شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 10 از 18

قال المفيد رحمه الله اولاد امير المؤمنين عليه السلام سبعه وعشرون ولدا ذكرا وانثىٰ الحسنؓ والحسينؓ وزينب الكبرىٰؓ وزينب الصغرىٰؓ المكناه ام كلثوم امهم فاطمه البتولؓ سيده نساء العالمين بنت سيد المرسلين محمد خاتم النبيينﷺ‎ ومحمد المكنی اباالقاسم امه خوله بنت جعفر بن قيس الحنفيه وعمر ورقيه كانتا توامين وامهما ام حبيبه بنت ربيعه والعباس وجعفر وعثمان وعبدالله الشهداء مع اخيهم الحسين صلوات الله عليه وعليهم اسلام بطف كربلا امهم ام البنين بنت حزام بن خالد بن عارم ومحمد الاصغر المكنی ابابكر وعبيدالله الشهيد ان مع اخيهما الحسين عليه السلام بالطف امهما ليلىٰ بنت مسعود الدارميه ويحيىٰ وعون امهما اسماء بنت عميس الخثعميه رضی الله عنها وام الحسن والرمله امها ام مسعود بن غزوه بن مسعود الثقفی ونفيسه وزينب الصغرىٰ ورقيه الصغرىٰ وام هانی وام الكرام وجمانه المكناه بام جعفر وامامه وام سلمىٰ وميمونه وفديده وفاطمه رحمه الله عليهن لامهات اولاد شتي

(کشف الغمہ فی مغرفۃ الائمہ جلد 1 صفحہ 440 پی ذکر اولاد علیہ السلام)

شیخ مفید نے کہا کہ سیدنا علیؓ کے بچے بچیاں کل ستائیس تھے سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدہ زینب کبریٰ سیدہ زینب صغریٰ کنیت ام کلثوم ان کی والدہ سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسولﷺ تھیں محمد کنیت ابوقاسم ان کی والدہ خولہ بنت جعفر تھیں سیدنا عمر سیدہ رقیہ یہ دونوں جڑواں تھے ان کی والدہ ام حبیبہ بنت ربیعہ تھیں سیدنا عباس سیدنا جعفر سیدنا عثمان سیدنا عبداللہ یہ اپنے بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ میدانِِ کربلا میں شہید ہو گئے تھے ان کی ماں سیدہ ام البنین بنتِ حزم تھیں سیدنا محمد اصغر کنیت ابوبکر سیدنا عبیداللہ یہ دونوں بھی سیدنا حسینؓ کے ساتھ کربلا میں شہید ہو گئے تھے ان کی والدہ سیدہ لیلیٰ بنتِ مسعود تھیں سیدنا یحییٰ و سیدنا عون ان کی والدہ سیدہ اسماء بنتِ عمیس تھیں سیدہ ام الحسن رملہ ان کی والدہ سیدہ ام مسعود بن عروہ تھیں سیدہ نفیسہ سیدہ زینب صغریٰ سیدہ رقیہ صغریٰ سیدہ ام ہانی سیدہ ام کرام جمانہ کنیت ام جعفر سیدہ امامہ سیدہ ام سلمہ سیدہ میمونہ سیدہ خدیجہ سیدہ فاطمہ رحمہ اللہ علیھن مختلف ماؤں کی اولاد تھیں (کشف الغمہ جلد اول صفحہ 441 پر یوں بھی مذکور ہے۔ )

الذكور الحسنؓ والحسينؓ ومحمد الاكبر و عبدالله وابوبكر العباس وعثمان وجعفر وعبدالله ومحمد الاصغر ويحيىٰ وعون وعمر ومحمد الاوسط عليهم السلام۔

مشترکہ فضیلت کے اعلان کے بعد ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف سے علیحدہ علیحدہ خلفاء کی عظمت کا اعتراف

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں ائمہ کے ارشادات:

آیت: إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ ڪَفَرُواْ ثَانِىَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِى ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَـٰحِبِهِ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا‌ الخ

( پارہ 10 رکوع 11 آیت نمبر 40)

جب کفار نے انہیں مکہ سے نکال دیا تو وہ اس وقت دو میں کا دوسرا تھا جس وقت وہ دونوں غار میں تھے جب ایک (رسول اللہﷺ) دوسرے کو فرما رہا تھا غم نہ کریں یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

حضورﷺ نے غارِ ثور میں سیدنا ابوبکرؓ کے حجابات کو اٹھا کر لقب "صدیق" عطا فرمایا

فانه حدثنی ابی عن بعض رجاله رفعه الى ابی عبدالله قال لما كان رسول اللهﷺ فی الغار قال لابی بكر كانی انظر الى سفينه جعفر فی اصحابه يا قوم فی البحر وانظر الى الانصار محبين فی افنيتهم فقال ابوبكر وتراهم يا رسول اللهﷺ قال نعم قال فارنيه‍م فمسح على عينه فراهم فقال له رسول الله(ﷺ) انت الصديق

(تفسیر قمی صفحہ 265۔266 مطبوعہ ایران طبع قدیم)

سیدنا باقرؓ کہتے ہیں جب حضورﷺ ہجرت کی رات غار میں تھے تو آپﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو فرمایا میں سیدنا جعفر طیارؓ اور ان کے ساتھیوں کو اس کشتی میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں جو دریا میں کھڑی ہے اور میں انصار کو بھی اپنے گھروں کے صحنوں میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ازراہ تعجب عرض کی کیا آپ واقعی دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا ہاں عرض کی مجھے بھی دکھلا دیجیے تو آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا پھر انہیں بھی یہ سب کچھ نظر آگیا اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا تو "صدیق" ہے۔

غارِ ثور میں گھرانہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بے مثال خدمات اور قربانیاں:

پس پیغمبر(ﷺ) شب پنج شنبه در شر مکه امیر المومنین (ع) رابر جائے خود بخوا بانید وخود را از خانه ابوبکرؓ برفاقت اد بیروں آمدہ بداں غار توجه نمود و شب آنجا بیتوته فرمود مجاہد گوید که رسول(ﷺ) سه شبانه روز در غار بود واز عروہ روایت است که ابوبکرؓ راگو سفندی چند بود نماز شام عامر بن فہیرہ آں گو سفنداں رابر در غار راندی وایشاں از شیر گو سفنداں خورد ندی وقتادہ گوید که عبدالرحمٰن در خفیه بامداد وشبان گاہ آمدی وبراے ایشاں طعام آوردی

(تفسیر منہج الصادقین جلد چہارم صفحہ 370)

شبِ جمعرات کو حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کو اپنے بستر پر سلایا اور خود سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی رفاقت میں ان کے گھر سے "غار ثور" کی طرف روانہ ہوئے اور رات وہیں آرام فرمایا (آگے چل کر اسی تفسیر میں لکھا ہے) مجاہد کہتا ہے کہ رسول اللہﷺ تین رات دن وہاں غار میں قیام پذیر رہے عروہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی چند بھیڑ بکریاں تھیں نماز مغرب کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کے غلام "عامر بن فہیرہ" ان بکریوں کو غار کے دہانے پر لے آتے اور یہ دونوں حضرات ان کا دودھ نوش فرماتے قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بیٹے سیدنا عبدالرحمٰنؓ خفیہ طور سے صبح و شام انہیں کھانا پہنچاتے رہے۔

حضور ﷺکی بشارت ہے کہ ہر حال میں سیدنا صدیقؓ کے لیے فتح

 سیدنا علیؓ کا ارشاد

مرزا تقی شیعہ کے بقول سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے جب جنگ روم کا آغاز کیا اور آپؓ ہی کے دور میں رومی فتوحات کی ابتدا ہوئی رومیوں سے جنگ کی ابتدا کرنے سے قبل سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا آگے مرزا تقی کی عبارت سنیں۔

ابوبكر روۓ بعلی علیه السلام کرد و گفت یا ابا الحسنؓ تا توچه فرمانی علی فرمود چه تو خود راه بر گیری و چه سپاه بتازی ظفر تر است ابوبکر گفت بشرک الله يا ابا الحسنؓ از کجا گونی؟ فرمود از رسول خدا یمن آمده

صفحہ 10 از 18