ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی طرف سے شیخین رضی اللہ عنہم کی…

ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی طرف سے شیخین رضی اللہ عنہم کی فضیلت و عظمت کا اعتراف

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

نوٹ: سیدنا محمد باقرؒ اس روایت کے راوی ہیں جب سیدنا ابوبکرؓ کے جواب پر پہنچے تو اس کی تصدیق کے لیے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کر دیئے ہیں گویا خدا تعالیٰ کو سیدنا ابوبکرؓ کی صداقت پر گواہ بنا رہے ہیں پس سیدنا ابوبکرؓ نے جو فرمایا کہ پیغمبر کی خلافت کے لیے کوئی شخص مجھ سے زیادہ لائق نہ تھا سیدنا محمد باقرؒ نے اس بات کی سچائی پر خدا کو گواہ بنایا اور افضلیتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے مرتبہ کو نہیں پہچانتا وہ جاہل ہے

 سیدنا باقرؒ کی تعلیمات

 سیدنا جعفر صادقؒ کے والد محترم سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں کہ:

تم اہلِ بیتؓ میں سے کوئی شخص گزرا ہے جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ پر سب وشتم کرتا ہو انہوں نے فرمایا کہ نہیں میں تو ان دونوں حضرات کو دوست رکھتا ہوں اور ان سے موالات اور محبت رکھتا ہوں اور ان کے حق میں استغفار کرتا ہوں (طبقاتِ ابنِ سعد جلد 5 صفحہ 236)

شیعہ خیاط کہتے ہیں کہ:

جب میں سیدنا محمد باقرؒ کو رخصت کرنے گیا تو آپؒ نے بطورِ وصیت مجھے فرمایا کہ میری طرف سے اہلِ کوفہ کو پیغام دے دو کہ جو شخص سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ سے بیزاری کرتا ہے میں اس سے بری ہوں اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہوں اور ان کو راضی رکھیں (رياض النضرة جلد 1 صفحہ 58)

ایک مرتبہ جابر سے سیدنا محمد باقرؒ نے فرمایا کہ:

مجھے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عراق میں ایک قوم ہے وہ لوگ ہماری محبت اور دوستی کے دعویٰ دار ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے متعلق کمی بیشی کرتے ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ الزام مجھ پر لگاتے ہیں کہ میں نے ان کو اس چیز کا امر کیا ہے (سیدنا محمد باقرؒ نے فرمایا کہ) ان کو اطلاع کر دو کہ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میں ان سے بری و بیزار ہوں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر مجھے اس قوم پر حکومت حاصل ہو جائے تو ان کی خون ریزی و قتل کے اس کے (اللہ کے) ہاں تقریب و نزدیکی حاصل کروں مجھے رسول اللہﷺ کی شفاعت ہی نصیب نہ ہو اگر میں سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کے لیے استغفار نہ کروں اور ان کے حق میں ترنم و دعا کے کلمات نہ کہوں اللہ کے دشمن ان دونوں (کے مقام) سے غافل ہیں (صواعقِ محرقہ صفحہ 28)

اسی طرح ایک موقعہ پر فرمایا کہ: جو لوگ اس چیز کو میری طرف منسوب کرتے ہیں ربِ کعبہ کی قسم انہوں نے یہ سب جھوٹ اور دروغ گوئی کی ہے (تفسیر ابنِ کثیر جلد 2 صفحہ 553)

پھر فرمایا کہ: مغیرہ بن سعید اور بنان کے ساتھ اللہ تعالیٰ وہی معاملہ فرمائے جس کے وہ اہل ہیں ان دونوں نے ہم اہلِ بیتؓ پر جھوٹ اور افتراء و دروغ بنا بنا کر پھیلا دیئے اور ہماری طرف منسوب کر دیئے (ہم ان سے بری ہیں۔) (شرح نہج البلاغه لابنِ ابی الحدید شیعی معتزلی جلد 4 صفحہ 113 وفاء ابو وفا جلد 3 صفحہ 1001)

سیدنا محمد باقرؒ کا یہ فرمان جس کو شیعہ و سنی دونوں علماء نے نقل کیا ہے بڑا وزنی ہے اور ہزار توجہ کا مستحق ہے اس کو بار بار ملاحظہ کریں اور صحیح راہ حاصل کریں۔

شیعہ کے چھٹے امام سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی قبروں پر سلام پڑھتے تھے

سیدنا جعفر صادقؒ (148ھ) (جن کی طرف منسوب شیعہ فرقہ جعفریہ اپنی نسبت کرتا ہے) کا کیا رد عمل رہا ہے اور ان کے شیخینؓ کے بارے میں کیا عقائد و خیالات تھے وہ ملاحظہ فرمائیں اور فقہ جعفریہ کی حقیقت معلوم کریں سیدنا جعفر صادقؒ کا عمل ملاحظہ فرمائیے شیعوں کی مستند کتاب الشافی صفحہ 238 طبع قدیم میں ہے کہ:

سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے ساتھ دوستی اور محبت رکھتے تھے جس وقت رسول اللہﷺ کے روضہ اطہر) پر صلوٰۃ و سلام کے لیے حاضر ہوتے تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی قبور پر صلوٰۃ و سلام کہتے ہیں۔

انقلابِ زمانہ دیکھئے کہ سیدنا جعفر صادقؒ تو ان کی قبور مبارکہ پر سلام کہیں اور رحمت کی دعائیں کریں اور ان کے نام سے اپنے مذہب کو چمکانے والے یہ مجتہدین ان سے بیزاری اور لاتعلقی بلکہ کفر و ارتداد کے بے دریغ گولے پھینکیں۔

سالم کہتا ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ میرے نانا ہیں کیا کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کو گالی بھی دیتا ہے؟ یاد رکھو رسول اللہﷺ کی شفاعت ہی مجھے نصیب نہ ہو اگر میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے تولٰی اور دوستی نہ رکھوں اور میں ان کے دشمن سے بیزاری اختیار نہ کروں (سیرت عمر لابنِ جوزی صفحہ 32 طبع مصر)

شیعہ کے نامور مجید قاضی نورُ اللہ شوستری (1019ھ) لکھتے ہیں:

”ایک شخص نے سیدنا جعفر صادقؒ سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے متعلق سوال کیا تو امام موصوف نے جواباً فرمایا کہ یہ دونوں بزرگ امام تھے عدل و انصاف کرنے والے تھے حق بات پر قائم رہے حق پر ہی ان کا خاتمہ ہوا قیامت میں اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے (احقاق الحق جلد 1 صفحہ 16 طبر مصر)۔

ذرا آج کل کے شیعہ اور جعفریوں کا حال دیکھیں یہ تو شیخینؓ کو ظالم و غاصب اور ناحق اور نہ جانے کیا کیا خطاب دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں اگر کوئی ان کے سامنے شیخینؓ کی تعریف کریں تو ان کی آنکھیں خون سے بھر آتی ہیں اور وہاں حال یہ تھا کہ سیدنا جعفر صادقؒ ان کے لیے دعائے رحمت اور انہیں عادل امام اہلِ حق ہی فرماتے تھے (بحواله رحماءُ بينهم جلد سوم از مولانا محمد نافع صاحب)

سیدنا جعفر صادقؒ کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں کہ جس کی تشریح و توضیح کی جائے لیکن شیعہ علماء نے اس عبارت کی ایسی توجیہیں کیں کہ الامان و الحفیظ نیکی بدی ہو گئی ایمان کفر بن گیا شیخ شیطان بن گیا (استغفر الله) مگر اپنی تاویلات سے خود بھی مطمئن نہ ہوئے لہٰذا مجبور ہو کر تقیہ شریف کا دامن تھامنا پڑا اور کہنا پڑا کہ آپ نے تقیہ فرمایا تھا تقیہ کی سیاہ چادر اور منافقت کی اس ردا نے شیعہ کے سارے مذہب کو معجون مرکب بنا دیا ہے جس کا کوئی اصول بھی قابلِ اعتبار نہیں۔

 سیدنا موسیٰ کاظمؒ کی تعلیم

سیدنا موسیٰ کاظمؓ (183ھ) نے اپنے آباو اجداد سے مرفوعاً ایک روایت نقل کی ہے روایت کے اصل راوی سیدنا حسن بن علیؓ ہیں فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 2 از 3