شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 11 از 18

(تاریخ التواریخ تاریخِ خلفاءِ صفحہ 295 جلد اول طبع جدید تہران تصمیم ابوبکرؓ منتج بلا در روم)

سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا علیؓ کی طرف رخ کیا اور پوچھا کہ اس بارے میں آپؓ کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا علیؓ نے کہا خواہ آپؓ خود جنگ کے لیے جائیں خواہ لشکر بھیجیں کامیابی آپؓ کے لیے ہے سیدنا ابوبکرؓ نے کہا سیدنا ابو الحسنؓ! اللہ آپں کو بشارت دے یہ آپؓ کہاں سے (کس دلیل سے) کہہ رہے ہیں کہا یہ بات رسول خداﷺ سے مجھے ملی ہے۔

روم کے معرکے کے لیے سیدنا علیؓ سے مشورہ

وقد شاوره عمر بن الخطابؓ في الخروج الى غزوه الروم وقد توكل الله لاهل هذا الدین باعزاز الحوره وستر الحوره والذی نصرهم وهم قليل لا ينتصرون ومنعهم وهم قليل لا يمتنعون حی لا يموت انك متىٰ نسر الى هذا العدو بنفسك فتلقهم فتنكب لا تكن للمسلمين كائفه دون اقصیٰ بلادهم ليس بعدك مرجع يرجعون اليه فابعث اليهم رجلا محربا واحفر معه اهل البلاء والنصيحه فان اظهر الله فذاك ما تحب وان تكن الأخرى كنت ردا للناس ومشابه للمسلمين

(نہج البلاغه خطبہ نمبر 134 صفحہ 139 مطبوعہ بیروت)

جب خلیفہ ثانی نے روم پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور آپ سے بھی مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا نواحی اسلام کو غلبہ دشمن سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اللہ ہی ضامن اور کفیل ہے وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی ہے جب ان کی مقدار نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پا سکتے تھے انہیں اس وقت مغلوب ہونے سے روکا ہے جب یہ کسی طرح رو کے نہ جا سکتے تھے اور وہ خداوندِ عالم "حی لا یموت" ہے (جیسے اس وقت موجود تھا ویسے ہی اب بھی قائم ہے) اب اگر تو خود دشمن کی طرف کوچ کرے اور منکوب و مخذول یعنی مغلوب ہو جائے تو یہ سمجھ لے کہ پھر مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلاد تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد ایسا کوئی مرجع نہ ہو گا جس کی طرف وہ رجوع کریں لہٰذا آپ دشمنوں کی طرف اس شخص کو بھیج دو جو آزمودہ کار ہو اور اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کر جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں اب اگر خدا نے غلبہ نصیب کیا تب تو یہ وہی چیز ہے جسے آپ دوست رکھتے ہیں اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو آپ ان لوگوں کے مددگار اور مسلمانوں کے مرجع تو بن ہی جائیں گے۔

غزوہِ احد میں نبیﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہنے والوں میں سیدنا ابو بکرؓ سرِ فہرست ہیں

(ولقد عفا الله عنهم) اعاد تعالىٰ ذكر العفو تاكيدا لطمع المذنبين فی العفو ومنعا لهم عن الياس وتحسينا لظنون المومنين ان الله غفور حليم) قد مر معناه وذكر ابو القاسم البلخی انه لم يبق مع النبی(ﷺ) يوم احد الا ثلثه عشر نفسا خمسه من المهاجرين وثمانيه من الانصار فاما المهاجرون فعلى (ع) وابوبكرؓ و طلحهؓ وعبدالرحمنؓ بن عوف وسعدؓ بن ابی وقاص

(مجمع البیان جلد اول جز دوم صفحہ 524 سورة آل عمران)

اللہ تعالیٰ نے یقینا انہیں معاف فرما دیا اللہ تعالیٰ نے معافی کا دوبارہ تذکرہ اس لیے فرمایا تاکہ گناہ گاروں کو اپنی معافی کی خواہش پوری طرح پختہ ہو جائے اور ناامیدی ختم ہو جائے اور مومنین کے حسنِ ظن کو تقویت ملے اللہ تعالیٰ یقیناً بخشنے والا علم والا ہے اس کا معنیٰ گزر چکا ہے ابو القاسم بلخی نے ذکر کیا کہ نبی کریمﷺ کے ساتھ احد کے دن صرف تیرہ آدمی باقی رہے پانچ کا تعلق مہاجرین سے اور آٹھ کا انصار سے تھا مہاجرین کے پانچ یہ تھے سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ طلحہؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ علیم اجمعین۔

سیدنا ابوبکرؓ کو "صدیق" نہ کہنے والے کے حق میں سیدنا باقرؒ کی بددعا

وعن عروه بن عبد الله قال سئلت ابا جعفر محمد ابن على عليه السلام عن حليه السيوف فقال لا باس به وقد حلى ابوبكر الصديق رضى الله عنه سيفه قلت فتقول الصديقؓ قال فوتب وثبه واستقبل القبله وقال نعم الصديقؓ نعم الصديقؓ نعم الصديقؓ فمن لم يقل له الصديقؓ فلا صدق الله له قولا فی الدنيا والاخره

(کشف الغمہ فی معرفه الائمہ فی معاجز الامام ابی جعفر الباقرؒ جلد دوم مطبوعہ تبریز صفحہ 147)

عروہ بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ابوجعفر محمد بن علی ان سے تلوار کے جڑاؤ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تلوار کو زیورات سے آراستہ کیا تھا میں نے پوچھا آپ بھی سیدنا ابوبکرؓ کو " الصدیق" کہتے ہیں میری یہ بات سن کر سیدنا ابوجعفرؒ محمد بن علی نے ایک دم جذبات سے اٹھے اور کہنے لگے ہاں وہ صدیقؓ ہیں یقیناً وہ صدیقؓ ہیں اور وہ بلاشک صدیقؓ ہیں اور سنو جو شخص انہیں صدیقؓ نہیں کہتا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی بات کو ہرگز سچا نہیں کرے گا۔

سیدنا تقیؒ فضیلت شیخینؓ کے منکر نہیں تھے

لست بمنكر فضل عمرؓ ولكن ابابكرؓ افضل من عمرؓ (احتجاجِ طبری صفحہ 248 مطبی نجف اشرف)

میں (سیدنا تقیؒ) سیدنا عمر بن خطابؓ ان کی فضیلت کا منکر نہیں ہوں لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ فضیلت میں سیدنا عمر بن خطابؓ سے بڑھ کر ہیں۔

سیدنا تقیؒ کے اس کلام سے ثابت ہوا کہ وہ شیخینؓ کی فضیلت کے قائل بھی تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے نزدیک دونوں میں سے سیدنا ابوبکرؓ افضل تھے اور میں اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے جس کی تائید امام موصوف کر گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سیدنا ابوبکرؓ عزت اور فضل والے تھے۔

ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعه ان يوتوا اولى القربىٰ والمساكين والمهاجرين ان قوله لا ياتل اولو الفضل منكم الايه نزلت فی ابی بکرؓ و مسطحؓ بن اثاثه

(تفسیر مجمع البیان جز نمبر 7 جلد 4 صفحہ 133)

تم میں سے فضیلت والے اور مالی وسعت کے مالک لوگ اس بات کی قسم نہ اٹھا ئیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں مسکینوں اور مہاجرین کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔

 یہ آیت کریمہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے خالہ زاد بھائی جناب مسطحؓ بن اثاثہ کی امداد "واقعہ افک" کے سلسلہ میں بند کر دی تھی۔

نبی پاکﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا امام بنایا

صفحہ 11 از 18