا گیا ہے کہ وہ چودہ عدد راوی ہیں کہ سیدنا علیؓ نے خطبے میں ارشاد فرمایا اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ پھر سیدنا عمرؓ ہیں۔

نوٹ: یہ ارشاد اسی طرح صفحه 428 نہج البلاغہ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔


صفحہ 4 از 4